پاکستان

’میرا ارادہ انتقام نہیں، قوم کی خدمت کرنا ہے‘، پاکستان پہنچے نواز شریف کا جلسہ عام سے خطاب

مرحومہ والدہ و اہلیہ کو یاد کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ کچھ دکھ درد ایسے ہوتے ہیں جن کو انسان بھلا نہیں سکتا، کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جوکبھی نہیں بھرتے، جو پیارے آپ سے جدا ہو جائیں وہ دوبارہ نہیں ملتے

<div class="paragraphs"><p>نواز شریف، تصویر سوشل میڈیا</p></div>

نواز شریف، تصویر سوشل میڈیا

 

پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف پاکستان پہنچ چکے ہیں اور انھوں نے لاہور پہنچتے ہی ’مینار پاکستان‘ پر ایک جلسہ عام سے خطاب کیا جو کہ کئی معنوں میں اہم تصور کیا جا رہا ہے۔ اپنے خطاب کے دوران انھوں نے کہا کہ ’’میرے دل میں انتقال کی تمنا نہیں ہے، بلکہ میں قوم کی خدمت کرنا چاہتا ہوں۔ ہمیں دوگنی رفتار کے ساتھ دوڑنا ہوگا۔‘‘ پاکستانی عوام سے انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’آج کئی سالوں کے بعد آپ سے ملاقات ہو رہی ہے۔ آپ سے میرا پیار کا رشتہ قائم و دائم ہے۔ اس رشتے میں کوئی فرق نہیں آیا، میرا اور آپ کا رشتہ کئی دہائیوں سے چل رہا ہے۔ نہ کبھی آپ نے مجھے دھوکہ دیا ہے نہ میں نے کبھی آپ کو دھوکہ دیا۔‘‘

Published: undefined

نواز شریف نے پاکستان کے لیے کیے گئے اپنے کاموں کا بھی تذکرہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’میں نے دن رات محنت کر کے ملک کے مسائل حل کیے۔ میرے خلاف جعلی کیسز بنائے گئے، جیلوں میں ڈالا گیا۔ شہباز شریف اور مریم نواز کے خلاف کیسز بنائے گئے۔ ہم نے لوڈ شیڈنگ شروع نہیں کی بلکہ ختم کی۔ 2013 میں 18-18 گھنٹے آپ کے گھروں میں بجلی نہیں آتی تھی، بجلی میں نے مہنگی نہیں کی بلکہ سستی کی۔‘‘ مرحومہ والدہ اور اہلیہ کو یاد کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ ’’کچھ دکھ درد ایسے ہوتے ہیں جن کو انسان بھلا نہیں سکتا۔ کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو کبھی نہیں بھرتے۔ جو پیارے آپ سے جدا ہو جائیں وہ دوبارہ نہیں ملتے۔ میری والدہ اور بیگم میری سیاست کی نذر ہو گئیں۔ میری بیگم کلثوم فوت ہوئیں تو مجھے قید خانے میں خبرملی۔‘‘

Published: undefined

نواز شریف نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ’’میں نے جیل سپرنٹنڈنٹ سے کہا میری لندن میں میرے بیٹے سے بات کرا دو۔ اس نے میری بات نہیں کرائی۔ اس نے کہا ہمیں اجازت نہیں۔ میں اس کے کمرے سے اٹھ کر دوبارہ اپنے سیل میں چلا گیا اور سوچتا رہا کہ کیا بات کرانا اس کے لیے اتنا مشکل تھا۔ پھر ڈھائی گھنٹے بعد مجھے خبر دی گئی کہ آپ کی بیگم کلثوم اللہ کو پیاری ہو گئیں۔ مریم والدہ کے انتقال کا سن کر بے ہوش ہو گئیں۔‘‘ پھر وہ کہتے ہیں ’’یہ ہمارا ملک ہے، یہاں پیدا ہوا ہوں۔ پاکستان کی محبت میرے دل میں ہے۔ اینٹ کا جواب پتھر سے دوں، میں ایسا نہیں کرتا۔ مجھے 5 ارب ڈالر کی پیشکش تھی۔ وزارت خارجہ میں اس کا ریکارڈ موجود ہوگا۔ پچھلی حکومت کے لوگ ایک ایک ارب ڈالر کی بھیک مانگ رہے تھے۔ دنیا کا طاقتور صدر مجھے کہہ رہا تھا دھماکے نہ کرنا لیکن ہم نے دھماکے کیے۔ میری جگہ کوئی اور ہوتا  تو کیا وہ امریکی صدر کے خلاف بول سکتا تھا۔‘‘

Published: undefined

پاکستان میں بڑھی ہوئی مہنگائی کا تذکرہ کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ ’’میرے دور میں روٹی 4 روپے کی تھی اور آج 20 روپے کی ہے۔ اس لیے مجھے نکالا، اس لیے میری چھٹی کرائی؟ اپنے بیٹے سے تنخواہ نہیں لی، اس لیے وزارت عظمیٰ سے نکالا، میرے دور میں پٹرول 60 روپے لیٹر ملتا تھا۔ میرے دور میں ڈالر 104 روپے کا تھا۔ مجھےاس لیے نکالا تھا کہ اس نے ڈالر کو ہلنے نہیں دیا۔ 1990 میں جو کام ہم نے شروع کیے تھے اگر جاری رہتے تو آج ملک میں کوئی بے روزگار نہ ہوتا۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ غریب کے پاس اتنا پیسہ ہوتا کہ وہ اپنا علاج کراسکتا، آج ادھار لے کر بجلی کا بل دینا پڑتا ہے، لوگ خود کشیاں کر رہے ہیں۔ ہمارے زمانے میں چینی 50 روپے کلو تھی، ہمارے دور میں دھرنے ہو رہے تھے لیکن ہم اپنا کام کرتے جا رہے تھے، اسکردو موٹروے اور لواری ٹنل بھی ہم نے بنائی، ملتان سے سکھر موٹروے ہم نے بنائی۔

Published: undefined

موجودہ خراب حالات پر سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ’’زخم اتنے لگے ہیں کہ انھیں بھرتے بھرتے وقت لگے گا۔ میرے دل میں انتقام کی تمنا نہیں، میری تمنا ہے میری قوم خوشحال ہو۔ میں اس قوم کی خدمت کرنا چاہتا ہوں، ہم اس ملک کو پھر جنت بنائیں گے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ آئین پر عمل درآمد کرنے والے ریاستی ادارے، جماعتیں اور ریاست کے ستونوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ 40 سال کا نچوڑ بتا رہا ہوں، مل کر کام کیے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا، سب کو اکھٹا ہونا پڑے گا۔ بنیادی مرض دور کرنا پڑے گا جس کی وجہ سے ملک بار بار حادثے کا شکار ہو جاتا ہے۔ 4 سال بعد بھی میرا جوش و جذبہ مانند نہیں پڑا، ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کس طرح کھویا ہوا مقام حاصل کرنا ہے۔ ہمیں دوگنی رفتار کے ساتھ دوڑنا ہوگا اور اپنے پاؤں پر مضبوطی کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔

Published: undefined

اپنے خطاب کے دوران نواز شریف نے فلسطین کا پرچم بھی لہرایا اور کہا کہ ’’فلسطین پر ظلم کی مذمت کرتے ہیں۔ اللہ فلسطین کی مدد کرے، دنیا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فلسطین کا حل نکالیں۔‘‘ پھر وہ کہتے ہیں کہ تسبیح میرے پاس بھی ہے لیکن میں اس وقت پڑھتا ہوں جب مجھے کوئی نہ دیکھ رہا ہو۔ بغل میں چھری منہ میں رام رام یہ مجھے نہیں آتا۔ اللہ سے لو لگا کر آپ جو مانگیں گے وہ آپ کو عطا کرے گا۔ ندامت کا ایک آنسو سارے گناہ دھو دیتا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined