سیاسی

مغربی بنگال میں ایوان سے سڑک تک ہلچل... سوربھ سین

ترنمول کی بنیاد میں تقریباً 80 فیصد فلوٹنگ ووٹر تھے۔ ایسے ووٹ تیزی سے یکجا ہوتے ہیں، اور تیزی سے بکھر جاتے ہیں۔ بی جے پی-آر ایس ایس کی یہ سوچ غلط ہے کہ بنگال نے راتوں رات دایاں محاذ نظریہ کو اپنا لیا۔

<div class="paragraphs"><p>ممتا بنرجی اور سویندو ادھیکاری، تصویر سوشل میڈیا</p></div>

ممتا بنرجی اور سویندو ادھیکاری، تصویر سوشل میڈیا

 

حال ہی میں ہوئے مغربی بنگال اسمبلی انتخاب میں بی جے پی-الیکشن کمیشن کے ہاتھوں شرمناک شکست کے بعد، 15 سال تک مغربی بنگال پر حکومت کرنے والی ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس کو آج خستہ حالی کا سامنا ہے۔ حالت یہ ہے کہ بیشتر سیاسی مبصرین اس سوچ میں پڑ گئے ہیں کہ آیا یہ پارٹی اگلا انتخاب لڑنے کے قابل بھی بچ پائے گی یا نہیں؟ پارٹی نے خود کو ختم کرنا شروع کر دیا ہے، اگرچہ اس میں دولت اور ’’جانچ ایجنسیوں کی طاقت‘‘ سے لیس بی جے پی نے بھی مدد کی ہے۔ پارٹی کے ایک بڑے منحرف دھڑے کو، جس کی قیادت ایک معزول رہنما کر رہے ہیں، ریاستی اسمبلی میں ’’اصلی ٹی ایم سی‘‘ قرار دے دیا گیا ہے، اور ایسا لگتا ہے کہ برسراقتدار بی جے پی کو ایوان میں کسی حقیقی چیلنج کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ تاہم سڑکوں پر منظر کچھ اور ہی دکھائی دے رہا ہے: کمزور پڑ چکا بایاں محاذ پھر سے متحرک ہونے لگا ہے، اور کانگریس میں بھی نئی جان آتی دکھائی دے رہی ہے، جو آخری بار پانچ دہائیاں قبل، 1972 اور 1977 کے درمیان اقتدار میں تھی۔ مغربی بنگال میں اپوزیشن کے درمیان جاری موجودہ کھینچا تانی ایک کلاسیکی کیس اسٹڈی کی مانند ہے۔ اس مضمون کے ساتھ ہم اپنی دو حصوں پر مشتمل سیریز کا اختتام کر رہے ہیں۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined