سیاسی

چینی سرحد کی بات آتے ہی مودی کی دہاڑ ہو جاتی ہے ’میاؤں میاؤں‘!... اشوک سوین

پاکستان اور بنگلہ دیش کے خلاف سینہ ٹھونکنا اقتدار سے متاثر نیشنلزم کا دِکھاوا بن چکا ہے، جبکہ چین کے سامنے خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے۔

پی ایم مودی، تصویر یو این آئی
پی ایم مودی، تصویر یو این آئی 

نریندر مودی کا قوم پرستی والا بیانیہ 2 مختلف آواز میں سننے کو ملتا ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے معاملے میں بلند آواز اور چین کے معاملے میں دھیمی آواز۔ پاکستان کے خلاف سینہ ٹھونکنا اور بنگلہ دیش کو نیچا دکھانا اقتدار کی قوم پرستی کا عوامی مظاہرہ بن گیا ہے، جبکہ چین سے متعلق تشویش ناک واقعات کو براہ راست جھوٹ اور سفارتی لفاظی میں لپیٹ دیا جاتا ہے۔ انڈو تبتن بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) کے سربراہ کا حالیہ انکشاف کہ اروناچل پردیش میں چینی فوجیوں کے ساتھ جھڑپیں جاری ہیں، ایک بار پھر حکومت کے پیش کردہ دوطرفہ تعلقات اور سرحد پر تعینات فورسز کے حقیقی حالات کے درمیان فرق کو ثابت کرتا ہے۔

پاکستان کے ساتھ موازنے کے سلسلے میں ایک بات واضح کرنے کی ضرورت ہے۔ مئی 2025 میں جنگ بندی کے بعد سے پاکستان کے تئیں مودی کا رویہ کچھ نرم ہوا ہے، جبکہ ٹرمپ مسلسل دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ انہوں نے بھاری ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دے کر جنگ رکوائی تھی۔ مودی نے اب تک بیرونی ثالثی سے متعلق ٹرمپ کے بار بار کیے جانے والے دعوؤں کا کوئی ٹھوس جواب نہیں دیا ہے۔ اس سے ہر فیصلے پر مکمل کنٹرول رکھنے والے ایک ہمہ مقتدر رہنما کی اس شبیہ کو دھچکا پہنچتا ہے، جو میڈیا نے تیار کی تھی۔ چین کے معاملے میں یہ نرمی گزشتہ دہائی کے دوران سب سے زیادہ واضح طور پر دکھائی دی، جبکہ پاکستان اور شیخ حسینہ کی اقتدار سے بے دخلی کے بعد کسی حد تک بنگلہ دیش کے معاملے میں ہندوستانی حکومت سخت موقف اختیار کیے رہی۔

آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل شتروجیت کپور نے کئی مقامات پر چین کے ساتھ ٹکراؤ کی تصدیق کی ہے۔ جولائی سے اروناچل پردیش کے تاکسنگ سرکل میں اسافلا کے آس پاس کشیدگی کی خبریں آ رہی تھیں، جنہیں حکومت نے تسلیم نہیں کیا۔ وزارت خارجہ نے اب ایک مبہم بیان میں بالآخر تسلیم کیا ہے کہ جب چینی فوجی طے شدہ طریقۂ کار سے ہٹ کر گشت کرتے ہیں تو ٹکراؤ ہوتا ہے۔ یہ اعترافات کسی پُرامن سرحد کی نشاندہی نہیں کرتے۔ اس کے باوجود سیاسی قیادت اس بات پر زور دیتی ہے کہ ہندوستانی عوام بہتر ہوتے تعلقات کا جشن منائیں، لیکن یہ واضح نہیں کیا جاتا کہ کون سے مسائل حل طلب ہیں، چین کیا کر رہا ہے اور ہندوستان نے کیا حاصل کیا ہے یا کیا کھویا ہے۔

انتہائی دشوار گزار علاقوں میں فوجیوں کی بہادری حکومت کی اس ٹال مٹول کا دفاع کرنا مزید مشکل بنا دیتی ہے۔ ہندوستانیوں کو قومی سلامتی کی صورت حال کا اندازہ سرحدی حفاظتی افسران کے کبھی کبھار دیے جانے والے بیانات اور اروناچل پردیش کے سرحدی دیہات کے لوگوں کی شکایات سے نہیں لگانا چاہیے۔ جو وزیر اعظم ملک کی طاقت کے اتنے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں، ان کا فرض ہے کہ وہ ملک کو درپیش چیلنجوں کا حساب دیں، ان چیلنجوں کا بھی جو ان کی مضبوط شبیہ کو جین-زی کے احتجاجی مظاہروں سے بھی زیادہ نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

خطرے کی گھنٹیاں اکتوبر 2026 میں ہی نہیں بجی تھیں۔ 2017 میں بھوٹان اور چین کے درمیان سہ فریقی سرحدی مقام کے قریب متنازع علاقے ڈوکلام میں چین کے ساتھ فوجی کشیدگی اس بات کو واضح کرتی ہے کہ بیجنگ طاقت کے استعمال کے ذریعے اپنے علاقائی دعوؤں کو آگے بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس سے کہیں زیادہ سنگین بحران 2020 میں مشرقی لداخ میں سامنے آیا۔ 15 جون کو وادیٔ گلوان میں ہونے والی جھڑپ میں کرنل بی سنتوش بابو سمیت ہندوستان کے 20 فوجی شہید ہوئے۔ چین کے ساتھ جھڑپ میں فوجیوں کی یہ شہادت کئی دہائیوں بعد ہوئی تھی۔ اس کے باوجود 19 جون کو مودی نے اعلان کر دیا کہ نہ تو کوئی ہندوستانی علاقے میں داخل ہوا ہے اور نہ ہی کسی ہندوستانی چوکی پر قبضہ کیا گیا ہے۔ جس وقت چینی جارحیت کے بارے میں واضح معلومات دینے کی ضرورت تھی، وزیر اعظم نے سچائی پر پردہ ڈالنے کا راستہ اختیار کیا۔ اگر چین کی جانب سے کوئی دراندازی نہیں ہوئی تھی تو ہندوستانی فوجیوں نے کس لیے اپنی جانیں قربان کیں؟ مودی کے بیان نے بیجنگ کے موقف کو قابل اعتبار بنایا اور ہندوستان کی پوزیشن کو کمزور کیا۔

یہاں تاریخ کا ایک ناخوش گوار عکس دکھائی دیتا ہے۔ کارگل کے دوران پرویز مشرف کی فوجی قیادت نے اپنے فوجیوں کی شمولیت سے انکار کر دیا تھا، جس کے نتیجے میں ہندوستان کو پاکستانی فوجیوں کی لاشیں دفن کرنی پڑی تھیں۔ کارگل میں مشرف اور گلوان میں مودی نے ’انکار‘ کے ذریعے اپنی سیاسی پوزیشن بچانے کا راستہ اختیار کیا، جس کا خمیازہ فوجیوں کو بھگتنا پڑا۔ جس پاکستان کو مودی اور ان کی پارٹی ہر اس چیز کی کسوٹی سمجھتے ہیں جس کی ہندوستان کو مذمت کرنی چاہیے، اسی پاکستان سے اپنی یہ مماثلت مودی کو کھٹکنی چاہیے۔

لداخ کے ایک وفد کے اندازے کی بنیاد پر راہل گاندھی نے تشویش ظاہر کی ہے کہ چین نے لداخ میں ہندوستان کے زیر کنٹرول تقریباً 2000 مربع کلومیٹر علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔ حکومت اس سے انکار کرتی ہے اور بارڈر روڈز آرگنائزیشن کے ایک سابق سربراہ نے سپریم کورٹ میں قائد حزب اختلاف کے تبصروں کو چیلنج کیا ہے۔ اپوزیشن کی بات مسترد کر دینے سے بنیادی سوالوں کے جواب نہیں مل جاتے: آج ہندوستانی فوجی کہاں تک گشت کر سکتے ہیں اور کیا پابندیاں اب بھی برقرار ہیں؟

چین کے ساتھ بات چیت 6 سال سے جاری ہے، لیکن حکومت نے یہ نہیں بتایا کہ ہندوستان نے 2020 کے بحران سے پہلے والا علاقائی کنٹرول اور گشت کی رسائی دوبارہ حاصل کر لی ہے یا نہیں۔ 21 اکتوبر 2024 کے معاہدے میں دیپسانگ اور ڈیمچوک میں کسی حد تک گشت کے مسئلے کا حل نکالا گیا اور فوجی مذاکرات اکیسویں دور کے بعد بھی جاری رہے، لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ پورے مشرقی لداخ میں پہلے والے انتظامات بحال ہو گئے ہیں۔

جنرل ایم ایم نرونے کی یادداشتوں کے معاملے میں مودی حکومت کا رویہ اس تشویش کو مزید بڑھاتا ہے۔ سابق آرمی چیف کی کتاب ’فور اسٹارز آف ڈیسٹنی‘ وزارت دفاع کی منظوری کے انتظار میں اب تک شائع نہیں ہو سکی ہے۔ حکومت نے اسٹریٹجک رازوں کے تحفظ کے نام پر ان یادداشتوں کو منظر عام پر آنے سے روک رکھا ہے۔ قومی سلامتی کے بحران کے دوران کیے گئے فیصلوں کی اہم تفصیلات تک عوام کی رسائی غیر معینہ مدت کے لیے روکنے کی کوئی بہتر وضاحت ہونی چاہیے۔ شہریوں کو یہ پوچھنے کا حق ہے کہ آیا یہ رازداری فوجی صلاحیتوں کا تحفظ کرتی ہے یا ان لوگوں کا جنہوں نے سیاسی فیصلے کیے تھے۔ ’بیٹل آف گلوان‘ فلم سے متعلق تنازع بھی، جس کا نام بدل کر ’ماتربھومی: مے وار ریسٹ اِن پیس‘ کر دیا گیا، اسی طرح کے سوالات اٹھاتا ہے۔ خبروں کے مطابق فلم ساز پر چین کی تصویر کشی کو نرم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا تھا۔ کیا فوجیوں کی قربانی کو کبھی سفارتی چہرہ بدلنے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے؟

بیجنگ اروناچل پردیش پر اپنا دعویٰ پیش کرتا ہے، اسے جنوبی تبت قرار دیتا ہے اور اس کے کئی مقامات کے چینی نام بھی رکھ چکا ہے۔ اس کا سرحدی دیہات کا پروگرام فوجی کارروائیوں میں مدد فراہم کرنے کے لیے اپنی موجودگی اور صلاحیت کو مضبوط کرتا ہے۔ دریائے برہم پتر کے بالائی بہاؤ میں یارلنگ تسانگپو پر چین کی جانب سے وسیع آبی بجلی ڈیم کی تعمیر موجودہ مسائل میں ایک اور امتحان کا اضافہ کرتی ہے۔ ہندوستان اور چین کے درمیان پانی کی تقسیم کا کوئی معاہدہ نہیں ہے۔ زیریں بہاؤ والے علاقوں کے خدشات میں گاد کا جمع ہونا، ماحولیاتی نظام میں خلل، ڈیم کی حفاظت اور سیلابی پانی چھوڑے جانے کی بروقت اطلاع شامل ہیں۔ ہندوستان کو ٹھوس تعاون اور قابل اعتماد جائزے کی ضرورت ہے، نہ کہ اس مبہم یقین دہانی کی کہ اس کے مفادات کا تحفظ کیا جا رہا ہے۔

ہندوستان کا معاشی انحصار بھی ایک بیڑی کا کام کرتا ہے۔ ہندوستان نے 2025-26 میں چین سے تقریباً 131.6 ارب ڈالر کی درآمدات کیں، جبکہ برآمدات تقریباً 19.5 ارب ڈالر کی تھیں۔ وزیر خارجہ جے شنکر کا یہ اعتراف کہ چین ایک بڑی معیشت ہے اور اس کے سامنے ’خود سپردگی‘ کی کیفیت ہے، مودی حکومت کی شکست خوردہ ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ مودی کے بارہ سالہ دورِ حکومت نے ہندوستان کی سودے بازی کی طاقت مضبوط کرنے کے لیے کیا کیا ہے؟ مینوفیکچرنگ کی صلاحیت، تکنیکی مہارت اور قابل اعتماد خارجہ پالیسی کی جگہ قومی عظمت کے خطبے نہیں لے سکتے۔

ایس سی او سربراہی اجلاس کے لیے مودی کا 2025 کا دورۂ چین اور دہلی میں 2026 کے برکس سربراہی اجلاس میں شی جن پنگ کی موجودگی قابل دفاع سفارتی آداب ہیں۔ لیکن جب ٹکراؤ جاری ہے تو سربراہی اجلاسوں کی تصاویر یہ ثابت نہیں کر سکتیں کہ ہندوستان کی پوزیشن بہتر ہوئی ہے۔ ہماری حکومت میں یہ صلاحیت ہونی چاہیے کہ وہ مذاکرات بھی جاری رکھے اور ساتھ ہی چینی سرگرمیوں کے بارے میں واضح طور پر بتائے اور چین کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے نتائج سے بھی عوام کو آگاہ کرے۔

اگر اسے مودی کی سیاست کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو ان کی ہچکچاہٹ سمجھ میں آتی ہے۔ ایک دیانت دارانہ بحث کھوکھلی بیان بازی اور زمینی حقیقت کے درمیان موجود خلیج کو بے نقاب کر دے گی۔ پاکستان اور بنگلہ دیش نے ملک میں مذہب کی بنیاد پر سیاسی صف بندی کے مواقع فراہم کیے ہیں، جبکہ چین ہماری ’جپھی ڈپلومیسی‘ کی حدود کو بے نقاب کرتا ہے اور ہماری فوجی تیاریوں اور معاشی انحصار کے بارے میں مشکل سوالات اٹھاتا ہے۔ شہریوں کو معمول کے حالات کا دھوکہ دیتے رہنا اور فوجیوں کو سرحد کی تپش برداشت کرنے دینا کتنا آسان ہے! اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستان کو چین کے ساتھ امن چاہیے۔ لیکن اسے ایک ایسے وزیر اعظم کی بھی ضرورت ہے جو ہندوستانیوں کو یہ بتانے کے لیے تیار ہو کہ اس امن کی قیمت کیا ہے، کون سے مسائل اب بھی حل طلب ہیں اور ان کے 56 انچ کے سینے کے وعدے کیوں پورے نہیں ہو سکے۔

(مضمون نگار اشوک سوین سویڈن کی اُپسلا یونیورسٹی میں پیس اینڈ کنفلکٹ اسٹڈی کے پروفیسر ہیں)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔