سیاسی

بنگال کے ’زیر غور ووٹرس‘ کا قصہ… کنال چٹرجی

ترنمول کانگریس نے زمینی سطح پر اپنا ’ایس آئی آر‘ شروع کر دیا ہے۔ پارٹی کارکنان گھر گھر جا رہے ہیں۔ اس کی یہ تنظیمی طاقت بالآخر ووٹنگ کے دن نتیجہ خیز ثابت ہوگی۔

<div class="paragraphs"><p> ووٹرس کی علامتی تصویر، اے آئی</p></div>

ووٹرس کی علامتی تصویر، اے آئی

 

2 دیگر الیکشن کمشنرز کے ساتھ 2 روزہ دورے (9-10 مارچ) پر کولکاتا آنے والے چیف الیکشن کمشنر آف انڈیا گیانیش کمار کا نہ صرف ہوائی اڈے پر بلکہ راجارہاٹ کے نیو ٹاؤن واقع ’دی ویسٹن کولکاتا راجارہاٹ ہوٹل‘ جاتے وقت بھی کالے جھنڈوں سے استقبال کیا گیا۔ یہ ہوٹل بہار نژاد ایک مارواڑی تاجر خاندان کی ملکیت ہے اور اسے کئی مرکزی وزرا، بی جے پی لیڈران اور مختلف وزرائے اعلیٰ کی سرپرستی حاصل ہے۔

Published: undefined

ابھشیک بنرجی نے سوال اٹھایا کہ شہر میں 5000 سے زیادہ ہوٹل ہونے کے باوجود کیا اسے محض اتفاق سمجھا جائے کہ انتخابی کمشنرز نے قیام کے لیے یہی ہوٹل منتخب کیا؟ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے بھی الیکشن کمیشن آف انڈیا پر گڑبڑی پیدا کرنے کا الزام لگایا اور آخری ووٹر لسٹ کے خلاف دھرنا دینے کی دھمکی دی، جس میں 60 لاکھ سے زیادہ ووٹرس کو ’زیرِ غور‘ کے طور پر درج کیا گیا ہے۔

Published: undefined

زبانی جنگ اس وقت سنگین رخ اختیار کرتی دکھائی دی جب کمیشن کی مکمل بنچ کے ساتھ میٹنگ میں مدعو کیے گئے ضلع مجسٹریٹس اور پولیس سپرنٹنڈنٹس کو سیاسی آقاؤں کو معلومات دینے کے لیے ریاستی سکریٹریٹ نبنّا طلب کیا گیا۔ یہ بات چیف الیکشن کمشنر کو ناگوار گزری اور انہوں نے افسران کو خبردار کیا کہ یہ سب برداشت نہیں کیا جائے گا، اور اگر رویہ نہ بدلا تو مئی میں ہونے والے انتخاب کے بعد انہیں اس کے نتائج بھگتنے پڑ سکتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے بھی پلٹ کر سوال کیا کہ کیا مئی کے بعد بھی چیف الیکشن کمشنر اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے؟

Published: undefined

مغربی بنگال اسمبلی کی مدت کار 7 مئی کو ختم ہو رہی ہے اور انتخاب اس سے قبل کرائے جانے ہیں۔ بی جے پی، سی پی آئی (ایم) اور کانگریس سمیت بیشتر سیاسی پارٹیوں نے 294 رکنی اسمبلی کے انتخابات ایک یا دو مرحلوں میں کرانے کا مطالبہ کیا تھا، جس پر مہر لگا دی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن نے مغربی بنگال میں انتخاب 2 مراحل 23 اپریل اور 29 اپریل کو کرانے کا اعلان کیا ہے۔ حالانکہ 5 سال قبل یہاں 8 مراحل میں ووٹنگ ہوئی تھی۔

Published: undefined

خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر)، منطقی بے ضابطگیوں اور مائیکرو مبصرین کے حوالے سے جاری تعطل سپریم کورٹ آف انڈیا کی 10 مارچ کی ہدایت کے بعد عارضی طور پر رک گیا، جس میں ’زیر غور‘ قرار دیے گئے افراد کی حیثیت طے کرنے کے لیے اپیلیٹ ٹریبونل بنانے کا حکم دیا گیا تھا۔ دھرنا ختم کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ ’’راستہ کسی حد تک کھل گیا ہے۔‘‘

Published: undefined

مغربی بنگال، اڈیشہ اور جھارکھنڈ کے عدالتی افسران سپریم کورٹ کے حکم کے بعد دعوؤں کی تصدیق میں مصروف ہیں، لیکن فی الحال ’زیر غور‘ قرار دیے گئے 60 لاکھ ووٹرس کا مستقبل غیر یقینی بنا ہوا ہے۔ گیانیش کمار نے اعلان کیا کہ 10 مارچ تک عدالتی افسران کی طے کردہ فہرست سے 10.6 لاکھ نام ’کلیئر‘ کیے جا چکے تھے، لیکن یہ واضح نہیں کیا کہ آیا وہ سب ووٹ ڈال سکیں گے یا نہیں۔ اس کے علاوہ مزید 50 لاکھ ووٹرس کی منظوری باقی ہے۔ یہ اعداد و شمار 1.67 کروڑ سماعتوں سے حاصل ہوئے ہیں جن میں 1.36 کروڑ ’منطقی بے ضابطگیاں‘ اور 31 لاکھ ایسے ووٹرس شامل ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا نام 2002 کی ووٹر لسٹ میں درج نہیں تھا۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ ان میں سے کتنے اب ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔

Published: undefined

چیف الیکشن کمشنر کا کہنا ہے کہ ’’مغربی بنگال کی عدالتی طور پر منظور شدہ ووٹر لسٹ میں عدالت کی طرف سے منظور شدہ ہر شخص کو حتمی ووٹر لسٹ میں شامل کیا جائے گا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ جن ووٹرس کو اب بھی مسائل کا سامنا ہے وہ ہندوستانی شہریت کے ثبوت کے ساتھ فارم 6 جمع کر کے اپنا نام درج کرا سکتے ہیں۔ تاہم اپیلیٹ ٹریبونل کے قیام، ان کے طریقۂ کار اور یہ کہ کیا انتخابات سے پہلے تمام اپیلوں کا فیصلہ ممکن ہو سکے گا یا نہیں، ان سب امور پر اب بھی غیر یقینی برقرار ہے۔ البتہ الیکشن کمیشن کی میڈیا بریفنگ میں بار بار پوچھے گئے 2 سوالوں کا کوئی جواب نہیں ملا:

  1. ایس آئی آر کے دوران ریاست میں کتنے بنگلہ دیشی، درانداز اور روہنگیا پکڑے گئے؟

  2. اور یہ کہ جن ووٹرس نے پہلے ہی مردم شماری کے فارم بھر دیے تھے، ضروری دستاویزات پیش کر دی تھیں، جن کی جسمانی تصدیق ہو چکی تھی اور جو سماعت میں حاضر ہوئے تھے، وہ اب بھی ’زیر غور‘ کیوں تھے؟

Published: undefined

ان سوالوں کے جواب میں گیانیش کمار صرف مسکرا کر رہ گئے۔ آل انڈیا ترنمول کانگریس مسلسل یہ الزام لگاتی رہی ہے کہ الیکشن کمیشن اور بی جے پی کے درمیان ناپاک گٹھ جوڑ ہے۔ پارٹی کا دعویٰ ہے کہ ایس آئی آر کا عمل جانبدارانہ ہے اور اس سے ترنمول کے حامی ووٹرس (یعنی مسلم اور پسماندہ طبقات) کو فہرست سے نکالنے کا فائدہ بی جے پی کو ہوگا۔ ٹی ایم سی لیڈر کنال گھوش نے کہا کہ ’’بی جے پی کو بنگال میں لوگوں کا حقِ رائے دہی چھیننے اور انہیں محروم کرنے میں خوشی ملتی ہے۔‘‘

Published: undefined

سی پی آئی (ایم) جعلی ووٹرس کو ہٹانے کے حق میں ہے، لیکن کمیشن کے اختیارات کے غلط استعمال کی مخالف ہے۔ ریاستی سکریٹری محمد سلیم نے کہا کہ ’’ہم ایس آئی آر کے خلاف نہیں بلکہ اس کے غلط استعمال کے خلاف ہیں، جس کے ذریعہ کسی بھی برادری کے حقیقی ووٹرس کے نام حذف کیے جا سکتے ہیں۔‘‘ دوسری طرف کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے معمولی بے ضابطگیوں کو بنیاد بنا کر لوگوں کو ووٹنگ کے عمل سے باہر کرنے پر تشویش ظاہر کی۔

Published: undefined

اس درمیان مالدہ ضلع و سیشن کورٹ کے وکیل انوارالحق نے تصدیق کی کہ ضلع سب رجسٹرار دفتر نے ’زیر غور‘ افراد سے متعلق جائیدادوں کی رجسٹریشن روک دی ہے، حالانکہ ضلع مجسٹریٹ نے ایسے کسی حکم سے انکار کیا۔ مالدہ کے سنی پارک کے رہائشی ایس کے اسیرالدین نے بتایا کہ ان کی زمین کی فروخت اس لیے روک دی گئی کیونکہ خریدار کا نام ’زیر غور‘ فہرست میں تھا۔

Published: undefined

یہ واقعہ ان 60 لاکھ ووٹرس کو درپیش ممکنہ مشکلات کا اندازہ لگانے کے لیے کافی ہے۔ افواہوں کے مطابق الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹنگ کے حق سے محروم کیے گئے افراد کے بینک اکاؤنٹس منجمد کیے جا سکتے ہیں اور انہیں موبائل فون رکھنے، لین دین کرنے یا جائیداد کی رجسٹریشن سے بھی روکا جا سکتا ہے۔ کولکاتا کے ایک بی ایل او ابھیجیت بھٹاچاریہ کہتے ہیں کہ ’’میرے پاس لوگوں کے فون آتے ہیں جو پوچھتے ہیں کہ ان کا نام حتمی فہرست میں کیوں نہیں ہے۔ کچھ لوگ روتے ہیں اور کچھ تو پہلی ضمنی فہرست میں نام شامل کروانے کے لیے قیمت دینے کو بھی تیار ہیں۔‘‘ ان کے مطابق بیشتر لوگ حقیقی ہیں لیکن انہیں ’منطقی بے ضابطگی‘ یا ’غلط میپنگ‘ کی وجہ سے نشان زد کر دیا گیا ہے، جس کے لیے عموماً کمیشن کے اپنے ایپس، اس کا الگوردم یا عملے کی غلطیاں ذمہ دار ہوتی ہیں۔

Published: undefined

ایک دیگر بی ایل او بسودیو منڈل کو امید ہے کہ زیر التوا بیشتر نام بالآخر ضمنی فہرستوں میں شامل ہو جائیں گے کیونکہ وہ حقیقی افراد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’وقت کم ہونے کی وجہ سے افسران تمام دستاویزات کی تصدیق نہیں کر سکے، اسی لیے بڑی تعداد میں نام اس فہرست میں درج ہیں۔‘‘

Published: undefined

ٹی ایم سی کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ’زیرِ التوا‘ فہرست سے زیادہ سے زیادہ نام ’باقاعدہ‘ فہرست میں شامل کروائے جائیں، جبکہ دوسری طرف اس عمل میں تاخیر یا قانونی پیچیدگیاں بی جے پی کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہیں۔ مالدہ کے بی جے پی لیڈر بسوجیت رائے کہتے ہیں کہ ’’انہوں نے مناسب دستاویزات جمع نہیں کرائے، اس لیے ان کے نام فہرست سے ہٹا دیے گئے ہیں۔‘‘ الیکشن کمیشن کے ایک ذرائع کے مطابق لوگوں کی آبادیاتی معلومات اور دستیاب ججوں کی تعداد کے مطابق عدالتی افسران کو مقدمات سونپے گئے ہیں۔ کچھ ججوں کو 2000 اور کچھ کو 7000 مقدمات دیے گئے ہیں، جن میں وہ منطقی بے ضابطگیوں کی جانچ کر رہے ہیں اور دستاویزات کا حتمی فہرست سے موازنہ کر رہے ہیں۔

Published: undefined

اس عمل میں شامل ایک عدالتی افسر کے مطابق بنگال کے 600 اور دیگر ریاستوں کے 150 ججوں کے ساتھ اس عمل کو مکمل کرنے میں 90 دن سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ اس لیے امکان ہے کہ زیرِ التوا فہرست میں شامل بہت سے حقیقی ووٹرس آئندہ اسمبلی انتخاب میں ووٹ ڈالنے سے محروم رہ جائیں۔

Published: undefined

اس دوران آل انڈیا ترنمول کانگریس نے اپنے وسیع تنظیمی نیٹورک کے ذریعہ زمینی سطح پر اپنی ایس آئی آر مہم شروع کر دی ہے۔ شائع شدہ ’حتمی‘ فہرست کے ساتھ پارٹی کارکن گھر گھر جا کر دیکھ رہے ہیں کہ وہاں رہنے والے افراد فہرست میں درج ناموں سے مطابقت رکھتے ہیں یا نہیں۔ یہی تنظیمی طاقت بالآخر ووٹنگ کے دن فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ اس معاملے میں بنگال میں ترنمول کانگریس تنظیمی طور پر بی جے پی سے کہیں آگے دکھائی دیتی ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined