
پاکستانی آرمی
پاکستان مقبوضہ کشمیر (پی او کے) میں پیر کے روز یعنی 27 جولائی 2026 کو پی او کے سورش کے 48 ویں روز پاکستانی حکومت کے ساتھ مذاکرات اور مطالبات ناکام ہوگئے۔ جس کے نتیجے میں راولا کوٹ عیدگاہ گراؤنڈ میں 9 جون 2026 سے بیٹھے مظاہرین سمیت مختلف علاقوں سے راولا کوٹ میں جمع 2 لاکھ افراد شام 4 بجے مظفرآباد کی جانب روانہ ہوئے۔ اسی دوران دیگر شہروں سے راولاکوٹ کی طرف جمع ہونے والا گروپ جونہی عیدگاہ گراؤنڈ سے ڈیڑھ کلومیٹر پہلے چنار چوک پر پہنچا، تو پاکستانی رینجرز اور ایف سی کے جوانوں نے مظاہرین پر فائرنگ شروع کردی۔
اس کے ساتھ ہی جہاں یکطرفہ پاکستانی رینجرز اور ایف سی کے جوان پی او کے کے غیر مسلح مظاہرین پر فائرنگ کر رہے تھے، تو دوسری جانب پنجاب پولیس اور پی او کے پولیس کے جوان آنسو گیس کے گولے داغ رہے تھے۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹوں تک رک رک کر پاکستانی رینجرز اور ایف سی نے مظاہرین پر اے کے- 47 سے گولیاں برسائیں اور آنسو گیس کے گولے داغے۔ اس فائرنگ میں رات ساڑھے 8 بجے تک 11 افراد کی اموات کی تصدیق ہوئی ہے۔ اموات کی تعداد میں مزید اضافے کا بھی امکان ہے۔ گولیوں کی آواز کے درمیان ’پی او کے‘ کے مظاہرین میں شامل محمد عقیل نے روتے ہوئے پاکستانی رینجرز کی بربریت بتائی، اور بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مدد طلب کی۔ مظاہرین میں عاصم منیر نے بھی پاکستانی فوج کی ظلم و بربریت بیان کی۔
راولا کوٹ سے آئی تصاویر بھی پاکستانی رینجرز کی بربریت کی گواہی دے رہی ہیں کہ کس طرح ایمبولنسوں میں زخمیوں کو لے جایا جا رہا ہے، اور متوفیوں کی لاشیں ایک ساتھ چارپائی پر نماز جنازہ کے لیے عید گاہ میدان میں رکھی جا رہی ہیں۔ اس حوالے سے مظاہرین کا الزام ہے کہ کمبائنڈ ملٹری اسپتال (سی ایم ایچ) راولا کوٹ میں رینجرز اور ایف سی نے قبضہ کر رکھا ہے اور زخمی مظاہرین کو اسپتال میں داخل نہیں ہونے دے رہے ہیں۔ فائرنگ کے واقعے کے بعد تمام مظاہرین ایک بار پھر راولاکوٹ کے عیدگاہ گراؤنڈ میں جمع ہوگئے ہیں۔ پورے پی او کے میں 5 جون سے انٹرنیٹ خدمات بند ہیں اور جون سے جاری فائرنگ میں اب تک 85 افراد سے زیادہ لوگوں کی جان جا چکی ہے۔ جب کہ پیر کے روز ہوئی فائرنگ میں 38 سے زیادہ افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔