
تصویر بشکریہ سبرنگ انڈیا ڈاٹ اِن
علی سردار جعفری کا شمار انقلابی شعرا کی فہرست میں صف اول پر ہوتا ہے جو بیک وقت ایک سیاسی کارکن، مجاہد آزادی، دانشور، شاعر، مفکر، نقّاد، نثر نگار اور انسان دوست تھے، جنہوں نے حالات حاضرہ اور زندگی میں روزمرّہ پیش آنے والے مسائل کو موضوع سخن بنایا ۔ حاکم وقت کی نظروں سے نظریں ملا کر بات کی نیز اپنے بلند آہنگ اور خطیبانہ لب و لہجے سے انہیں آئینہ دکھایا۔ اگرچہ ان کا ادبی سفر افسانہ نگاری سے شروع ہوا تھا مگر بعد ازاں شاعری کی طرف راغب ہو گئے اور ترقی پسند تحریک کے پرچم تلے شاعری میں شہرت کی نئی منزلیں طے کیں۔
علی سردار جعفری کی ولادت 29 نومبر 1913 کو صوبہ اتر پردیش کے ضلع گونڈہ کے شہر بلرام پور میں ہوئی۔ ان کے والد کا نام سید جعفر طیار تھا۔ جعفری کی ذہانت کا یہ عالم تھا کہ آٹھ سال کی عمر میں وہ میر انیس کے مرثیوں کے اشعار روانی سے پڑھنے لگے تھے۔ محض پندرہ برس کی عمر میں خامہ فرسائی شروع کر دی تھی۔ روایتی دستور کے مطابق ابتدائی تعلیم گھر پر ایک مولوی صاحب سے حاصل کرنے کے بعد دینی تعلیم کے لیے سلطان المدارس لکھنؤ بھیجے گئے، مگر وہاں ان کا دل نہیں لگاتو واپس لوٹ آئے۔
1933 میں لائل کالجیٹ ہائی اسکول سے ہائی اسکول کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے جب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا رخ کیا تو اس وقت وہاں تحریک آزادی اپنے نقطہ عروج پر تھی۔ یونیورسٹی کے انقلابی طلباء جدوجہد آزادی میں ہراول دستے کا کردار ادا کر رہے تھے۔ جن سے علی سرادر جعفری بھی اپنا دامن نہ بچا سکے۔ وہاں کے علمی اور ادبی ماحول کا ان کی شخصیت پر خاصا اثر پڑا۔ جہاں کی شعری اور ادبی نشستیں قوس قزح کے مماثل افق پر اپنی چمک بکھیر رہی تھیں۔ خصوصاً خواجہ منظور حسین، ڈاکٹر عبدالعلیم، ڈاکٹر رشید جہاں، ڈاکٹر محمد اشرف وغیرہ کی صحبت نے سردار جعفری کے ذوق ادب کو پروان چڑھایا۔
لیکن 1936 میں انھیں طلبا کے ایجی ٹیشن میں حصہ لینے کی پا داش میں یونیورسٹی سے نکال دیا گیا، لہٰذا مجبوراً اینگلو عربک کالج (دہلی) سے بی اے کرنے کے بعد لکھنؤ یونیورسٹی میں ایل ایل بی میں داخلہ لیا، لیکن ایک سال بعد لا چھوڑ کر ایم اے (انگریزی) میں اندراج کرایا۔ اسی اثنا میں 1938 میں کلکتہ میں ترقی پسند مصنفین کی دوسری کانفرنس میں شرکت کی۔ جہاں شانتی نکیتن جا کر ٹیگور سے ملاقات کا موقع ملا۔
ملک کے دیگر علاقوں کی طرح لکھنؤ میں بھی سیاسی سرگرمیوں کی گہمہ گہمی شباب پر تھی۔ وہ سجاد ظہیر، ڈاکٹر عبد العلیم، سبط حسن، اور اسرار الحق مجاز وغیرہ کے ساتھ سیاسی سرگرمیوں میں متحرک ہو گئے۔ چنانچہ ایم اے کے آخری سال کے امتحان سے پہلے 1940 میں دوسری عالمی جنگ کی مخالفت اور انقلابی شاعری کے جرم میں حراست میں لیے گئے۔ 8 ماہ جیل لکھنؤ اور بنارس سنٹرل جیل کی اذیتیں برداشت کیں اور پھر بلرام پور میں نظر بند کر دیا گیا جو دسمبر 1941 میں ختم ہوئی۔ اسی دور میں سردار جعفری، مجاز اور سبط حسن نے مل کر ادبی جریدہ ’نیا ادب‘ اور ایک ہفت روزہ اخبار شائع کیا۔
1941 میں لکھنؤ ریڈیو نے نووارد شعراء کے نام سے ایک مشاعرہ کا انعقاد کیا، جس میں شرکت کی۔ 1942 میں جب کمیونسٹ پارٹی سے پابندی ہٹی اور اس کا مرکز بمبئی میں قائم ہوا تو جعفری بمبئی چلے گئے اور پارٹی کے ترجمان ’قومی جنگ‘ کے ادارتی عملہ میں شامل ہو گئے۔ انہوں نے پارٹی کی سرگرم کارکن سلطانہ منہاج سے 1948 میں شادی کر لی۔ 1949 ملکی سیاست کا اضطرابی زمانہ تھا۔ کمیونسٹ پارٹی کی سرگرمیوں کے سبب حکومت ہند کی طرف سے پارٹی پر پابندی عائد کر دی گئی، جس کے کارکنوں کی ملک بھر میں بڑے پیمانے پر گرفتاریاں شروع ہوئیں۔ لہٰذا انہیں دو مربتہ گرفتار کیا گیا۔
بمبئی کی آرتھر روڈ جیل اور ناسک کی سنٹرل جیل میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، 1950 میں رہائی نصیب ہوئی۔ سردار جعفری نے شروع میں فلموں کے لیے گیت اور منظر نامے لکھنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے اسے ذریعہ معاش نہیں بنایا۔ 1960 کے عشرہ میں پارٹی کی عملی سرگرمیوں سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ صحافتی و ادبی سرگرمیوں کو اپنا محور بنا لیا۔ ترقی پسند ادب کا ترجمان سہ ماہی رسالہ ’گفتگو‘ نکالا۔ 1986 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے ڈی لٹ کی اعزازی ڈگری عطا کی۔ آخری عمر میں مختلف بیماریوں سے گھر گئے تھے۔ یکم اگست 2000 کو حرکت قلب بند ہونے سے ان کا انتقال ہو گیا اور جوہو کے سنی قبرستان میں ان کی تدفین ہوئی۔
ان کے شعری مجموعے پرواز، نئی دنیا کو سلام، خون کی لکیر، امن کا ستارہ، ایشیا جاگ اٹھا، پتھر کی دیوار، ایک خواب، پیراہن شرر اور لہو پکارتا ہ ہے شائع ہوئے۔ جنہیں ادبی حلقوں میں کافی جو پذیرائی ملی۔ ملک کے سب سے بڑے ادبی ایوارڈ گیان پیٹھ، پدم شری کے علاوہ ان کو ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ اور سوویت لینڈ نہرو انعام وغیرہ سے نوازا گیا۔
کام اب کوئی نہ آئے گا بس اک دل کے سوا
راستے بند ہیں سب کوچۂ قاتل کے سوا
انقلاب آئے گا رفتار سے مایوس نہ ہو
بہت آہستہ نہیں ہے جو بہت تیز نہیں
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔