طارق رحمان، تصویر ’ایکس‘ @bdbnp78
بنگلہ دیش کا پُنر جنم ہو گیا۔ عام انتخابات کے نتیجے میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کو اکثریت حاصل ہو گئی۔ بی این پی کے صدر طارق رحمان ملک کے اگلے وزیر اعظم بن گئے۔ انھوں نے اپنی تقریب حلف برداری میں جس طرح جنوبی ایشیائی ملکوں کے رہنماؤں کو مدعو کیا، اس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ ہمسایہ ملکوں کے ساتھ بہتر رشتے رکھنا چاہتے ہیں۔ اقتدار کی یہ تبدیلی اگست 2024 میں وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت کا تختہ پلٹے جانے کے بعد ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں عمل میں آئی ہے۔
Published: undefined
حسینہ واجد 15 سالوں تک مسلسل ملک کی وزیر اعظم رہی ہیں۔ لیکن ان کی حکومت میں ہونے والے آخری انتخابات کے سلسلے میں متعدد الزامات عائد کیے گئے۔ وہ انتخابات اپوزیشن کے بغیر ہوئے تھے جس کی وجہ سے حسینہ کی پارٹی عوامی لیگ کو اکثریت حاصل ہوئی تھی۔ حسینہ کے ابتدائی 2 ادوار اچھے رہے۔ ملک کی معیشت بہتر ہوئی، غریبی میں کمی آئی، ملکی کرنسی مضبوط ہوئی، اقتصادی ترقی ہوئی، لیکن انھوں نے اپوزیشن کو سر اٹھانے نہیں دیا۔ مخالفین کو مختلف الزامات میں سزائیں دینے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ خاص طور پر جماعت اسلامی کے متعدد رہنماؤں کو یا تو جیلوں میں ٹھونس دیا یا پھر پھانسی پر چڑھا دیا۔ ایک طرح سے انھوں نے اپوزیشن کو کچلنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
Published: undefined
انتخابات پر نہ صرف اندرون ملک تحفظات کا اظہار کیا گیا بلکہ بیرون ملک بھی ظاہر کیا گیا۔ امریکہ اور دیگر ملکوں نے انتخابات شفاف قرار دینے سے انکار کر دیا۔ لیکن شیخ حسینہ کے طریقۂ حکومت پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ بالآخر ان کے خلاف عوامی بے چینی پیدا ہوئی جس نے بغاوت کی شکل اختیار کر لی۔ ملک میں جگہ جگہ پرتشدد احتجاج ہونے لگا۔ حسینہ نے فوج کو احتجاجیوں پر گولی چلانے کا حکم دے دیا جس کے نتیجے میں بہت سے افراد ہلاک ہوئے۔ اس قدم نے جلتی پر تیل چھڑک دیا اور بغاوت کی آگ مزید بھڑک اٹھی۔ دارالحکومت ڈھاکہ بھی اس کی زد پر آگیا۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ حسینہ کی رہائش گاہ پر بھی حملہ ہو گیا۔ جب ان کی زندگی خطرے میں پڑ گئی تو وہ ایک خصوصی طیارے سے ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئیں۔ انھوں نے ہندوستان میں آکر پناہ لی۔
Published: undefined
یاد رہے کہ ان کے خلاف بغاوت کی قیادت طلبہ تنظیموں نے کی تھی۔ ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد نوبل انعام یافتہ محمد یونس کو نگراں حکمراں مقرر کر دیا گیا۔ انھوں نے ملک کی پالیسیوں میں کافی تبدیلی کی۔ شیخ حسینہ کے دور حکومت میں خارجہ پالیسی میں جو تبدیلی آئی تھی، اس کے نتیجے میں ہندوستان سے اس کے قریبی تعلقات قائم ہو گئے۔ جبکہ بنگلہ دیش پاکستان سے دور ہو گیا۔ ہندوستان کے تقریباً تمام ہمسایہ ملکوں سے رشتے خراب تھے، لیکن صرف بنگلہ دیش ایک ایسا ملک تھا جس سے اس کے رشتے بہتر رہے۔ لیکن محمد یونس کے زمانے میں صورت حال پلٹ گئی۔ ہندوستان سے رشتے خراب ہو گئے اور پاکستان سے اچھے ہو گئے۔ ہندوستان نے ڈھاکہ میں تعینات اپنے سفارتکاروں کو واپس بلا لیا۔ ادھر بنگلہ دیش کی نگراں حکومت نے شیخ حسینہ کو اس کے حوالے کرنے کا مطالبہ تیز کر دیا، جس نے دونوں کے باہمی تعلقات کو اور خراب کر دیا۔
Published: undefined
بہرحال انتخابات کا اعلان ہوا۔ ادھر سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کو، جن کو حسینہ واجد نے جیل میں ڈال رکھا تھا، جیل سے رہا کیا گیا۔ وہ بیمار تھیں ان کا علاج ہوا۔ اسی درمیان ان کے بیٹے طارق رحمان خود جلاوطنی ختم کر کے ملک واپس آ گئے۔ اسی درمیان خالدہ ضیا کا انتقال ہو گیا۔ طارق رحمان کو بی این پی کا صدر بنا دیا گیا۔ انتخابات سے قبل ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جماعت اسلامی اور طلبہ تنظیموں کو اکثریت حاصل ہوگی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ بی این پی کو جہاں 300 میں سے 212 نشستیں ملیں وہیں جماعت اسلامی کو محض 27 نشستیں حاصل ہوئیں۔ اس طرح جماعت اسلامی اور طلبہ تنظیموں کو مایوسی ہاتھ لگی۔
Published: undefined
اب جبکہ بی این پی اقتدار میں واپس آ گئی ہے تو عوام نے بہت سی امیدیں باندھ رکھی ہیں۔ طارق رحمان نے انتخابی نتائج آنے کے بعد اپنی پارٹی کے حامیوں سے جشن نہ منانے کی اپیل کی۔ اتفاق سے جس روز نتائج آئے وہ جمعہ کا دن تھا۔ لوگوں نے نماز جمعہ میں اظہار تشکر کیا۔ طارق رحمان کا یہ قدم انتہائی سمجھداری والا تھا۔ ورنہ اگر جشن منایا جاتا تو ممکن ہے کہ پرجوش حامی تشدد پر بھی اتر آتے۔ لیکن بہرحال بہت سی توقعات کے ساتھ ساتھ کچھ خدشات بھی جنم لے رہے ہیں۔ طارق رحمان نے جماعت اسلامی کے سلسلے میں جو بیان دیا ہے اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ وہ اس کے خلاف کارروائی بھی کر سکتے ہیں۔
Published: undefined
ادھر اس ٹربیونل نے، جو شیخ حسینہ نے قائم کیا تھا، خود انھی کو سزائے موت سنائی ہے۔ اس بات کا امکان ہے کہ نئی حکومت حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ تیز کرے گی۔ ہندوستان نے تادم تحریر اس حوالے سے کسی واضح پالیسی کا اعلان نہیں کیا ہے۔ تاہم اس کی امید کم ہے کہ وہ حسینہ کو بنگلہ دیش کے حوالے کرے گا۔ ویسے اگر خدا نخواستہ حوالے کر دیا گیا تو اس بات کا خطرہ ہے کہ ان کے ساتھ بھی وہی سلوک ہوگا جو وہ اپنے مخالفین کے ساتھ کرتی رہی ہیں۔ یعنی ان کو سزائے موت دی جا سکتی ہے۔ اگر یہ سب کچھ ہوا تو بنگلہ دیش میں ایک بار پھر سیاسی عدم استحکام پیدا ہوگا۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ نئی حکومت انتقامی کارروائی سے گریز کرے اور ملک کو سیاسی استحکام کے ساتھ ساتھ اقتصادی استحکام بھی بخشے اور ہندوستان سمیت قریبی ملکوں کے ساتھ بہتر اور خوشگوار تعلقات قائم کرے۔
Published: undefined
بنگلہ دیش کی تاریخ انتقامی سیاست سے بھری پڑی ہے۔ 1971 میں اس کے قیام کے بعد بنگ بندھو اور بابائے قوم کہے جانے والے شیخ مجیب الرحمن نے حکومت بنائی۔ لیکن بعد میں ایک فوجی بغاوت میں ان کو خاندان سمیت قتل کر دیا گیا۔ اس وقت شیخ حسینہ اور ان کی چھوٹی بہن ملک سے باہر تھیں اس لیے بچ گئیں۔ نئی حکومت قائم ہوئی۔ لیکن پھر فوجی سربراہ جنرل ضیاء الرحمان نے فوجی بغاوت کی اور حکومت کا تختہ پلٹ کر خود ملک کے سربراہ بن گئے۔ پھر بعض فوجیوں کی جانب سے کی جانے والی کارروائی میں ان کا قتل کر دیا گیا۔
Published: undefined
نئی حکومت بنی اور پھر ضیاء الرحمن کی اہلیہ خالدہ ضیا سیاست میں داخل ہوئیں۔ ملک میں انتخابات ہوئے اور وہ وزیر اعظم منتخب ہوئیں۔ اسی درمیان شیخ حسینہ ملک میں واپس آئیں اور انھوں نے عوامی لیگ کی قیادت سنبھالی۔ انھوں نے اپنی پارٹی کو مضبوط کیا۔ اقتدار میں آئیں۔ شروع میں انھوں نے اچھے کام کیے۔ لیکن پھر انتقامی سیاست پر اتر آئیں۔ انھوں نے خالدہ ضیا کو جیل میں ڈال دیا۔ ان کے بیٹے طارق رحمان کو بھی قید کر دیا۔ تقریباً ڈیڑھ سال قید کاٹنے کے بعد ان کی رہائی ہوئی اور انھوں نے خود جلاوطنی اختیار کر لی۔ اب جبکہ وہ واپس آ گئے اور وزیر اعظم بن گئے ہیں تو خدشہ اس بات کا ہے کہ کہیں وہ بھی انتقامی سیاست پر نہ اتر آئیں اور شیخ حسینہ کو پھانسی دینے کی کوشش کرنے لگیں۔ اگر ایسا ہوا تو کہا جا سکتا ہے کہ بنگلہ دیش ایک بار پھر عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined