سیاست

کیا سشما اور اوما سے سیاسی ہوا کو پڑھنے میں غلطی ہوئی!

نریندر مودی کی دوسری پاری میں ان کے کئی پرانے اور معتمد چہرے ان کے ساتھ کابینہ میں نہیں ہیں۔ ان سابق وزراء کے کابینہ میں نہ ہونے پر کئی طرح کے سوال کھڑے ہو رہے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا 

وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی دوسری پاری شروع کر دی ہے اور یہ پاری پہلے سے زیادہ اعتماد اور جارحانہ طریقہ سے شروع کی گئی ہے۔ کل صدر جمہوریہ نے مودی اور ان کے 57 ساتھیوں کو وزارت کے لئے حلف دلایا۔ ان 57 میں سے کچھ لوگ نئے تو کچھ لوگ پرانے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی سابقہ کابینہ کے کئی رفقا کو اس مرتبہ کابینہ سے باہر رکھا ہے۔ وزیر خزانہ ارون جیٹلی جنہوں نے پہلے ہی اپنی صحت کی وجہ سے خود کو اس سارے عمل سے باہر کر لیا تھا، وہ اس مرتبہ کابینہ میں نہیں ہوں گے۔ کچھ سابق وزراء نے انتخابات سے قبل ایسے اشاررے دے دیے تھے کہ یا تو وہ وزارت میں آنا نہیں چاہتے یا پھر ان کو کچھ ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ ان کی حکومت واپس اقتدارمیں نہیں آ رہی ہے۔

Published: 31 May 2019, 2:10 PM IST

سشما سواراج کو وزارت میں نہ لئے جانے کےلئے ان کی خراب صحت کا حوالہ دیا جا رہا ہے لیکن انہوں نے کسی بھی وقت جیٹلی کی طرح کھل کر نہیں کہا کہ وہ اپنی صحت کی وجہ سے وزیر نہیں بنیں گی۔ اسی وجہ سے کل حلف برداری کی تقریب سے کچھ منٹ پہلے تک یہ اٹکلیں جاری تھیں کہ وہ کابینہ میں ہوں گی یا نہیں اور جب وہ وزیروں کی کرسیوں کی جگہ مہمانوں کی کرسیوں پر بیٹھیں تو اس بات پر مہر لگ گئی کہ وہ مودی کی کابینہ میں نہیں ہوں گی۔ اوما بھارتی کا تو صحت کا معاملہ بھی نہیں تھا لیکن ان کو بھی کئی اور لوگوں کی طرح وزارت میں نہیں لیا گیا۔

Published: 31 May 2019, 2:10 PM IST

واضح رہے کہ سشما سواراج اور اوما بھارتی نے انتخابات سے قبل خود کو انتخابی میدان سے علیحدہ کر لیا تھا اور دونوں نے چناؤ نہ لڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا دونوں حقیقت میں انتخابی سیاست سے علیحدہ ہونا چاہتی تھیں یا پھر ان کو یہ امید نہیں تھی کہ بی جے پی 2019 میں دوبارہ اقتدار میں واپس آ ئے گی؟ کیا ان دونوں سے سیاسی ہوا اور اپنی پارٹی کو پڑھنے میں غلطی ہوئی ؟ کیا ان کو ایسا لگ رہا تھا کہ لوگ نوٹ بندی اور بے روزگاری کی وجہ سے بی جے پی سے ناراض ہیں ؟ کیا ان دونوں کو پہلے سے ایسے اشارے مل گئے تھے کہ ان کو آئندہ کابینہ میں شامل نہیں کیا جائے گا اس لئے وہ انتخابی سیاست سے پہلے ہی علیحدہ ہو گئی تھیں ؟ وجہ جو بھی ہو لیکن یہ حقیقت ہے کہ دونوں ہی سیاسی موسم اور ہوا کو سمجھنے میں ناکام رہیں۔

Published: 31 May 2019, 2:10 PM IST

اب بڑا سوال یہ ہے کہ کیا مودی اور شاہ ان دونوں کی با عزت سیاسی رخصتی کریں گے یا پھر ان کو سیاسی طور پر غیراہم کر دیں گے۔ اب ان دونوں کی باعزت رخصتی بس اس میں ہے کہ ان کو کسی بڑی ریاست کا گورنر بنا دیا جائے اور اگر ایسا نہیں ہوا تو وہ آنے والے دنوں میں ہندوستانی سیاست میں غیر اہم ہو جائیں گی جیسے دہلی کے وجے کمار ملہوترا۔ ملہوترا نے بی جے پی کو دہلی میں کھڑا کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا تھا لیکن اب بی جے پی کی سیاست میں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

Published: 31 May 2019, 2:10 PM IST

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: 31 May 2019, 2:10 PM IST