
راہل گاندھی / آئی اے این ایس
گزشتہ دنوں راہل گاندھی نے لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد کی حیثیت سے اپنے 2 سال مکمل کیے، تو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ اگرچہ یہ جدوجہد طویل ہے، لیکن ان کا یہ عزم اٹل ہے کہ وہ ہر روز آئین کے تحفظ، عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد اور ان کی آواز کو اقتدار تک پہنچانے کے لیے پوری لگن کے ساتھ کام کرتے رہیں گے۔ اس پر مبصرین کو موجودہ حکمرانوں کی جانب سے پیدا کی گئی وہ تمام غیر پارلیمانی صورت حال اور حالات یاد آ گئے، جن کی وجہ سے راہل کو اہم سوالات اٹھانے سے روکنے کے لیے لوک سبھا کے اندر بھی اور اس کے باہر بھی ان پر نہایت ناپسندیدہ، ذاتی اور توہین آمیز حملے معمول کی بات بن چکے ہیں۔
Published: undefined
یہ اور بات ہے کہ ان میں سے صرف چند بے باک مبصرین ہی اس یاد کو زبان پر لانے کی ہمت کر سکے۔ انہوں نے یہ کہنے کی بھی جرأت کی کہ اپنے معبود بھگوان شیو کی طرح راہل بھی حکمراں پارٹی کے حملوں کا سارا زہر پی جانے کے باوجود اپنی فطری سادگی سے الگ نہیں ہوتے۔ وہ اپنا فرض ادا کرتے ہوئے نہ صرف حکومتی بدانتظامیوں پر معروضی تنقید کرتے ہیں اور معاشرے کے مختلف طبقات کے مفادات کو ان سے پہنچنے والے نقصانات کو سامنے لاتے ہیں بلکہ ان سے نجات کے متبادل راستے بھی تجویز کرتے ہیں۔
Published: undefined
ان کے لیے یہ ذمہ داری اس لحاظ سے نہایت مشکل ہے کہ نریندر مودی حکومت اپنی تیسری مدت میں بھی اپوزیشن کو دشمن سمجھنے اور اس کے آئینی فرائض کی انجام دہی کی راہ میں ہر قدم پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کی اپنی پرانی عادت چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہے۔ یہاں تک کہ ایسے مشکل وقت میں بھی نہیں، جب ملک اور دنیا کے بدلتے ہوئے حالات کے باعث وہ ہر طرف سے گھری ہوئی دکھائی دینے لگی ہے اور راہل گاندھی کے بقول اس کی عمر اب محض ایک سال رہ گئی ہے، کیونکہ وہ اندر سے کھوکھلی ہونے لگی ہے۔
Published: undefined
یہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ گزشتہ دو برسوں میں اس عادت میں کچھ فرق ضرور آیا ہے، لیکن صرف اتنا کہ گزشتہ دو ادوار میں، جب اپوزیشن کمزور اور قیادت سے محروم تھی، حکومت اس کی مخالفتوں اور اعتراضات کو پوری طرح نظر انداز اور حقارت کا نشانہ بنا کر اسے اپنا کردار ادا کرنے سے محروم رکھتی تھی، جبکہ تیسری مدت میں اپوزیشن نسبتاً مضبوط ہونے کے بعد اس نے کچھ مختلف نوعیت کا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کر لیا ہے۔ اس کے باوجود کسی نہ کسی طرح ٹکراؤ پر آمادہ رہ کر اپوزیشن کو کام نہ کرنے دینا اس کی فطرت کا حصہ بدستور برقرار ہے۔ یہاں تک کہ وہ راہل گاندھی کے قائد حزب اختلاف کے آئینی منصب، جسے کابینہ کے وزیر کے برابر درجہ حاصل ہے، کا بھی احترام نہیں کرتی۔ جب بھی وہ اس کے سامنے ایسا اہم سوال رکھتے ہیں جس کا منطقی جواب حکومت کے پاس نہیں ہوتا تو انہیں ذلیل و خوار کر کے روکنے کے لیے حکومت اپنی تمام توپوں کا رخ انہی کی طرف موڑ دیتی ہے۔
Published: undefined
گزشتہ 2 برسوں کے دوران لوک سبھا کے تقریباً تمام اجلاس اس بات کے گواہ ہیں کہ جب بھی وزیر اعظم نریندر مودی راہل گاندھی کے سوالات کے سامنے لاجواب ہوتے ہیں تو اپنے منصب کے وقار کی پروا کیے بغیر ان پر سطحی حملے شروع کر دیتے ہیں، جبکہ وزیر اعظم کے گرد موجود افراد ذاتی حملے کرتے ہوئے نہ صرف راہل بلکہ ان کے آباؤ اجداد اور اہلِ خانہ کے خلاف بھی زہر اگلنے لگتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو انہیں ہندوستان کی سلامتی کے لیے سب سے خطرناک شخص تک قرار دے چکے ہیں اور یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ان کے تعلقات ہندوستان مخالف طاقتوں سے ہیں۔ یہی نہیں، وزرا کی سطح سے ان پر پاکستان کی زبان بولنے اور غدار وطن ہونے جیسے الزامات بھی مسلسل لگائے جاتے رہے ہیں۔
Published: undefined
یہ سب اس وقت ہو رہا ہے جبکہ ہمارے جیسے پارلیمانی جمہوری نظام میں اہمیت کے اعتبار سے ’مہامہیم کی اپوزیشن‘ کا مقام ’مہامہیم کی حکومت‘ کے فوراً بعد تسلیم کیا جاتا ہے اور دونوں سے ایک دوسرے کے ساتھ متوازن اور جمہوری رویہ اختیار کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔ لیکن اس توقع کا حال یہ کر دیا گیا ہے کہ دو سال پہلے، 2 جولائی 2024 کو، لوک سبھا میں صدر کے خطاب پر تحریکِ تشکر کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم نے قائد حزب اختلاف کی حیثیت سے راہل گاندھی کی جانب سے اٹھائے گئے نکات کو ’’بچگانہ عقل کا نوحہ‘‘ تک قرار دینے میں بھی کوئی قباحت محسوس نہیں کی تھی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے راہل کا موازنہ ایسے بچے سے کیا جو 543 میں سے 99 نمبر لا کر خوش ہو رہا ہو۔ ان کا اشارہ لوک سبھا انتخابات میں کانگریس کو ملنے والی 99 نشستوں کی طرف تھا۔
Published: undefined
قائد حزب اختلاف کے ساتھ اس قدر غیر محترمانہ اور متکبرانہ رویے کے ہوتے ہوئے کون یہ کہہ سکتا ہے کہ وزیر اعظم اور ان کی حکومت راہل گاندھی کو قائد حزب اختلاف کی حیثیت سے اپنا آئینی کردار مناسب طریقے سے ادا کرنے دینے میں رکاوٹ نہ بننے کی اپنی آئینی ذمہ داری پوری کر رہی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اپنی تیسری مدتِ حکومت میں بھی نہ تو وہ اپوزیشن کے حوالے سے فطری رویہ اختیار کر سکی ہے اور نہ ہی اس نے اپوزیشن کے ساتھ جمہوری انداز میں پیش آنا سیکھا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ قائدِ حزبِ اختلاف کے اٹھائے گئے سوالات کا مناسب جواب دیتی، نہ کہ ان سوالات کو اٹھائے جانے پر برا مان کر ان پر حملہ آور ہو جاتی۔
Published: undefined
اتفاق کی بات ہے کہ راہل گاندھی کو حزب اختلاف کا قائد بنے 2 سال گزر چکے ہیں، لیکن اس دوران حکومت ان کے اٹھائے گئے کسی بھی سوال کا مناسب جواب پیش کرنے کی ایک بھی مثال قائم نہیں کر سکی۔ اس کی تازہ ترین مثال نیٹ-یو جی، سی بی ایس ای اور سی یو ای ٹی جیسی اہم امتحانات میں بار بار ہونے والے پرچہ لیک، آن اسکرین مارکنگ (او ایس ایم) اور جانچ کے نظام میں ناانصافی پر مبنی بے ضابطگیوں، بدعنوانی، نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کے خامیوں سے بھرپور طریقۂ کار اور ان سے مایوس ہو کر طلبہ کی خودکشیوں سے متعلق ان کے اٹھائے گئے سوالات ہیں۔ حکومت جہاں ان سوالات سے نظریں چراتی پھر رہی ہے، وہیں وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے استعفے کے تمام مطالبات کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی کرسی سے چمٹے ہوئے ہیں۔
Published: undefined
خارجہ پالیسی سے متعلق راہل گاندھی کا یہ سوال بھی اب تک جواب کا منتظر ہے کہ ایران پر امریکی-اسرائیلی حملے میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کے معاملے پر وزیر اعظم نریندر مودی خاموش کیوں رہے اور انہوں نے ایسا تاثر کیوں پیدا ہونے دیا کہ ہندوستان کسی ملک کے سربراہ کے قتل کی حمایت کرتا ہے؟ اقتصادی پالیسیوں سے متعلق ان کے اس سے پہلے اور بعد میں اٹھائے گئے سوالات بھی جواب طلب ہیں، جبکہ مکیش امبانی اور گوتم اڈانی کو ناجائز فائدہ پہنچانے سے متعلق سوالات کا بھی کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ مزدوروں کی بدحالی اور نوجوانوں میں بے روزگاری سے متعلق ان کے سوالات پر بھی حکومت اپنا دفاع کرنے کے بجائے ہمیشہ راہِ فرار اختیار کرتی رہی ہے۔ آئین کو پامال کرتے ہوئے الیکشن کمیشن، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی)، مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) اور گورنروں جیسی آئینی اداروں کے مبینہ غلط استعمال سے متعلق سوالات کا بھی یہی حال ہے۔ چین کی جانب سے ہندوستانی سرزمین میں دراندازی کے مسئلے پر تو راہل جب بھی بات کرتے ہیں، حکومت کی عدمِ تحفظ کی نفسیات پوری طرح بے نقاب ہو جاتی ہے اور وہ بوکھلا کر رہ جاتی ہے۔
Published: undefined
صرف یہی نہیں، راہل گاندھی جب بھی لوک سبھا میں اظہار خیال کے لیے کھڑے ہوتے ہیں، انہیں حکومت کی جانب سے تحقیر آمیز ٹوک ٹاک اور حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لوک سبھا کے گزشتہ بجٹ اجلاس میں تو حد ہی ہو گئی، جب انہیں صدر کے خطاب پر تحریک تشکر پر بولنے ہی نہیں دیا گیا۔ ایک کتاب کے اقتباس کا حوالہ دینے کو بہانہ بنا کر وزیر داخلہ، وزیر دفاع اور پارلیمانی امور کے وزیر تک نے ان کی تقریر میں رکاوٹیں ڈالیں اور اسپیکر بھی اپنے منصب کے وقار کے برعکس حکومت کا ساتھ دیتے ہوئے نظر آئے۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ حکومت کی ایسی ہی کارروائیوں کے باعث گزشتہ سال اگست میں راہل گاندھی کو دہلی میں ایک پروگرام کے دوران کہنا پڑا تھا کہ انہیں محسوس ہوتا ہے وہ آگ سے کھیل رہے ہیں اور ایک دن بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح وہ بھی اسی آگ میں جل جائیں گے، لیکن جو سچ ہے وہ اسے کہتے رہیں گے۔ انہیں ایسا کہنے کی نوبت نہ آتی اگر حکومت یہ سمجھتی کہ اپوزیشن کی تنقید کا منطقی جواب دینا اور اپنی غلطیوں کی اصلاح کرنا اس کی ذمہ داری ہے، اور وہ جبر کا راستہ اختیار کر کے، اپوزیشن کی آواز دباکر اور تنقید کے حق کو حق ہی نہ مان کر اس ذمہ داری سے منہ نہیں موڑ سکتی۔
Published: undefined
حکومت کہتی ہے کہ اپوزیشن کو اس کے حکمرانی کے حق پر سوالیہ نشان لگانے کا اختیار نہیں، لیکن وہ یہ سمجھنے سے انکار کر دیتی ہے کہ اس دلیل کی آڑ میں وہ اپوزیشن کو اپنی تنقید سے بھی نہیں روک سکتی۔ البتہ وہ باہمی خیرسگالی اور تعاون کا مطالبہ ضرور کر سکتی ہے، لیکن اس کے لیے پہلے خود اس کا خیرخواہ ہونا ضروری ہے، اور وہ ایسا ہونا نہیں چاہتی۔ اگر ایسا ہوتا تو خارجہ پالیسی سمیت متعدد محاذوں پر ملک کو شرمندہ کرنے کے بجائے اپوزیشن کو ساتھ لے کر اتفاقِ رائے کی راہ اختیار کرتی۔ لیکن اس وقت بھی وہ اپوزیشن اور اس کے قائد کے بارے میں اپنی ذہنی گرہوں سے باہر نہیں نکل سکی ہے۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined