پاکستان

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں بارش سے شدید تباہی، 8 افراد ہلاک، 14 زخمی، کئی علاقے زیرِ آب

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں شدید بارش کے باعث مختلف حادثات میں 8 افراد ہلاک اور 14 زخمی ہو گئے ہیں۔ گوجرانوالہ، گجرات، پاکپتن اور لاہور کے کئی علاقے زیرِ آب آ گئے جبکہ معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے

<div class="paragraphs"><p>تصویر/آئی اے این ایس</p></div>

تصویر/آئی اے این ایس

 

اسلام آباد: پاکستان کے مختلف علاقوں میں مانسون کی شدید بارشوں نے تباہی مچا دی ہے۔ بالخصوص صوبہ پنجاب کے گوجرانوالہ، گجرات، پاکپتن اور لاہور میں موسلادھار بارش کے باعث پیش آنے والے مختلف حادثات میں کم از کم 8 افراد ہلاک اور 14 دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔ کئی علاقے زیرِ آب آ جانے سے معمولاتِ زندگی اور تجارتی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔

پاکستانی میڈیا رپورٹس کے مطابق گوجرانوالہ شہر میں سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا، جہاں 6 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، جن میں بیشتر بچے شامل ہیں، جبکہ 10 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ امدادی حکام کے مطابق اموات کی وجوہات میں مکانات کی چھتیں اور دیواریں گرنے سے لگنے والی چوٹیں، تالاب میں ڈوبنے اور کرنٹ لگنے کے واقعات شامل ہیں۔

پاکستان کے معروف اخبار 'ڈان' کے مطابق گجرات شہر میں جی ٹی روڈ بائی پاس پر ایک ٹریلر بارش کے باعث پھسل کر کھائی میں جا گرا۔ تاہم اس حادثے میں ہونے والے جانی نقصان کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آ سکیں۔

ادھر ضلع پاکپتن میں بارش کے دوران ایک مکان کی چھت گرنے سے دو کمسن بچوں کی موت ہو گئی جبکہ ان کی والدہ زخمی ہو گئیں۔ لاہور کے گلشنِ راوی علاقے میں ایک فیکٹری کی چھت منہدم ہونے سے چار مزدور زخمی ہو گئے۔

گوجرانوالہ اور گجرات میں تقریباً دس گھنٹے تک جاری رہنے والی شدید بارش کے باعث اہم شاہراہیں اور نشیبی علاقے پانی میں ڈوب گئے۔ سڑکوں پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گیا اور کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔ مقامی حکام کے مطابق گوجرانوالہ میں صورتِ حال اس لیے مزید سنگین ہو گئی کیونکہ ایمن آباد اور گکھڑ منڈی کے درمیان میٹرو بس روٹ کی تعمیر کے سلسلے میں جی ٹی روڈ پر جاری کھدائی نے بارش کے پانی کے نکاس میں رکاوٹ پیدا کر دی۔

دوسری جانب پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں بھی پیر کے روز ہونے والی موسلادھار بارش اور اچانک آنے والے سیلاب کے باعث کم از کم 9 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ 'دی نیوز انٹرنیشنل' کے مطابق خیبر، مردان اور باجوڑ اضلاع میں جانی نقصان کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جبکہ مانسہرہ، ایبٹ آباد، چترال اور شانگلہ سمیت متعدد اضلاع میں سڑکوں، پلوں، مکانات، دکانوں، باغات، فصلوں اور سرکاری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

ریسکیو 1122 کے ترجمان بلال احمد فیضی کے مطابق لنڈی کوتل سے دو نوجوانوں کی لاشیں برآمد کی گئیں جبکہ جمرود کے مختلف علاقوں سے ایک خاتون اور ایک بچے سمیت چار افراد کی لاشیں ملی ہیں۔ مردان میں مکان کی چھت گرنے سے دو بچوں کی جان چلی گئی جبکہ باجوڑ میں ایک شخص ہلاک ہوا۔

شدید بارش کے دوران خیبر ضلع میں سیلابی ریلے میں پھنسے ایک شخص کی مدد کی اپیل پر مبنی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، تاہم وہ تیز بہاؤ میں بہہ گیا۔ اچانک آنے والے سیلاب نے لنڈی کوتل، طورخم اور دیگر علاقوں میں پاکستان-افغانستان شاہراہ کو بھی کئی گھنٹوں تک بند رکھا، جس کے نتیجے میں آمدورفت کا نظام شدید متاثر ہوا۔

پاکستان میں مانسون بارشوں کے اس تازہ سلسلے نے ایک بار پھر قدرتی آفات سے نمٹنے کے انتظامات اور شہری بنیادی ڈھانچے کی کمزوری کو اجاگر کر دیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔