پاکستان

بلوچستان: ’تحریکِ طالبان پاکستان‘ کے حملے میں 21 پولیس اہلکار جاں بحق

مقامی لوگوں کا ماننا ہے کہ بلوچستان میں پاکستانی فوج کی جانب سے عام لوگوں پر کارروائی کے سبب دہشت گردانہ حملے بڑھ رہے ہیں اور پولیس بھی اس کی زد میں آ رہی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>پاکستانی آرمی</p></div>

پاکستانی آرمی

 

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی راجدھانی کوئٹہ میں گزشتہ نصف شب (9 جولائی) کو تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے حملے میں 21 پولیس اہلکاروں کی موت ہو گئی۔ اس واقعہ کے بعد مہلوکین کے اہل خانہ نے کوئٹہ کے سول اسپتال میں سخت احتجاج کیا۔ بلوچستان کے علاقے زیارت میں ٹی ٹی پی کے حملے میں جاں بحق ہونے والے پولیس افسران کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم کیا گیا۔ اس کے بعد جب انہیں تدفین کے لیے کوئٹہ پولیس لائنز لے جانے کا عمل شروع کیا گیا تو مقتولین کے اہل خانہ نے شدید ہنگامہ کیا۔

ہندی نیوز پورٹل ’اے بی پی نیوز‘ پر شائع خبر کے مطابق اہل خانہ کا الزام تھا کہ پہلے پاکستانی فوج نے پولیس افسران کو ٹی ٹی پی کے ساتھ اکیلے لڑنے کے لیے چھوڑ دیا تھا۔ 3 گھنٹے تک فورس نہیں بھیجی اور جب ٹی ٹی پی کے دہشت گرد پولیس افسران کی لاشیں لے کر چلے گئے تو فوج نے لاشوں تک کو تلاش کرنے کی کوشش نہیں کی، جس کے بعد کل پورا دن اہل خانہ مقتولین کی لاشیں ڈھونڈ کر لائے۔

زیارت میں پاکستانی فوج کی فرنٹیر کور کے جوانوں نے پہلے لواحقین سے لاشیں چھین لیں تاکہ یہ دکھایا جا سکے کہ انہوں نے مقتول پولیس اہلکاروں کی لاشیں تلاش کی ہیں اور اس کے بعد کوئٹہ کے سول اسپتال لا کر پولیس اہلکاروں کی لاشوں کو لواحقین کے حوالے کرنے کے بجائے پولیس لائنز لے جایا جا رہا تھا۔ اسی وجہ سے مقتول پولیس اہلکاروں کے اہل خانہ نے پہلے سول اسپتال کے باہر ہنگامہ کھڑا کیا اور پھر سول اسپتال میں موجود پاکستانی فوج کی فرنٹیر کور کے جوانوں کو کھڈیر دیا۔

موقع پر موجود ہزاروں لوگوں کے ہجوم نے پاکستانی فوج کے خلاف نعرے بازی کی۔ ’یہ جو دہشت گردی ہے، اس کے پیچھے وردی ہے‘ اور ’شیم شیم‘ کے نعرے لگائے گئے۔ مقامی لوگوں کا ماننا ہے کہ بلوچستان میں عام لوگوں پر پاکستانی فوج کی کارروائیوں کی وجہ سے دہشت گردانہ حملے بڑھ رہے ہیں اور پولیس بھی اس کی زد میں آ رہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔