
یوگی آدتیہ ناتھ / آئی اے این ایس
گزشتہ 4-3 دہائیوں سے اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات کا ’ذاتوں اور مذہبوں کی جنگ‘ میں تبدیل ہو جانا ریاستی عوام کی تقدیر سی بنی ہوئی ہے۔ اس کے لیے بیشتر کوششیں برسراقتدار فریق کی جانب سے کی جاتی رہی ہیں تاکہ اپنی حکومت بچائے رکھی جا سکے، چاہے اس کے لیے خود کو جتنا بھی گرانا پڑے۔ البتہ کبھی کبھی اپوزیشن پارٹیاں بھی اس کی سازش کو سمجھنے میں ناکام رہتی ہیں اور اس کے جال میں پھنس کر اس جیسے ہی کرتب کرنے لگ جاتی ہیں۔
ماہرین بتاتے ہیں کہ ایسی کوششیں کچھ چوری چھپے کی جاتی ہیں، کچھ کھلم کھلا اور بے شرمی کے ساتھ۔ ایسے میں ووٹرس کے لیے یہ طے کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے کہ انہیں کھلم کھلا ایسی جنگوں میں جھونکنے والے زیادہ خطرناک ہیں یا وہ جو جھک جھک کر اونٹ چراتے اور ایک ساتھ دھان کوٹنے اور بغل ڈھانپنے کی کوششیں کرتے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ان میں سے کسی کو بھی مذہبوں کی اعلیٰ اقدار اور اخلاقیات سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔ ان کی سب سے زیادہ دلچسپی کسی بھی قیمت پر فتح میں ہوتی ہے، خواہ اس کے لیے طرح طرح کی فرقہ پرستیوں، تنگ نظریوں اور انتہاپسندیوں کو مذہبوں کا مترادف بنا کر لوگوں کو بھڑکانا اور آپس میں لڑانا پڑے۔
راشٹر کوی رام دھاری سنگھ دنکر نے کبھی اسی رجحان کے لوگوں کو ہدف بنا کر لکھا تھا: ’’سادھن کو بھول سدھی پر جب ٹکٹکی ہماری لگتی ہے/ پھر وجے چھوڑ بھاؤنا اور کوئی نہ ہردے میں جگتی ہے/ تب جو بھی آتے وگھن روپ، ہوں دھرم، شیل یا سداچار/ ایک ہی سدرش ہم کرتے ہیں سب کے سر پر پاد پرہار/ اتنی بھی پیڑا ہمیں نہیں ہوتی ہے انہیں کچلنے میں/ جتنی ہوتی ہے روز کنکڑوں کے اوپر ہو چلنے میں۔‘‘ لیکن کیا اس بار کے اسمبلی انتخاب میں بھی ویسی ہی جنگ ہوگی؟ اور اگر ہوئی تو اس کا نتیجہ کیا ہوگا؟
بی جے پی کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے ساڑھے نو سالوں میں مذہبی اور فرقہ وارانہ امتیازات کو انتہا تک پہنچا دینے والی بدانتظامی کے ذریعے ریاست کو جن حالات تک پہنچا دیا ہے، ان کے سبب وہ جس طرح کی اقتدار مخالف لہر، نئی نسل کے غصے اور ووٹرس کی جانب سے ممکنہ بے دخلی کے فرمان کے خوف کا سامنا کر رہی ہے، اس کے پیش نظر یہ سوچنا بھی مشکل ہے کہ وہ ویسی جنگ کی تکرار نہیں چاہے گی۔
لیکن اس بار صورت حال میں ایک بڑا فرق ہے۔ وہ یہ کہ اندرونی اور بیرونی کئی وجوہات سے بی جے پی کا اعتماد اس کے ساتھ نہیں ہے۔ ہاں، یوگی آدتیہ ناتھ کا بھی نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ اکثریتی فرقہ پرستی کی پرورش کے ان کے پرانے راگ کی حقیقت کھل چکی ہے اور انہیں اس کے آگے کا کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا ہے۔
رام پور میں جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو غیر قانونی قرار دے کر منہدم کرنے کی کارروائی مراد آباد ڈویژن کے کمشنر کورٹ کی جانب سے عبوری روک لگا دیے جانے کے سبب ’مکمل‘ نہیں ہو پائی تو بجرنگ دل کے ایک لیڈر کی شکایت پر سہارنپور کے کلکٹریٹ احاطے میں واقع 150 سال پرانی مسجد کو منہدم کر دینے سے حکومت اور بی جے پی کا منصوبہ بالکل واضح ہو گیا ہے کہ جس اکثریتی فرقہ پرستی کی وہ پرورش کرتے آئے ہیں، اس کے مزید جنوں کو ان کی بوتلوں سے باہر نکالنا چاہیں گے۔ نتیجہ کچھ بھی ہو، انہیں اس کی پروا نہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔