
علامتی تصویر، اے آئی
مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات چل رہے ہیں۔ 23 اپریل کو پہلے مرحلہ کی ریکارڈ پولنگ ہو چکی ہے، اور دوسرے مرحلہ کے پولنگ کی تیاریاں چل رہی ہیں، جو 29 اپریل کو ہونی ہے۔ پہلے مرحلہ کی پولنگ سے قبل ہی ہمارے وزیر داخلہ امت شاہ صاحب کی ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے، جس میں وہ ایک جلسۂ عام سے خطاب کے دوران یہ کہتے ہوئے سنائی دے رہے ہیں کہ ’’یہاں لوگ 4 شادیاں کرتے ہیں۔ ہماری پارٹی کی حکومت قائم ہوگی تو ہم یو سی سی لائیں گے۔ کوئی 4 شادیاں نہیں کر پائے گا۔ 4 شادیاں کرنا چاہیے؟ بولیے! 4 شادیاں کرنا چاہیے؟ ہماری حکومت آئے گی تو یو سی سی لاگو کیا جائے گا۔ جانتے ہیں نا آپ لوگ کہ 4 شادیاں کون کرتے ہیں؟ جانتے ہیں نا؟‘‘ یہ کہتے ہوئے امت شاہ صاحب سامنے مجمع سے جواب چاہتے ہیں، اور مجمع وہی جواب دیتا ہے جو وہ سننا چاہتے ہیں۔ یا سمجھانا چاہتے ہیں۔
Published: undefined
ہماری جمہوریت کا 2 بڑا المیہ ہے۔ ایک تو یہ کہ جو پارٹی مرکز اور 16 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں حکومت کر رہی ہے، اس کے پاس ترقیات کا موضوع نہیں ہے، یا وہ جانتی ہے کہ ترقیات کی اس کی حصولیابیاں ایسی نہیں ہیں جن کی بنیاد پر وہ عوام سے ووٹ حاصل کر سکے۔ اس لیے انتخابات قومی ہوں یا ریاستی، یہاں تک کہ بلدیاتی انتخاب میں بھی مذہبی موضوع ہی حاوی رہتا ہے، جبکہ یہ فیصلہ ترقیات اور استحکام کی پالیسیوں کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ دوسرا المیہ یہ ہے کہ لیڈر ہر ملک میں عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن میڈیا اور بیدار عوام ان کو درست کرتے ہیں۔ ہمارے یہاں میڈیا کے ایک بڑے طبقہ نے حکومت سے سوال پوچھنا چھوڑ دیا ہے، بلکہ جو سوال حکومت سے کرنا چاہیے، جن سوالوں سے حکومت کو گھیرنا چاہیے، میڈیا ان سوالوں سے حزب مخالف کو ایک سرکاری ایجنسی کے طور پر گھیرنے کی کوشش کرتا ہے۔ عوام لیڈروں کی باتوں کو صداقت کے پیمانہ پر پرکھتے نہیں بلکہ اس کی ہر بات پر سر دھننے لگتے ہیں، خواہ وہ بات کتنی ہی بے تکی، بے بنیاد اور صداقت سے کوسوں دور ہی کیوں نہ ہو۔
Published: undefined
اب چار شادیوں والی اس بات کو ہی لیا جائے۔عوام کے دماغ میں میڈیا نے اپنے سرپرستوں کے اشارے پر کوٹ کوٹ کر یہ بات بھر دی ہے کہ زیادہ تر مسلمان چار شادیاں کرتے ہیں۔اس کے اخلاقی پہلو سے قطع نظر اس کی حقیقت اس بات سے بالکل مختلف ہے جو امیت شاہ صاحب یا ان کی پارٹی کے دوسرے لیڈران کہتے ہیں۔اور یہ حقیقت بھی خود ساختہ نہیں ہے بلکہ خود حکومت کے اعداد و شمار ہی یہ کہتے ہیں۔سرکاری اعداد و شمار یہ کہتے ہیں کہ ملک کی 98.6فیصد آبادی ایک ہی شادی پر اکتفا کرتی ہے ۔صرف 1.6فیصد افراد ہی ایک سے زیادہ شادیاں کرتے ہیں۔مزید یہ کہ ان دو فیصد لوگوں میں بھی اکثریت مسلمانوں کی نہیں ہے اور یہ کہ ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کے معاملہ میں ہندو افراد مسلمانوں سے زیادہ پیچھے بھی نہیں ہیں۔نیشنل فیملی ہلتھ سروے -5جو 2019-2021کے دوران کیا گیا تھا اس کے مطابق ہندستان میں ایک سے زیادہ شادیوں کا رواج لگاتار ختم ہو رہا ہے۔2005-06میں جہاں 1.9فیصد افراد نے ایک سے زیادہ شادیاں کی تھیں وہیں 2019-2021میں یہ کم ہو کر 1.4فیصد ہی رہ گیا۔ان تقریباً ڈیڑھ فیصد افراد میں بھی جو ایک سے زیادہ شادیاں کرتے ہیں سرِ فہرست مسلمان نہیں بلکہ عیسائی ہیں۔1.2فیصدعیسائی ایک سے زیادہ شادیاں کرتے ہیں جبکہ مسلمان صرف9.1فیصد ایک سے زیادہ شادیاں کرتے ہیں اور ہندو بھی اس میں مسلمانوں سے بس کچھ ہی پیچھے ہیں یعنی 1.3فیصد ہندو بھی دو سے زیادہ شادیاں کرتے ہیں۔ایک سے زیادہ شادیوں کا سب سے زیادہ رواج قبائلیوں میں ہے۔ان کے یہاں یہ4.2فیصد ہے۔
Published: undefined
اس سے جڑی ہوئی ایک اور بھی بڑی سچائی ہے جس کے بارے میں نہیں بتایا جا تا۔ہندو فرقہ کے لوگ ایک سے زیادہ شادیاں کرنے میں مسلمانوں سے کچھ ہی پیچھے ہیں لیکن شادی کے بعد دوسری عورتوں سے تعلق رکھنے یعنی ناجائز جنسی تعلقات رکھنے کے معاملے میں ہندو فرقہ کے لوگ مسلمانوں سے بہت آگے ہیں۔نیشنل فیملی ہلتھ سروے -5اورایشلے میڈیسن رپورٹ 2025دونوں میں ہی یہ اعتراف کیا گیاہے کہ ہندستان میں آباد مختلف مذاہب کے لوگوں میں دوسری عورتوں یا مردوں سے جنسی رشتہ قائم کرنے میں سب سے زیادہ تعداد ہندووں کی ہے۔اس کے بعد سکھوں کی ہے،اس کے بعد عیسائیوں کی ہے،اس کے بعد بدھسٹوں کی ہے اور ان سب سے کم مسلمانوں کی ہے۔یہ بات سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں۔
Published: undefined
شادی کے بعد دوسروں سے جنسی رشتہ بنائے جانے کے تعلق سے ان اعداد و شمار سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جس فرقہ میں شادی کی رسم جتنی زیادہ سخت ہے وہاں ناجائز رشتوں کی سب سے زیادہ گنجائش ہے۔ سیاست کرنے والے لوگ غیر مسلم عورتوں کو یہ سمجھنے نہیں دیتے کہ ان کے ساتھ کتنا ظلم ہو رہا ہے اور یہ کہ وہ کس قدر خسارے میں ہیں۔اکسٹرا میریٹل ریلیشن شپ کا تاریک پہلو یہ ہے کہ مردوں کے اس سماج میں شادی شدہ مرد بھی اگر کسی دوسری عورت سے رشتہ قائم کرتا ہے تو سماج میں سب سے زیادہ، پوزیشن خراب عورت کی ہوتی ہے جو سماج میں نہ یہ کہہ سکتی ہے کہ فلاں مرد سے اس کا تعلق ہے،نہ یہ کہہ سکتی ہے کہ اس کے بچے کا باپ فلاں مرد ہے،نہ وہ سماج میں اس کے برابر مقام پا سکتی ہے نہ ہی اس کو یا اس کے بچے کو اس مرد کی جائداد میں سے کوئی حصہ مل پاتا ہے۔ان سب کے حصول کے لئے ایک طویل قانونی لڑائی کا سفر طئے کرنا ہوتا ہے جو کسی عورت کے لئے انتہائی ذلت آمیز اور ناقابل برداشت بھی ہوتا ہے۔اسلام ایک فطری مذہب ہے جو یہ کہتا ہے کہ اگر مرد کو ایسی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو وہ دوسری شادی کرے اور عورت کو عزت کے ساتھ اپنے گھر لائے،اپنا نام دے ،مقام دے ،حصہ دے۔لیکن خیر یہ ایک اخلاقی پہلو ہے جس پر بات ہونی چاہئے اور معاملات کو سمجھنے کیو کشش ہونی چاہئے۔
Published: undefined
اہم بات یہ ہے کہ ملک میں مذہب کی بنیاد پر زہر پھیلا کر اس کے جمہوری نظام کو متاثر کرنے کی لگاتار کوشش ہو رہی ہے لیکن انہیں غلط ثابت کرنے اور ایسی کوششوں کو روکنے کی کوشش وہ بھی نہیں کر رہیں جن کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے اور جو ان کے پیشہ ورانہ اصولوں میں اہم ترین حیثیت رکھتے ہیں۔ایک ملک کا وزیر داخلہ انتخاب میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے ایسی گمراہ کن باتیں کھلے عام کہے تو ملک کے نظام پر بڑا سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined