
ملتان: پاکستان کی ایک عدالت نے سوشل میڈیا اور اور ماڈل قندیل بلوچ کے قتل کے تین سال بعد اس کے بھائی وسیم خان کو عمر قید کی سزا سنائی جبکہ چھ دیگر لوگوں کو بری کردیا۔ سوشل میڈیا پر شہرت حاصل کرنے والی پاکستانی خاتون قندیل بلوچ کو سن 2016 میں قتل کر دیا گیا تھا۔ ملتان کی عدالت نے جن چھ لوگوں کو بری کیا ہے ان میں مسلم اسکالر مفتی عبدالقوی اور قندیل کے دو دیگر بھائی اسلم اور عارف شامل ہیں۔
Published: undefined
سال 2016 میں قندیل کی پنجاب میں اس کی رہائش گاہ پر اس کے بھائی وسیم نے قتل کردیا تھا۔ قندیل کے والد محمد عظیم بلوچ نے اپنے بیٹے وسیم کے خلاف حق نواز اور دیگر کے ساتھ مل کر قندیل کے قتل کرنے کا معاملہ درج کرایا تھا۔ اسی سال دیئے گئے حلف نامہ میں انہوں نے اپنے دیگر بیٹوں اسلم اور عارف کے بھی قتل میں شامل ہونے کا الزام لگایا تھا۔
Published: undefined
وسیم کے عدالت کے سامنے اپنی بہن کو نشیلی دوائی دینے اور اس کے قتل کرنے کا جرم قبول کرلیا تھا۔ بعد میں ان کے والد۔والدہ نے اس سال 21 اگست کو حلف نامہ داخل کر کے کہا تھا کہ انہوں نے اپنے بیٹوں کو معاف کردیا اور عدالت سے بھی انہیں بری کرنے کی اپیل کی تھی۔
Published: undefined
عدالت نے حالانکہ یہ کہہ کر ان کی اپیل ٹھکرادی کہ جھوٹی شان کے لئے قتل کے خلاف قانون میں ترمیم کے بعد قتل کے قصورواروں کو معاف نہیں کیا جاسکتا۔ انہیں کم سے کم 12 برس کی قید کی سزا کاٹنی پڑے گی۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined