
کتابوں پر حملہ، آزادیٔ فکر پر حملہ ہے۔ مغربی بنگال میں دُرگا پوجا کے دوران مارکسی کمیونسٹ پارٹی (سی پی آئی ایم) اور دیگر بائیں بازو کی تنظیموں کے کتابی اسٹالوں میں توڑ پھوڑ، آتش زنی اور انہیں ہٹانے کی کوششوں نے سیاست کی ایسی شکل کو بے نقاب کیا ہے، جس میں اختلاف رائے کے لیے عوامی زندگی میں جگہ مسلسل تنگ کی جا رہی ہے۔ باراسات میں کتابی اسٹالوں میں توڑ پھوڑ اور بجپور میں ایک اسٹال کو آگ لگائے جانے کی خبریں ہیں۔ کولکاتا کے جادوپور میں بھی اسٹال ہٹانے کو لے کر تنازعہ سامنے آیا ہے۔ بائیں بازو کی پارٹیوں نے ان حملوں کے لیے بی جے پی کے حامیوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ ان الزامات کی تصدیق تحقیقات کے بعد ہی ہو سکے گی، لیکن ان واقعات کا وسیع تر سیاسی پس منظر غور طلب ہے۔
دُرگا پوجا بنگال کا محض مذہبی تہوار نہیں، بلکہ ایک وسیع سماجی و ثقافتی جشن بھی ہے۔ اس کے پنڈالوں کے آس پاس لگنے والے کتابی اسٹالوں کی روایت کئی دہائیوں پرانی ہے۔ کتابی اسٹال خیالات کی اشاعت کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ ان کی اہمیت اس بات میں بھی ہے کہ وہ قارئین کو اپنے عقائد سے باہر نکل کر دوسرے خیالات سے واقف ہونے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
جمہوریت میں کسی سیاسی پارٹی سے اپنے خیالات پیش کرنے کا حق صرف اس لیے نہیں چھینا جا سکتا کہ وہ منتظمین یا برسر اقتدار پارٹی کے نظریے سے مطابقت نہیں رکھتے۔ خیالات کا مقابلہ خیالات سے ہونا چاہیے۔ مذہبی عقیدے، سیاسی وفاداری یا نظریاتی اختلاف کو عوامی مقامات پر داخلے کا معیار بنانا جمہوری شہریت کے تصور کے خلاف ہے۔ یہ انارکی ہے۔ اس تنازعہ کا ایک سنگین پہلو وہ سیاسی نقطۂ نظر ہے جو عوامی زندگی میں قبولیت کے لیے مذہبی شناخت کو شرط بنانا چاہتا ہے۔ جب یہ کہا جاتا ہے کہ جو لوگ کسی مذہبی رسم میں حصہ نہیں لیتے، تلک نہیں لگاتے یا کسی مخصوص روایت کو قبول نہیں کرتے، انہیں دُرگا پوجا کے پنڈالوں کے قریب کتابی اسٹال لگانے کا حق کیوں ملنا چاہیے، تو معاملہ صرف بائیں بازو تک محدود نہیں رہتا۔
سوال یہ ہے کہ کیا عوامی ثقافت میں شرکت کے لیے مذہبی طرز عمل کا ثبوت دینا لازمی ہوگا؟ ہندوستان کا آئین شہری کو عقیدہ رکھنے، اس پر عمل کرنے، اس سے اختلاف کرنے اور کسی مذہب پر عمل نہ کرنے کی آزادی دیتا ہے۔ مذہبی تہوار کسی ایک سیاسی نظریے کی ملکیت نہیں ہیں اور نہ ہی ان میں شرکت کا حق نظریاتی سپردگی پر منحصر ہونا چاہیے۔ کتابوں سے بے چین ہونے والی سیاست کا مسئلہ اس سے بھی زیادہ گہرا ہے۔ کتابیں کسی ایک نظریے کی نمائندہ نہیں ہوتیں۔ کتاب کی بنیادی فطرت ہی یہ ہے کہ وہ ایک سے زیادہ نقطہ ہائے نظر کے لیے جگہ پیدا کرتی ہے۔ اسی لیے آزادانہ فکر سے خوف زدہ سیاست کو ان کتابوں سے خاص پریشانی ہوتی ہے جو اس کے قائم کردہ بیانیے سے باہر کھڑے ہو کر سوال کرتی ہیں۔‘‘
کتابوں کے خلاف سیاست کی تاریخ کسی ایک ملک یا دور تک محدود نہیں ہے۔ قدیم چین میں تیسری صدی قبل مسیح میں شہنشاہ چن شی ہوانگ کے دور حکومت میں کتابیں جلانے اور اہل علم کو سزا دینے کے واقعات درج ہیں۔ چین کے اس واقعہ کو اکثر اس بات کی مثال کے طور پر یاد کیا جاتا ہے کہ جب حکمراں خیالات پر قابو پانا چاہتا ہے تو سب سے پہلے یادداشت اور علم پر حملہ کرتا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔