
فائل تصویر آئی اے این ایس
مشرق وسطیٰ میں ایک مرتبہ پھر جنگ کی آہٹ سنائی دے رہی ہے۔ امریکہ نے آبنائے ہرمز میں ایرانی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے اڈوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔ جس کے بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے تہران کو تازہ وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ بڑا حملہ ہونا ابھی باقی ہے۔ دوسری جانب ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس حملے کا جواب دے گا اور اس نے دیا بھی۔
امریکہ نے ایران پر پیر یعنی یکم ستمبرکوحملہ کیا ہے۔ جاری امن مذاکرات کے درمیان، امریکہ نے آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی اسلامی انقلابی گارڈ کور(آئی آر جی سی)کے اڈوں پر فضائی حملے کئے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ فوجی کارروائی ایران کی جانب سے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں اور خطے میں تعینات امریکی فوجیوں پر حالیہ حملوں کے جواب میں کی گئی۔
ایرانی مقامی میڈیا اور آئی آر جی سی سے وابستہ ٹیلی گرام چینلز کے مطابق، امریکی حملوں کے بعد جنوبی مشرقی ایران کے بڑے حصوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ چابہار، بندر عباس، کونارک، قشم، جسک، سریک اور مناب سمیت اہم ساحلی علاقے زوردار دھماکوں کی زد میں آئے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے بتایا کہ اس کی فورسز نے امریکی وقت کے مطابق رات 12 بجے آئی آر جی سی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا شروع کیا۔
دوسری جانب ایران کی فارس نیوز ایجنسی نے آئی آر جی سی کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی فوج نے "تکنیکی اور دیکھ بھال کے بنیادی ڈھانچے" اور ان علاقوں کو نشانہ بنایا جہاں "دشمن کے لڑاکا طیارے" اردن میں شاہ حسین امریکی فوجی اڈوں پر تعینات تھے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ اس حملے میں کافی نقصان ہوا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی ایران کے اقدامات کے خلاف جوابی کارروائی کا انتباہ دیا۔
تاہم ٹرمپ نے کہا کہ مذاکرات کا امکان ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا، "وہ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں، لیکن مجھے نہیں معلوم کہ ہم کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ان پر بھروسہ کر سکتے ہیں یا نہیں۔" ٹرمپ نے کہا کہ پابندیوں کا اثر اب شدت سے محسوس کیا جا رہا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔