
علامتی تصویر / سوشل میڈیا
پاکستان کے خیبر پختونخوا میں پولیس چیک پوسٹ پر زوردار دھماکہ میں کم از کم 11 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں 8 مرد، 2 خواتین اور ایک بچہ شامل بتائے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ 30 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، جن میں پولیس افسران بھی شامل ہیں۔ جس چیک پوسٹ پر دھماکہ ہوا، اسے پولیس ’ڈی آئی خان-کوئٹہ راستہ‘ پر سیکورٹی اور جانچ کے لیے استعمال کرتی ہے۔
پاکستانی اخبار ’ڈان‘ کی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی سرحد کے قریب ڈیرہ اسماعیل خان کے درازندہ میں واقع ’امن میلہ‘ پولیس چیک پوسٹ پر یہ خودکش دھماکہ ہوا۔ زخمیوں میں پولیس اہلکاروں، کسٹم افسران کے ساتھ 2 عام شہری بھی شامل ہیں۔ دھماکہ کے فوراً بعد راحت اور بچاؤ کی کارروائی شروع کر دی گئی۔ ریسکیو ٹیموں نے ملبے میں پھنسے لوگوں کو باہر نکالا اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ اس واقعہ کے بعد بم ناکارہ بنانے والے دستے کو دھماکے کی وجہ کا پتہ لگانے کے لیے بھیجا گیا ہے، حالانکہ کچھ میڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ یہ خودکش دھماکہ تھا۔ اس حملہ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے سینئر افسران سے تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔ انہوں نے زخمیوں کو ہر ممکن طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔