پاکستان

عمران خان کے علاج پر پی ٹی آئی مطمئن نہیں، سپریم کورٹ سے رجوع

پاکستان تحریک انصاف نے عمران خان کے آنکھوں کے علاج پر عدم اطمینان ظاہر کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے انہیں پسند کے اسپتال میں علاج اور نجی معالجین سے مشاورت کی اجازت دینے کی درخواست کی ہے

<div class="paragraphs"><p>عمران خان، تصویر آئی اے این ایس</p></div>

عمران خان، تصویر آئی اے این ایس

 

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے آنکھوں کے علاج کے معاملے پر ان کی جماعت نے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔ پارٹی کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم کو ان کی پسند کے اسپتال میں علاج کی سہولت فراہم کی جائے اور انہیں اپنے نجی معالجین سے مشورہ کرنے کی اجازت دی جائے۔

Published: undefined

مقامی اخبار ڈان کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے یہ درخواست عمران خان کے فالو اَپ علاج کے بعد سپریم کورٹ میں جمع کرائی۔ درخواست عمران خان کی جانب سے دائر کی گئی ہے جس میں اسلام آباد کے ضلعی الیکشن کمشنر کو فریق بنایا گیا ہے کیونکہ اس میں توشہ خانہ کیس کا حوالہ بھی شامل ہے، جس کے تحت عمران خان کو سن 2022 میں پہلی بار گرفتار کیا گیا تھا۔

Published: undefined

درخواست میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کو ریٹینا کے ماہر معالج سے فوری علاج کے لیے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے۔ اس کے ساتھ یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ انہیں اپنے نجی معالجین فیصل سلطان اور ڈاکٹر آصف یوسف سے باقاعدہ مشاورت کی اجازت دی جائے اور وہ معائنے اور علاج کے تمام مراحل میں شریک رہیں۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ طبی عمل کے دوران شفافیت کو یقینی بنایا جانا ضروری ہے تاکہ کسی قسم کے ابہام کو ختم کیا جا سکے۔

Published: undefined

درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عمران خان کے اہل خانہ کو ان کی صحت سے متعلق مکمل اور درست معلومات فراہم کی جائیں اور معائنے و علاج کے دوران انہیں مناسب طور پر ملاقات کی اجازت دی جائے۔ مزید کہا گیا ہے کہ میڈیکل رپورٹس اور چیک اپ کی دستخط شدہ نقول عمران خان کے وکیل کو فراہم کی جائیں تاکہ عدالت میں ان کی مؤثر نمائندگی ممکن ہو سکے۔

Published: undefined

سردار لطیف کھوسہ نے درخواست میں مؤقف اپنایا کہ عمران خان کی عمر تہتر برس ہے اور ان کی گرتی ہوئی صحت نہ صرف ان کے خاندان بلکہ پورے پاکستان کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاندان اور نجی معالجین کو اعتماد میں لیے بغیر خفیہ انداز میں طبی معائنہ کرانا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں ہونے والے معائنے یا طریقہ کار کے نتائج کے بارے میں مکمل معلومات فراہم نہیں کی گئیں، جو حیران کن ہے۔

Published: undefined

یاد رہے کہ جنوری میں عمران خان کی آنکھ کی بیماری رائٹ سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن کی خبریں سامنے آئی تھیں۔ ان کی بینائی کی بحالی کے لیے پہلا طبی عمل 24 جنوری کو انجام دیا گیا تھا، تاہم اس کی اطلاع پانچ روز بعد دی گئی۔ اس کے بعد سے اپوزیشن جماعتیں حکومت پر شفافیت کی کمی اور مناسب طبی سہولیات نہ دینے کا الزام عائد کرتی رہی ہیں، جبکہ حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی آئی ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined