دیگر ممالک

اسرائیل پر تنقید کرنے والوں کو دبانے کے لیے امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسوں کا استعمال: عراقچی

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ کے فوجی مشیر نے کہا کہ ’’ایران نے اب تک جنگ کو ایک بڑے علاقائی اور بین الاقوامی بحران میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے صبر و تحمل سے کام لیا ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>عباس عراقچی / آئی اے این ایس</p></div>

عباس عراقچی / آئی اے این ایس

 

ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے دعویٰ کیا کہ امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسے کا استعمال اسرائیل پر تنقید کرنے والوں کو خاموش کرانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ ’ٹائم میگزین‘ کی ایک رپورٹ شیئر کرتے ہوئے عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’امریکی شہریوں کو غیر ملکی اثر و رسوخ کے حوالے سے خبردار کیا جا رہا ہے۔ لیکن، اس وسیع اسرائیلی مہم کا کیا، جس کے ذریعے امریکی حکومت کو ایک ایسی جنگ میں دھکیلنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جسے جیتا نہیں جا سکتا اور جسے منتخب کرنا امریکہ کی اپنی ترجیح بھی نہیں تھی؟‘‘

ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ’’اس سے بھی سنگین بات یہ ہے کہ اسرائیل پر امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسوں کا استعمال کر کے خود امریکہ کے اندر اپنے نقادوں کی آواز دبانے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔ یہ سب بہت جلد سب کے سامنے بے نقاب ہو جائے گا۔‘‘ واضح رہے کہ وزیر خارجہ عراقچی نے ’ٹائم میگزین‘ کے جس مضمون کی تصویر شیئر کی، اس میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ’میک امریکہ گریٹ اگین‘ مہم کے حامیوں کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی اثر و رسوخ والے آپریشن کے بارے میں بتایا گیا ہے۔

’ٹائم میگزین‘ میں شائع ہونے والے مضمون کا عنوان تھا ’ٹرمپ کے سابق کیمپین مینیجر ایم اے جی اے بیس کو نشانہ بنا کر ایک اسرائیلی اثر و رسوخ کا آپریشن چلا رہے ہیں۔‘ اس مضمون میں ’بریڈ پاسکل‘ کی تصویر بھی لگی ہے، جنہوں نے ڈونالڈ ٹرمپ کی 2020 کی صدارتی انتخابی مہم کو مینیج کیا تھا۔ دوسری طرف ایران پر امریکہ کے حملوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ ایران کے ایک اعلیٰ فوجی مشیر نے وارننگ دی ہے کہ اگر امریکہ ایران کے خلاف اگلے 2 سے 3 دنوں تک جنگ جاری رکھتا ہے، تو ملک جارحانہ اور تباہ کن مرحلے میں داخل ہو جائے گا۔

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے فوجی مشیر محسن رضائی نے سرکاری آئی آر آئی بی ٹی وی کے ساتھ انٹرویو کے دوران یہ وارننگ دی۔ انہوں نے کہا کہ جنگ اور مذاکرات دونوں کی بیک وقت پالیسی اب ختم ہو چکی ہے۔ نیوز ایجنسی ’سنہوا‘ کے مطابق انہوں نے سخت انتباہ دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اگر امریکہ کے حملے جاری رہے، تو ایران کی افواج صرف جوابی حملے تک ہی محدود نہیں رہیں گی اور امریکی بیسز اور فوجیں کسی بھی سیاسی سرحد کے اندر محفوظ نہیں رہیں گی۔

مجتبیٰ کے فوجی مشیر نے کہا کہ ایران نے اب تک جنگ کو ایک بڑے علاقائی اور بین الاقوامی بحران میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے صبر و تحمل سے کام لیا ہے۔ انہوں نے امریکہ پر الزام عائد کیا کہ اس نے جنگ کو علاقائی بحران میں بدلنے کے لیے غلط اندازہ لگایا ہے۔ رضائی نے وارننگ دی کہ اگر امریکہ ایران کے خلاف اپنی کارروائی جاری رکھتا ہے، تو ایران زمینی سطح پر فوج سمیت مزید فوجی صلاحیتیں تعینات کرے گا اور جنگ کا دائرہ بڑھ جائے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔