
فائل تصویر آئی اے این ایس
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعہ کو اعلان کیا کہ امریکہ یورپی یونین(ای یو) کی تجارتی پالیسیوں کی باقاعدہ تحقیقات شروع کرے گا۔ ٹرمپ نے الزام لگایا کہ یورپی یونین نے گوگل، ایپل، میٹا اور ایمیزون سمیت متعدد امریکی ٹیک کمپنیوں پر اربوں ڈالر کے جرمانے عائد کرکے ان کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کیا ہے۔
ٹرمپ کا یہ اعلان یوروپی یونین کی جانب سے گوگل پر ڈیجیٹل مسابقت کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر 890 ملین یورو (تقریباً 1 بلین ڈالر) کا جرمانہ کرنے کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے۔ یورپی یونین کا الزام ہے کہ گوگل نے اپنے گوگل پلے اسٹور اور سرچ انجن کے ذریعے صارفین کو اپنی سروسز اور ایپس کی طرف موڑ کر مقابلے کو نقصان پہنچایا۔
سوشل میڈیا پر ایک طویل پوسٹ میں ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ پہلے بھی یورپی یونین کو امریکی کمپنیوں پر بھاری جرمانے عائد کرنے کے خلاف خبردار کر چکے ہیں۔ گوگل، ایپل، میٹا اور ایمیزون جیسی کمپنیوں کا نام لیتے ہوئے انہوں نے کہا، "امریکہ یورپ کی گلک نہیں ہے۔ ہم اپنی کمپنیوں کو لوٹنے نہیں دیں گے۔" ٹرمپ نے کہا کہ یورپی یونین اس "غیر قانونی اور غیر اخلاقی" رویے کی بھاری قیمت ادا کرے گی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی کمپنیوں پر عائد جرمانے بالآخر مکمل طور پر واپس لے لیے جائیں گے۔ ٹرمپ نے یہ اشارہ بھی دیا کہ امریکہ جلد ہی یورپی یونین کی مصنوعات پر بھاری محصولات عائد کرنے کے لیے اقدامات کر سکتا ہے۔
ٹرمپ کا یہ اعلان وائٹ ہاؤس کی جانب سے 60 سے زائد ممالک سے درآمدات پر نئے دوہرے ہندسے کے محصولات کے اعلان کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے۔ امریکہ کا الزام ہے کہ یہ ممالک جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات پر پابندیوں کو مؤثر طریقے سے نافذ نہیں کر رہے ہیں۔ یہ نئے ٹیرف پہلے عائد کیے گئے عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔