.jpg?rect=0%2C0%2C2000%2C1125)
مہاراشٹر اسمبلی / آئی اے این ایس
ممبئی کو موسلادھار بارش میں ڈبو دینے والی ایک حبس زدہ اتوار کی صبح ادھو ٹھاکرے اپنے کارکنوں اور حامیوں کے سامنے کھڑے ہو کر ’رام رکشا استوتر‘ کا پاٹھ کر رہے تھے۔ یہ کوئی انتخابی مہم نہیں تھی۔ اپنی پارٹی کے لوک سبھا اراکین کی جانب سے ایک اور بار وفاداری بدلنے کے بعد، ٹھاکرے بی جے پی-آر ایس ایس کی حمایت یافتہ ٹرسٹ کی طرف سے ایودھیا کے رام مندر کے چندے میں مبینہ خرد برد کے خلاف ’رام رکشا آندولن‘ کی قیادت کر رہے تھے۔
بھگوا جھنڈوں کے درمیان کھڑے ہو کر انہوں نے بی جے پی پر کروڑوں ہندوؤں کی عقیدت کے ساتھ کھلواڑ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہندو بھولے ہیں، بے وقوف نہیں۔‘‘ اس کا سیاسی علامتی مفہوم بالکل واضح تھا: ایک ایسا لیڈر جس نے گزشتہ 4 برس اپنی پارٹی کی شناخت اور اس پر کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے سیاسی اور قانونی جنگ لڑنے میں گزارے ہیں، وہ اسی نظریاتی بنیاد کی طرف لوٹ رہا ہے جسے ان کے والد مرحوم بال ٹھاکرے نے دہائیوں تک پروان چڑھایا تھا۔ اس کے باوجود ان بھجنوں اور شلوکوں کے پیچھے ایک گہری خاموشی اور تشویش چھپی ہوئی تھی۔
یہ احتجاج کسی نظریاتی اعتماد کے اظہار سے کہیں زیادہ اس سیاسی زمین کو واپس حاصل کرنے کی ایک کمزور اور مایوس کن کوشش تھی، جو 2022 میں ان کے سب سے قابل اعتماد ساتھی سے سخت مخالف بن جانے والے ایکناتھ شندے کی بغاوت کے بعد سے مسلسل ان کے ہاتھ سے نکلتی جا رہی ہے۔ انتخابی شکست تو اپنی جگہ، لیکن ہر ایک دل بدل یا کسی رکن اسمبلی کے وفاداری بدلنے کی افواہ اس پارٹی کے حوصلے کو پوری طرح توڑ دیتی ہے، جو پہلے ہی اپنا نام، اپنا انتخابی نشان، اپنی قانون ساز طاقت اور اپنی تنظیم کا ایک بڑا حصہ کھو چکی ہے۔
یہ بحران صرف ایک پارٹی تک محدود نہیں ہے۔ مہاراشٹر آج شاید اپنی تاریخ کے اس دور میں کھڑا ہے جب اپوزیشن سب سے زیادہ کمزور ہے۔ علاقائی پارٹیوں کے بکھراؤ نے ایک ایسی اسمبلی کو جنم دیا ہے جہاں برسرِ اقتدار اتحاد کی غیر معمولی اور زبردست بالادستی ہے، جبکہ وہ جماعتیں جن سے حکومت کو چیلنج ملنے کی امید تھی، وہ خود اپنی بقا کی جدوجہد میں الجھی ہوئی ہیں۔
اگر صرف مہا وکاس اگھاڑی (ایم وی اے) کے تینوں اتحادیوں کو شمار کیا جائے تو 288 رکنی اسمبلی میں اپوزیشن اتحاد کے پاس صرف 46 اراکین اسمبلی بچے ہیں۔ نہ 20 اراکین والی شیوسینا (یو بی ٹی)، نہ 16 اراکین والی کانگریس اور نہ ہی 10 اراکین والی این سی پی (شرد پوار)، ان میں سے کوئی بھی پارٹی حزب اختلاف کے قائد کے عہدے کا دعویٰ کرنے کے لیے درکار کم از کم ایک تہائی یعنی 29 اراکین کی شرط پوری کرتی ہے۔ گزشتہ 6 دہائیوں میں یہ پہلا موقع ہے جب مہاراشٹر اسمبلی میں اپوزیشن کا کوئی تسلیم شدہ لیڈر موجود نہیں ہے۔ یہ سیاسی خلا کانگریس کے لیے ایک موقع بن سکتا ہے، جو کمزور ہونے کے باوجود ریاست بھر میں موجودگی رکھنے والی واحد قومی پارٹی ہے، لیکن یہ ایک طویل اور مشکل سفر ہوگا۔
اقتدار اور بڑے ٹھیکوں کی کشش کے باعث پارٹی سے ارکانِ پارلیمنٹ، ارکانِ اسمبلی، کونسلر اور مقامی عہدیداروں کی مسلسل نقل مکانی جاری ہے۔ ایسے میں ادھو ٹھاکرے کے سامنے سب سے بڑا چیلنج اپنے وفاداروں اور تذبذب کا شکار افراد کو یہ یقین دلانا ہے کہ ان کی پارٹی کا مستقبل اب بھی محفوظ ہے۔ سیاست آخرکار اعتماد کو ہی انعام دیتی ہے۔ کارکن اور کیڈر انہی تنظیموں کے ساتھ جڑے رہتے ہیں جو انتخابات جیتنے، ان کے سیاسی مستقبل کو محفوظ بنانے اور سیاسی مواقع فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔
آج اس پارٹی کا سب سے بڑا سرمایہ ادھو ٹھاکرے کی ذاتی ساکھ اور اعتبار ہے۔ ان کے بیٹے آدتیہ ابھی تک اس قیادت کو مکمل طور پر سنبھالنے کے لیے تیار نظر نہیں آتے۔ اپنے بیشتر ہم عصر رہنماؤں کے برعکس، ادھو کو نہایت متوازن اور باوقار مانا جاتا ہے۔ کووڈ کے دوران ان کے طرزِ حکمرانی نے انہیں روایتی ووٹ بینک سے ہٹ کر بھی شہرت دلائی۔ شندے کی بغاوت کے بعد بھی بہت سے لوگوں کی ہمدردیاں ان کے ساتھ تھیں، لیکن صرف ہمدردی کے سہارے کسی سیاسی تنظیم کو طویل عرصے تک نہیں چلایا جا سکتا۔ بال ٹھاکرے نے جس شیوسینا کی بنیاد رکھی تھی، وہ محض ایک انتخابی مشین نہیں تھی۔ وہ شاخوں، محلہ منتظمین، مزدور یونینوں، بلدیاتی اداروں اور وفادار شیوسینکوں کے ایک پیچیدہ لیکن مضبوط نیٹ ورک پر قائم تھی۔ اسی لیے 2000 کی دہائی میں جب راج ٹھاکرے یا نارائن رانے جیسے قدآور لیڈران نے پارٹی چھوڑی، تو شیوسینا کو وہ نقصان نہیں پہنچا جو آج ہو رہا ہے۔
اب اس تنظیمی ڈھانچے کا بڑا حصہ اس حد تک تباہ ہو چکا ہے کہ اسے دوبارہ درست کرنا آسان نہیں۔ اور ادھو ٹھاکرے شاخی نظام کو دوبارہ زندہ کرنے کے بنیادی کام میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ اس ڈھانچے کی ازسرِ نو تعمیر کے لیے جس صبر، مقصد کی وضاحت اور وسائل کی ضرورت ہوتی ہے، وجودی بحران کے درمیان انہیں جمع کرنا اور برقرار رکھنا انتہائی مشکل ہے۔
اتنا ہی تشویش ناک سوال پارٹی کی شناخت کا بھی ہے۔ شیوسینا (یو بی ٹی) کس کی نمائندگی کرتی ہے؟ ہندوتوا کی سیاست پر پہلا دعویٰ کرنے والی پارٹی (بی جے پی کی صورت میں) پہلے ہی موجود ہے، جبکہ ادھو کی پارٹی نے اپنے علاقائی، یعنی ’مراٹھی مانوس‘ کے بنیادی ایجنڈے کو نظر انداز کر دیا ہے۔ بال ٹھاکرے کی قیادت میں شیوسینا کے پاس ایک واضح نظریاتی سمت تھی، خواہ ان کی مراٹھی علاقائیت، ہندوتوا اور سڑکوں پر اتر کر سیاست کرنے کا منفرد انداز کتنا ہی تقسیم پیدا کرنے والا کیوں نہ رہا ہو۔ ادھو ٹھاکرے نے 2019 کے بعد بہتر حکمرانی اور اقتدار کی خاطر نظریاتی مخالفین کے ساتھ ہاتھ ملا کر پارٹی کو نئے انداز سے قائم کرنے کی کوشش کی۔ وہ فیصلہ اس وقت سیاسی طور پر ضروری رہا ہوگا، لیکن اس نے پارٹی کی شبیہ کو اس طرح بدل دیا جس کا مسئلہ آج بھی حل نہیں ہو سکا ہے۔
کیا شیوسینا (یو بی ٹی) بنیادی طور پر ایک مراٹھی علاقائی جماعت ہے؟ کیا یہ ایک اعتدال پسند ہندوتوا تنظیم ہے؟ کیا اب یہ ایک وسیع تر سیکولر علاقائی قوت بن چکی ہے؟ یا پھر اس کی شناخت بنیادی طور پر صرف بی جے پی کی مخالفت تک محدود ہے؟ سیاسی کارکنوں کو انتخابی حکمتِ عملی کے ساتھ ساتھ نظریاتی سمت کی بھی اتنی ہی ضرورت ہوتی ہے۔ ووٹروں کو بھی وضاحت چاہیے۔ جو پارٹی مسلسل صرف یہ سمجھانے میں مصروف رہے کہ ’وہ کیا نہیں ہے‘، اسے لوگوں کو یہ یقین دلانے میں دشواری ہوگی کہ درحقیقت ’وہ کیا ہے‘ یا اس کا بنیادی مقصد کیا ہے۔
شرد پوار کی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی بھی کسی حد تک اسی بحران سے دوچار ہے۔ پوار ہندوستان کے سب سے تجربہ کار رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں اور آج بھی ان کا بے حد احترام کیا جاتا ہے۔ لیکن ان کا ذاتی قد تنظیمی زوال کی ہمیشہ بھرپائی نہیں کر سکتا۔ شیوسینا (یو بی ٹی) کی طرح ان کی پارٹی نے بھی تقسیم کے بعد اپنا تسلیم شدہ نام اور انتخابی نشان کھو دیا۔ قیادت کی جانشینی سے متعلق سوالات بھی آج تک برقرار ہیں۔ اس کا مشترکہ اثر غیر معمولی ہے۔ مہاراشٹر کی دو بڑی علاقائی اپوزیشن جماعتیں ایک ہی وقت میں اپنی تنظیمی بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ اسمبلی کے اندر اور باہر حکومت کو گھیرنے اور چیلنج دینے کے بجائے وہ اپنے ارکانِ اسمبلی، کارکنوں اور مقامی رہنماؤں کو اپنے ساتھ برقرار رکھنے کی فکر میں مبتلا ہیں۔
علاقائی پارٹیوں کی اسی بے بسی نے کانگریس کے لیے ایک ایسی جگہ پیدا کر دی ہے، جس کے پاس اس وقت وہ چیز موجود ہے جو اس کے علاقائی اتحادیوں کے پاس نہیں ہے، یعنی تنظیمی تسلسل۔ کانگریس کو کسی بڑی تقسیم کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے۔ اس کی ضلعی کمیٹیاں آج بھی برقرار ہیں۔ درحقیقت، اپنے ملک گیر تنظیمی ازسرِ نو ڈھانچہ سازی کے پروگرام یعنی ’سنگٹھن سرجن ابھیان‘ کے تحت مقامی اکائیوں کے نئے صدور کی تقرری سے پارٹی کو نئی توانائی ملی ہے۔ آیا یہ مہم کانگریس کو نچلی سطح سے اوپر تک دوبارہ مضبوط کر پائے گی یا نہیں، یہ الگ سوال ہے، لیکن اس کی نظریاتی شناخت نسبتاً مستحکم ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس پر یہ سوال نہیں اٹھتا کہ کون سا گروہ ’اصل پارٹی‘ ہے۔ لیکن اس تنظیمی تسلسل کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ یہ خود بخود انتخابی احیاء میں تبدیل ہو جائے گا۔ کانگریس کی اپنی تنظیمی کمزوریاں ہیں اور وہ عوامی ناراضگی کو سیاسی فائدے میں بدلنے کے لیے ہمیشہ جدوجہد کرتی رہی ہے۔ اس کے باوجود اگر مہاراشٹر ایک مؤثر اپوزیشن کی تلاش کرتا ہے تو کانگریس اس جگہ پر قابض ہو سکتی ہے۔ ایسا اس لیے نہیں ہوگا کہ کانگریس میں کوئی غیر معمولی احیاء ہو رہا ہے، بلکہ اس لیے ہوگا کہ اس کردار کے دوسرے دعوے دار بکھر چکے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
تصویر: پریس ریلیز