
ایران نے امریکہ کے ساتھ جاری بات چیت کے درمیان سخت موقف اختیار کیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ملک امریکہ کی ماضی کی وعدہ خلافیوں کو نہ بھولا ہے اور نہ بھولے گا۔ اس سے اسلام آباد میں بات چیت جاری رہنے کے باوجود گہرے عدم اعتماد کا پتہ چلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی نے بھی ایک راؤنڈ کی بات چیت میں نتیجے کی امید نہیں کی تھی۔
Published: undefined
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک تفصیلی پوسٹ میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’’ہمارے لیے سفارت کاری ایرانی سرزمین کے محافظوں کے مقدس جہاد کو جاری رکھنا ہے۔ ہم امریکہ کی وعدہ خلافیوں اور غلط کاموں کے تجربات کو نہ بھولے ہیں اور نہ ہی بھولیں گے۔ بالکل اسی طرح جیسے ہم دوسری اور تیسری مسلط کردہ جنگوں کے دوران ان کے اور صیہونی حکومت کی طرف سے کیے گئے سنگین جرائم کو معاف نہیں کریں گے۔‘‘ حالانکہ ایران مذاکرات کے آغاز سے قبل بھی یہ دوہراتا رہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ اعتماد کی کمی ہے۔
Published: undefined
اسماعیل بقائی نے مزید لکھا کہ ’’آج اسلام آباد میں ایران کے وفد کے لیے ایک مصروف اور طویل دن تھا۔ ہفتے کی صبح سے پاکستان کی اچھی کوششوں اور ثالثی سے شروع ہونے والی گہری بات چیت اب تک بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہے اور دونوں فریق کے درمیان کئی پیغامات اور متن کا تبادلہ ہوا ہے۔‘‘ ایرانی وفد کے پختہ ارادے پر زور دیتے ہوئے بقائی نے کہا کہ ’’ایرانی مذاکرات کار ایران کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے اپنی پوری قابلیت، تجربے اور معلومات کا استعمال کر رہے ہیں۔ ہمارے بزرگوں، عزیزوں اور ہم وطنوں کے بھاری نقصان نے ایرانی قوم کے مفادات اور حقوق کو آگے بڑھانے کے ہمارے ارادے کو پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط کر دیا ہے۔‘‘
Published: undefined
ایران کے سخت موقف کو دوہراتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’’کوئی بھی چیز ہمیں اپنے پیارے ملک اور عظیم ایرانی تہذیب کے لیے اپنے عظیم تاریخی مشن کو آگے بڑھانے سے نہیں روک سکتی یا روکنی نہیں چاہیے۔ ایران اپنے ملکی مفادات کو محفوظ بنانے اور ملک کی فلاح و بہبود کے تحفظ کے لیے سفارت کاری سمیت تمام طریقہ کار استعمال کرنے کا پختہ ارادہ رکھتا ہے۔‘‘ بقائی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں ہوئی بات چیت میں آبنائے ہرمز، ایٹمی پروگرام، جنگی ہرجانہ، پابندیوں میں ریلیف اور جاری علاقائی تنازعات کو ختم کرنے جیسے مخصوص موضوعات پر بات ہوئی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس سفارتی عمل کی کامیابی دوسری طرف کی سنجیدگی اور نیک نیتی، حد سے زیادہ مطالبات اور غیر قانونی اپیلوں سے بچنے اور ایران کے قانونی حقوق و مفادات کو تسلیم کرنے پر منحصر ہے۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ مذاکرات کے نئے دور کے اختتام پر، پاکستان کی تجویز پر ایران اور امریکہ کے درمیان ایک اور راؤنڈ کی بات چیت ہوگی، جس کے لیے وقت اور مقام کے بارے میں اب تک کچھ طے نہیں ہوا ہے۔ ہفتے کو مقامی وقت کے مطابق دوپہر 1 بجے شروع ہونے والی بات چیت 14 گھنٹے سے زیادہ جاری رہی اور اس میں مسلسل پیغامات اور ڈرافٹ ٹیکسٹ کا تبادلہ ہوا۔ ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ’تسنیم‘ کے مطابق یہ بات چیت مسلسل اختلافات کے درمیان ہوئی ہے۔ اگرچہ کچھ ابتدائی پیش رفت ہوئی ہے لیکن سنگین اختلافات برقرار ہیں، جس کی بنیادی وجہ ایران کا یہ کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے بے تکی اور بہت زیادہ شرائط رکھی گئی ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined