
کم یو جونگ، تصویر/آئی اے این ایس
شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھتی جا رہی ہے اور دونوں ممالک جنگ کی طرف بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ تازہ ترین خبروں کے مطابق شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ اُن کی بہن کم یو جونگ نے جنوبی کوریا سے ملحقہ سرحد کا دورہ کیا ہے۔ اس دوران انھوں نے ان علاقوں کا جائزہ لیا جہاں شمالی کوریا کے فوجی سرحد پر حفاظتی انتظامات کو مزید مضبوط کر رہے ہیں۔ کم یو جونگ نے خبردار کیا کہ اگر جنوبی کوریا نے سرحد پر جاری اس کام میں کسی بھی طرح کی اشتعال انگیز کارروائی کی تو شمالی کوریا اس کا سخت جواب دے گا۔
قابل ذکر ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ ماہ پیش آنے والے ایک واقعہ کے بعد سے کشیدگی بڑھی ہوئی ہے۔ دراصل سرحد پر بچھائی گئی بارودی سرنگوں میں دھماکوں سے جنوبی کوریا کے 3 فوجی زخمی ہو گئے تھے۔ جنوبی کوریا کی فوج نے الزام لگایا تھا کہ یہ سرنگیں شمالی کوریا کی فوج نے بچھائی تھیں۔ جنوبی کوریا نے اس ماہ کے آغاز میں امریکہ کی قیادت والی اقوام متحدہ کی کمان کے ساتھ تحقیقات کرنے کے بعد 21 ستمبر کو سرحد پر ہونے والے دھماکوں کے لیے باضابطہ طور پر شمالی کوریا کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔
سیول نے شمالی کوریا سے اس واقعہ کے لیے معافی مانگنے اور سرحد پر بچھائی گئی باقی بارودی سرنگوں کو ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔ حالانکہ شمالی کوریا نے ان دھماکوں میں اپنے کسی بھی کردار سے انکار کیا تھا۔ ساتھ ہی اس نے خبردار کیا تھا کہ اگر اسے اکسایا گیا تو وہ سخت جوابی کارروائی کرے گا۔ شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کورین سینٹرل نیوز ایجنسی (کے سی این اے) کے مطابق کم یو جونگ نے منگل کو کورین پیپلز آرمی کے مارشل پاک جونگ چون کے ساتھ سرحدی علاقوں کا دورہ کیا۔ پاک جونگ چون شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ اُن کے اعلیٰ فوجی افسران میں شامل ہیں۔
اس دوران کم یو جونگ نے سرحد کو مزید مضبوط بنانے کے کام کو ایک عظیم مہم قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ مہم کم جونگ اُن کی اس پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت جنوبی کوریا کے ساتھ تمام تعلقات ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہے۔ کم جونگ اُن پہلے ہی جنوبی کوریا کو اپنا سب سے بڑا دشمن قرار دے چکے ہیں۔ امریکہ کے ساتھ سفارتی بات چیت میں جاری تعطل کے درمیان شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کے خلاف اپنا موقف مزید سخت کرلیا ہے۔ کم یو جونگ نے الزام لگایا کہ جنوبی کوریا کی فوج سرحد پر حفاظتی انتظامات مضبوط کرنے والے شمالی کوریا کے فوجیوں پر انتباہی فائرنگ کر رہی ہے اور لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے انھیں خبردار کر رہی ہے۔ جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جن یونگ سونگ نے بھی کم یو جونگ کی دھمکی کو ناقابل برداشت قرار دیا۔ انھوں نے فوج کو حکم دیا کہ شمالی کوریا کی جانب سے کسی بھی ممکنہ اشتعال انگیز کارروائی کا سختی سے جواب دیا جائے۔
توجہ طلب بات یہ ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران شمالی کوریا نے جنوبی کوریا سے ملحقہ سرحد پر حفاظتی انتظامات میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ یہاں بڑی تعداد میں بارودی سرنگیں بچھائی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ خاردار تاروں کی باڑ، ٹینکوں کو روکنے کے لیے رکاوٹیں اور دیگر حفاظتی ڈھانچے بھی تعمیر کیے گئے ہیں۔ دونوں ممالک کی یہ سرحد پہلے ہی دنیا کی سب سے زیادہ فوجی تعیناتی والی سرحدوں میں شامل ہے۔ جنوبی کوریا کی فوج کا کہنا ہے کہ اس سال سرحد پر حفاظتی ڈھانچے تعمیر کرنے کے دوران شمالی کوریا کے فوجی 50 مرتبہ فوجی حد بندی کی لکیر پار کر چکے ہیں۔ ایسے واقعات میں جنوبی کوریا نے انتباہ کے طور پر فائرنگ کی اور لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے وارننگ دی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔