
امریکہ اور اسرائیل کا پرچم، تصویر اے آئی
کئی دہائیوں تک اسرائیل کی سب سے بڑی سفارتی طاقت اس کی فوج، جوہری صلاحیت یا خفیہ ایجنسیاں نہیں بلکہ امریکہ میں حاصل ہونے والی غیر معمولی سیاسی حمایت رہی۔ صدر ڈیموکریٹ ہو یا ریپبلکن، امریکہ اسرائیل کی سلامتی کو اپنی مستقل وابستگی سمجھتا رہا۔ امریکی کانگریس (پارلیمنٹ) بغیر کسی جھجک کے اسلحہ، پیسہ اور سفارتی تحفظ فراہم کرتی رہی۔ اختلافات کے باوجود یہ رشتہ محفوظ رہا کیونکہ اسرائیل کو امریکی عوام کی وسیع حمایت حاصل تھی۔
لیکن اب اس بنیاد میں شگاف پیدا ہو رہا ہے، اور اس کی سب سے بڑی ذمہ داری بنجامن نیتن یاہو پر عائد ہوتی ہے۔ یہ تبدیلی صرف غزہ کی جنگ کے ساتھ شروع نہیں ہوئی۔ برسوں سے جاری غیر قانونی قبضے، بستیوں کی توسیع اور فلسطینیوں کے لیے کسی قابل اعتماد سیاسی راستے کے غائب ہو جانے سے اسرائیل کی شبیہ کو پہلے ہی نقصان پہنچ چکا تھا۔ مگر غزہ نے اس تبدیلی کی رفتار کو انتہائی تیز کر دیا ہے۔ جنگی جرائم اور بڑے پیمانے پر بے دخلی، بھوک اور تباہی نے دنیا بھر کے لاکھوں لوگوں کا نقطۂ نظر بدل دیا۔
نیتن یاہو نے 7 اکتوبر کے حماس کے حملے کا جواب ایسی جنگ سے دیا جو فوجی ضرورت کی کسی بھی معقول منطق سے کہیں آگے نکل گئی۔ پورے کے پورے محلے تباہ کر دیے گئے۔ خاندان ملبے کے نیچے دفن ہو گئے۔ اسپتال، اسکول اور شہری بنیادی ڈھانچے تباہ کر دیے گئے۔ بھوک کو جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے لیے نیتن یاہو کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کر دیا۔
یہی وہ اسرائیل ہے جسے امریکہ کی نوجوان نسل دیکھ رہی ہے۔ سروے بتاتے ہیں کہ یہ تبدیلی کتنی زبردست ہے۔ گیلپ کے 2018 کے ایک سروے میں پایا گیا تھا کہ 64 فیصد امریکی اسرائیلیوں کے تئیں ہمدردی رکھتے تھے اور صرف 19 فیصد فلسطینیوں کے تئیں۔ 2022 تک یہ فرق کم ہو کر بالترتیب 55 فیصد اور 26 فیصد رہ گیا۔ 2023 میں یہ 54 فیصد اور 31 فیصد تھا۔ 2025 میں فرق مزید کم ہو کر 46 فیصد اور 33 فیصد رہ گیا۔ پھر ایک تاریخی تبدیلی آئی، جو 2001 کے بعد پہلی بار دیکھی گئی: گیلپ کے 2026 کے سروے کے مطابق صرف 36 فیصد امریکی اسرائیلیوں کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں، جبکہ 41 فیصد فلسطینیوں کے ساتھ۔
نسلی تبدیلی اس سے بھی زیادہ تشویش ناک ہے۔ 18 سے 34 سال کی عمر کے امریکیوں میں 53 فیصد اب فلسطینیوں کے تئیں زیادہ ہمدردی رکھتے ہیں اور صرف 23 فیصد اسرائیلیوں کے تئیں۔ ڈیموکریٹس کے درمیان فلسطینیوں کے لیے یہ تعداد 65 فیصد اور اسرائیلیوں کے لیے 17 فیصد ہے۔ یہاں تک کہ اسرائیلیوں کے تئیں ریپبلکن ہمدردی بھی 2024 کے 80 فیصد سے گھٹ کر 2026 میں 70 فیصد رہ گئی ہے۔ 57 فیصد امریکی آزاد فلسطین کی حمایت کرتے ہیں۔
پیو ریسرچ سینٹر الگ سوالات کے ذریعہ اسی رجحان کی تصدیق کرتا ہے۔ 2022 میں 55 فیصد امریکی اسرائیل کو مثبت انداز میں اور 42 فیصد منفی انداز میں دیکھتے تھے۔ 2025 آتے آتے 53 فیصد اسرائیل کو منفی انداز میں دیکھنے لگے؛ اور 2026 میں یہ تعداد 60 فیصد ہو گئی۔ نیتن یاہو کا حال تو اور بھی خراب ہے: 59 فیصد امریکیوں کو عالمی معاملات کے تناظر میں ان پر بہت کم یا کوئی اعتماد نہیں ہے۔ ڈیموکریٹس میں یہ تعداد 76 فیصد ہے۔ اسرائیل کے مستقبل کے لحاظ سے اہم بات یہ ہے کہ 18 سے 49 سال کی عمر کے 57 فیصد ریپبلکن اب اسرائیل کے تئیں منفی نقطۂ نظر رکھتے ہیں۔
گیلپ اور پیو الگ الگ سوالات اور طریقے استعمال کرتے ہیں، پھر بھی وہ ایک ہی حقیقت سامنے لاتے ہیں۔ اسرائیل امریکی عوام کی حمایت کھو رہا ہے، اور نوجوان امریکی تو بہت تیزی سے اس سے دور ہو رہے ہیں۔ یہ بات اقوام متحدہ میں ووٹ نہ ملنے یا یورپی دارالحکومتوں میں مظاہروں سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ اسرائیل یورپ کی تنقید اور گلوبل ساؤتھ کی مذمت برداشت کرکے بھی زندہ رہ سکتا ہے، لیکن وہ امریکہ کی جگہ کسی اور کو نہیں لا سکتا۔
کئی دہائیوں سے واشنگٹن نے اسرائیل کو نہ صرف اسلحے اور مالی امداد فراہم کی ہیں، بلکہ غیر معمولی سفارتی تحفظ بھی دیا ہے۔ اگرچہ سرکاری امریکی اعداد و شمار تاریخی طور پر مجموعی دو طرفہ امداد 130 ارب ڈالر بتاتے ہیں، لیکن افراطِ زر کے اثر کو شامل کرنے والے تخمینوں کے مطابق مجموعی امریکی امداد 300 ارب ڈالر سے زیادہ بنتی ہے، جس میں 200 ارب ڈالر سے زیادہ فوجی امداد ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد سے اسرائیل امریکی غیر ملکی امداد کا سب سے بڑا مستفید رہا ہے۔
امریکہ نے اسرائیل اور فلسطین کے معاملے سے متعلق سلامتی کونسل کے اجلاس میں تقریباً 50 مرتبہ ویٹو کا استعمال کیا ہے۔ اکتوبر 2023 میں غزہ کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے واشنگٹن نے غزہ سے متعلق سلامتی کونسل کی قراردادوں پر چھ مرتبہ ویٹو کیا۔ جون اور ستمبر 2025 میں اسرائیل کی تنہائی بے مثال تھی: سلامتی کونسل کے 14 ارکان نے جنگ بندی کی قراردادوں کی حمایت کی، جبکہ صرف امریکہ نے ان کے خلاف ووٹ دیا۔ امریکی سفارتی طاقت نے مؤثر طور پر ان قراردادوں کو نافذ ہونے سے روک دیا۔ یہ تصور کہ کسی بھی بڑے تنازع میں واشنگٹن اسرائیل کے پیچھے کھڑا رہے گا، اسرائیلی سلامتی کا بنیادی مرکز رہا ہے، نیتن یاہو نے آخرکار یہ اعتماد بھی کھو دیا ہے۔
ان کی جنگیں صرف غزہ تک محدود نہیں رہیں۔ مغربی کنارے میں تشدد اور بے دخلی تیز ہو گئی۔ لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا دائرہ بڑھ گیا۔ پھر ایران کے خلاف جنگ کا موقع آیا، ایک ایسا تنازعہ جس کی نیتن یاہو برسوں سے وکالت کرتے رہے تھے۔ اسرائیل کے گرد موجود خطرات کو کم کرنے کے بجائے ان کی حکمت عملی نے جنگ کے میدان کو مزید وسیع کر دیا ہے۔ انہوں نے اسرائیلیوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ بقا کے لیے ’لامحدود جنگ‘ ضروری ہیں، لیکن ان کی یہی لائن اب اسرائیل کی طویل مدتی سلامتی کے لیے سب سے بڑے خطرات میں سے ایک بن گئی ہے۔
امریکی خارجہ پالیسی راتوں رات نہیں بدلے گی۔ تمام ادارے اور لابنگ نیٹورک اب بھی مضبوط ہیں۔ لیکن جمہوری حکومتیں مستقل طور پر رائے عامہ سے کٹی نہیں رہ سکتیں۔ نوجوان امریکی آخرکار سینیٹر، کانگریس کے ارکان، انتظامیہ کے افسران اور صدارتی انتخابات کا فیصلہ کرنے والے ووٹر بنیں گے۔ اگر اسرائیل کے بارے میں ان کی سمجھ بنیادی طور پر غزہ، غیر قانونی قبضے، تشدد اور علاقائی جنگ سے بنی ہے، تو اس اتحاد کے لیے اس کے نتائج بہت گہرے ہوں گے۔ پہلے ہی کئی قانون ساز ہتھیاروں کی منتقلی پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ڈیموکریٹس نیتن یاہو سے دوری اختیار کر رہے ہیں۔ کئی امیدوار غیر مشروط امریکی حمایت پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ اسرائیل پر تنقید کرنے کی سیاسی قیمت کم ہو رہی ہے اور اس کے برعکس نیتن یاہو کی جنگوں کا دفاع کرنے کی قیمت بڑھ رہی ہے۔
مستقبل کی امریکی حکومتیں اسرائیل کے وجود اور اس کی جائز سلامتی کی ضروریات کی حمایت جاری رکھ سکتی ہیں، جبکہ قبضے، بستیوں کی توسیع اور بار بار ہونے والی جنگوں کے لیے پیسہ دینے سے انکار کر سکتی ہیں۔ فوجی امداد کے لیے شرائط عائد کی جا سکتی ہیں۔ ہتھیاروں کی منتقلی پر پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سفارتی تحفظ کمزور ہو سکتا ہے۔ واشنگٹن اسرائیل پر فلسطینی ریاست کے قیام کو قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے پر کہیں زیادہ آمادہ ہو سکتا ہے۔
حمایت کا یہ نقصان عالمی سطح پر بھی ہے۔ 36 ممالک میں پیو کے 2026 کے سروے میں پایا گیا کہ اوسطاً 67 فیصد لوگ اسرائیل کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں، جبکہ صرف 25 فیصد مثبت رائے رکھتے ہیں۔ برطانیہ میں منفی رائے 69 فیصد، جرمنی میں 73 فیصد، اٹلی میں 75 فیصد، نیدرلینڈز میں 76 فیصد اور اسپین اور سویڈن میں 78 فیصد تک پہنچ گئی۔ اس لیے اسرائیل نہ صرف اپنے روایتی ناقدین کے درمیان حمایت کھو رہا ہے، بلکہ ان ممالک میں بھی جو اس کے اہم سفارتی، اقتصادی اور فوجی شراکت دار رہے ہیں۔ پھر بھی امریکہ میں حمایت کا اس طرح کم ہونا خاص طور پر خطرناک ہے کیونکہ کسی بھی دوسرے ملک نے امریکہ کی طرح اسرائیل کی حمایت نہیں کی ہے۔
سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان حال ہی میں ہونے والا دفاعی معاہدہ بھی اسرائیل کے لیے اہم ہے۔ یہ بڑی مسلم طاقتیں ہیں۔ ترکی ناٹو کا رکن ہے اور پاکستان کے پاس جوہری ہتھیار ہیں۔ ان کا بڑھتا ہوا سکیورٹی تعاون اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ خطہ زیادہ اسٹریٹجک خود مختاری اور اسرائیل کا مقابلہ کرنے کے نئے طریقوں کی تلاش کر رہا ہے۔ نسلوں سے اسرائیل اس بات کو لے کر مطمئن تھا کہ مغربی ایشیا میں چاہے جو بھی ہو، امریکہ اس کے پیچھے کھڑا رہے گا۔ لیکن اب وہ زمین کھسک چکی ہے، اور نیتن یاہو کو اس رہنما کے طور پر یاد کیا جائے گا جس نے اسرائیل کو اس موڑ پر لا کھڑا کیا۔
(اشوک سوین سویڈن کی اُپسالا یونیورسٹی میں پیس اینڈ کنفلکٹ اسٹڈیز کے پروفیسر ہیں)
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔