سیاسی

اڈیشہ میں جارحانہ رخ اختیار کر چکی کانگریس کے لیے زمین تیار!... این آر موہنتی

نوین پٹنایک کی پارٹی کھل کر بولنے سے پرہیز کر رہی ہے۔ بی جے ڈی کی اس خاموشی نے اپوزیشن پلیٹ فارم کو خالی کر دیا ہے، جسے کانگریس اپنی جارحیت سے بھرنے میں مصروف ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا 

اڈیشہ کے کئی حصوں میں 8 اکتوبر کو 12 گھنٹے کے بند نے نقل و حمل، کان کنی اور عام زندگی کو ٹھپ کر دیا۔ انڈیا اتحاد نے بھونیشور میں ایک بڑی ’پریورتن ریلی‘ منعقد کی اور کارکنوں نے وزیر اعلیٰ موہن چرن مانجھی کی رہائش گاہ کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی۔ کوراپٹ، رائے گڑھ، کیونجھر، سندر گڑھ، میور بھنج اور نورنگ پور جیسے کئی معدنی وسائل سے مالا مال اضلاع میں قبائلیوں کے سلگتے غصے کے درمیان بی جے پی اور انڈیا اتحاد، کان و معدنیات (ترقی اور ضابطہ بندی) ترمیمی قانون 2026 کی حمایت اور مخالفت میں آمنے سامنے آ گئے ہیں۔ ریاستوں کے حق میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود پارلیمنٹ میں عجلت میں منظور کی گئی یہ ترمیم ریاستی حکومتوں کو معدنی حقوق اور معدنیات سے مالا مال زمین پر آزادانہ طور پر نئے ٹیکس، سیس یا مقامی فیس عائد کرنے سے روکتی ہے اور انہیں براہ راست مرکز کے ماتحت لاتی ہے۔

اڈیشہ میں گزشتہ 26 برسوں سے اقتدار سے باہر رہنے والی کانگریس میں سرگرمی کے نئے آثار ظاہر ہوتے ہی یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ کیا وہ 2029 میں اقتدار میں واپسی کے لیے کامیاب داؤ کھیل سکتی ہے؟ کاغذ پر یہ کام انتہائی مشکل دکھائی دیتا ہے۔ 2024 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی اور بی جے ڈی، دونوں کو 40 فیصد سے کچھ زیادہ ووٹ ملے تھے، جبکہ کانگریس 13 فیصد ووٹوں کے ساتھ تیسرے مقام پر سمٹ گئی تھی۔ جیت کے قریب پہنچنے کے لیے ملک کی سب سے قدیم پارٹی کو اپنے ووٹوں کا تناسب 3 گنا کرنا ہوگا۔

نوین پٹنایک کی قیادت والی بی جے ڈی حکومت تصادم سے گریز کرتی تھی اور ’جیو اور جینے دو‘ کے فلسفے پر یقین رکھتی تھی۔ اس نے تمام اپوزیشن پارٹیوں کے سرکردہ لیڈران کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔ اس وقت کی اہم اپوزیشن پارٹی کانگریس، حکمراں پارٹی کی اس مفاہمت کی سیاست کا شکار بن گئی۔ بی جے ڈی کے اس دوستانہ رویے نے کانگریس کے جارحانہ تیور کو پوری طرح کند کر دیا۔ 2000 سے 2009 تک بی جے ڈی کی اتحادی رہنے والی بی جے پی اس اثر سے محفوظ رہی، کیوں کہ ایک تو وہ اقتدار میں شریک تھی اور دوسرے 2009 میں نوین پٹنایک کے اتحاد توڑنے کے بعد اسے بی جے ڈی کی سرپرستی کی ضرورت نہیں رہی تھی۔ 2009 میں تنہا انتخابات لڑتے ہوئے بی جے ڈی نے 147 میں سے 103 سیٹیں جیتیں (39 فیصد ووٹ)۔ کانگریس 27 سیٹوں اور 29 فیصد ووٹوں کے ساتھ دوسرے مقام پر رہی، جبکہ بی جے پی کو صرف 6 سیٹیں (15 فیصد ووٹ) ملیں۔

2014 میں بی جے ڈی نے اپنی سیٹوں کی تعداد بڑھا کر 117 اور ووٹوں کا تناسب 44 فیصد کر لیا۔ کانگریس میں اندرونی انتشار پیدا ہوا اور اس کی سیٹیں 27 سے گھٹ کر 16 رہ گئیں، تاہم اس کے ووٹوں کا تناسب معمولی طور پر 29 سے گھٹ کر 26 فیصد ہی ہوا۔ بی جے پی نے اپنی سیٹیں 6 سے بڑھا کر 10 اور ووٹوں کا تناسب 15 سے بڑھا کر 18 فیصد کر لیا۔

سب سے ڈرامائی تبدیلی 2019 کے اسمبلی انتخابات میں دیکھنے کو ملی۔ بی جے ڈی نے 112 نشستوں اور 45 فیصد ووٹوں کے ساتھ اپنی گرفت برقرار رکھی۔ مرکز میں مودی حکومت کے سہارے آگے بڑھی بی جے پی نے کانگریس کو پیچھے چھوڑ کر دوسرا مقام حاصل کر لیا۔ بی جے پی کی سیٹوں اور ووٹوں کے تناسب میں زبردست اضافہ ہوا: سیٹیں 10 سے بڑھ کر 23 اور ووٹوں کا تناسب 18 سے بڑھ کر 33 فیصد ہو گیا۔ کانگریس سمٹ کر صرف ایک سیٹ پر آ گئی اور اس کے ووٹوں کا تناسب 26 سے گھٹ کر 16 فیصد رہ گیا۔

2024 میں بی جے پی بالآخر بی جے ڈی حکومت کو اقتدار سے ہٹانے میں کامیاب ہو گئی۔ اس کی سیٹیں 23 سے بڑھ کر 78 ہو گئیں، جبکہ بی جے ڈی کی سیٹوں کی تعداد 112 سے گھٹ کر 51 رہ گئی۔ حالانکہ بی جے پی کے ووٹوں کا تناسب بی جے ڈی کے تقریباً برابر ہی رہا: 40.1 فیصد کے مقابلے میں 40.2 فیصد۔ کانگریس نے اپنی نشستوں کی تعداد 9 سے بڑھا کر 14 کر لی، لیکن اس کے ووٹوں کا تناسب 16 سے گھٹ کر 13 فیصد رہ گیا۔

2029 کے پیش نظر کانگریس کو ریاست میں دوہرے چیلنج کا سامنا ہے۔ حکمراں پارٹی کے خیمے میں بی جے پی اور سنگھ کا انتخابی نظام اور ان کی حکمت عملیاں ہیں۔ وہیں اپوزیشن کے خیمے میں وہ مضبوط تنظیمی ڈھانچہ ہے جسے بی جے ڈی نے 24 برس تک اقتدار میں رہتے ہوئے کھڑا کیا ہے۔ معاشی بدحالی سے دوچار کانگریس کے برعکس بی جے پی اور بی جے ڈی، دونوں کے پاس مالی وسائل کی کوئی کمی نہیں ہے۔ اپنے وفادار حامیوں کو چھوڑ کر کانگریس کے کئی لیڈران بہتر مواقع کی تلاش میں دوسری پارٹیوں میں جا چکے ہیں، جس سے پارٹی تنظیم اور وسائل، دونوں سطحوں پر کمزور ہوئی ہے۔

تاہم، موجودہ حالات غیر معمولی ہیں اور کانگریس کے لیے امید کی شمع دکھاتے ہیں۔ ریاست میں عام طور پر بی جے پی اور خاص طور پر نریندر مودی کے خلاف لوگوں میں شدید ناراضگی پیدا ہو رہی ہے۔ اڈیشہ میں اس بات پر بھی غصہ بڑھ رہا ہے کہ وزیر اعلیٰ مانجھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، جبکہ ان کے وزرا منمانی کرنے میں مصروف ہیں اور سرکاری منصوبوں پر مبینہ طور پر گجراتی ٹھیکے داروں نے پوری طرح قبضہ جما لیا ہے۔

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی)، سی بی آئی اور محکمہ انکم ٹیکس کے خوف سے نہ تو نوین پٹنایک اور نہ ہی ان کی پارٹی کے سرکردہ لیڈران مودی اور شاہ کی حکومت کے خلاف کھل کر بولنے کی پوزیشن میں ہیں۔ تنظیمی طور پر زیادہ مضبوط بی جے ڈی کے دفاعی پوزیشن میں ہونے سے زیادہ جارحانہ کانگریس کے لیے سیاسی میدان خالی ہو گیا ہے۔

اڈیشہ کانگریس کے موجودہ صدر بھکت چرن داس، جنہوں نے کبھی کالاہانڈی میں قحط کے مسئلے کو قومی سطح پر اٹھایا تھا اور 27 سال کی عمر میں رکن اسمبلی بنے تھے، ہمیشہ جدوجہد پر مبنی سیاست کے لیے جانے جاتے رہے ہیں۔ فروری 2025 میں ذمہ داری سنبھالنے کے بعد سے وہ تنظیم میں نئی جان ڈالنے کے لیے ریاست بھر کے مسلسل دورے کر رہے ہیں۔ ان کی کامیابیوں میں نوپاڑہ کا ضمنی انتخاب بھی شامل ہے، جہاں کانگریس نے بی جے ڈی کو تیسرے مقام پر دھکیلتے ہوئے دوسرا مقام حاصل کیا۔

راہل گاندھی کی ہدایت پر کانگریس میں کی جانے والی تنظیمی ازسرنو تشکیل نے بھی اس مہم کو نئی دھار دی ہے۔ پارٹی کو اپنے انتشار کو سمیٹنے میں 2 سال سے کچھ زیادہ وقت لگا۔ یہ بات بھی خاصی اہم ہے کہ انڈیا اتحاد کے ساتھ کھڑے دکھائی دینے سے گریز کرتے ہوئے بی جے ڈی نے معدنیات سے متعلق قانون میں ترمیم کے خلاف الگ سے تحریک چلائی۔ ریاست میں زیادہ جارحانہ اپوزیشن کے لیے زمین تیار ہو چکی ہے اور کانگریس کے پاس اس خالی جگہ کو پُر کرنے کا مناسب موقع ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔