
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ / آئی اے این ایس
امریکہ کے وسط مدتی انتخابات صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی مقبولیت کا امتحان بن گئے ہیں۔ انہوں نے مسلسل اپنے حامیوں سے اپیل کی تھی کہ وہ اس طرح ووٹ دیں، جیسے انتخابات میں خود ٹرمپ میدان میں ہوں۔ امریکی ووٹرز نے ان کی اس اپیل پر عمل تو کیا، لیکن انتخابی نتائج ٹرمپ اور ان کی ریپبلکن پارٹی کی امیدوں کے بالکل برعکس رہے۔ امریکی وقت کے مطابق منگل (ہندوستان میں بدھ) کو آنے والے انتخابی نتائج میں ڈیموکریٹک پارٹی نے کئی اہم ریاستوں میں بڑی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ جارجیا، ٹیکساس، اوہیو، مشیگن، نارتھ کیرولینا اور نیو ہیمپشائر جیسی ریاستوں میں ریپبلکن امیدواروں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ان نتائج کو ٹرمپ کی پالیسیوں اور ان کی قیادت کے خلاف عوامی ناراضگی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ انتخابات سے پہلے ہی مہنگائی، ایران کے ساتھ جنگ اور ٹرمپ کی گرتی ہوئی مقبولیت ریپبلکن پارٹی کے لیے مشکلات پیدا کر رہی تھیں۔ تقریباً 75 فیصد ووٹرز ملک کی موجودہ سمت و رفتار سے ناراض یا غیر مطمئن ہیں۔ علاوہ ازیں تقریباً 60 فیصد لوگوں نے ٹرمپ کے کام سے اختلاف کیا ہے۔ ڈیموکریٹس کی اس کامیابی سے اب امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کرنے کی ان کی امید بھی مضبوط ہوئی ہے۔
انتخابی نتائج سے اشارہ ملتا ہے کہ صدر ٹرمپ کی انتخابی حمایت کی بنیاد کمزور پڑ رہی ہے۔ 2024 کے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کی حمایت کرنے والے نوجوانوں اور ہسپانوی ووٹرز کا ایک بڑا حصہ اس بار ڈیموکریٹس کی طرف جاتا دکھائی دیا۔ رپورٹ کے مطابق 30 سال سے کم عمر والے ووٹرز میں تقریباً 70 فیصد نے اپنے علاقہ میں ڈیموکریٹک امیدوار کو ووٹ دیا۔ 2024 میں اسی عمر کے ووٹرز ٹرمپ اور کملا ہیرس کے درمیان تقریباً برابر تقسیم تھے۔
ہسپانوی ووٹرز میں بھی ریپبلکن پارٹی کی حمایت کم ہوئی ہے۔ تقریباً 60 فیصد ہسپانوی ووٹرز نے اپنے علاقہ میں ڈیموکریٹک امیدوار کی حمایت کی۔ اسی طرح تقریباً 70 فیصد ہسپانوی ووٹرز کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کی پالیسیوں سے امریکہ کی اقتصادی صورت حال خراب ہوئی ہے۔ تقریباً 60 فیصد ووٹرز نے مہنگائی کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کو ذمہ دار ٹھہرایا۔
انتخابی نتائج میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ووٹ دیتے وقت جن لوگوں نے ٹرمپ کو ذہن میں رکھا، ان میں ان کی پالیسیوں کی مخالفت کرنے والوں کی تعداد حمایت کرنے والوں سے تقریباً دو گنا تھی۔ تقریباً 70 فیصد ووٹرز چاہتے ہیں کہ کانگریس صدر کے اختیارات پر زیادہ کنٹرول رکھے۔ تقریباً 60 فیصد لوگوں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ ملک کے مفادات سے زیادہ اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔
بہرحال، ڈیموکریٹک پارٹی نے کئی ایسی ریاستوں میں کامیابی حاصل کی، جہاں 2024 کے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ نے بڑی برتری حاصل کی تھی۔ جارجیا، اوہیو اور ٹیکساس میں ڈیموکریٹس نے سینیٹ اور گورنر کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ ٹیکساس میں ٹرمپ نے 2024 میں 14 فیصد اور اوہیو میں 11 فیصد ووٹوں کی برتری سے کامیابی حاصل کی تھی۔ جارجیا میں ڈیموکریٹ کیشا لانس باٹمس ریاست کی پہلی سیاہ فام خاتون گورنر منتخب ہوئیں، جبکہ سینیٹر جان اوسوف نے دوبارہ انتخاب جیت لیا۔ نارتھ کیرولینا میں سابق گورنر رائے کوپر نے سینیٹ کا انتخاب جیت لیا۔ نیو ہیمپشائر میں کرس پاپاس نے کامیابی حاصل کی۔ وہ امریکی سینیٹ کے پہلے کھلے طور پر ہم جنس پرست رکن ہوں گے۔
اوہیو میں سابق سینیٹر شیروڈ براؤن نے ریپبلکن پارٹی کی نشست چھین لی۔ وہیں، گورنر کے انتخاب میں ایمی ایکٹن نے ٹرمپ کے قریبی ساتھی وویک راماسوامی کو شکست دے دی۔ ٹیکساس میں 37 سالہ ڈیموکریٹ لیڈر جیمس تالاریکو سینیٹ کے لیے منتخب ہوئے، جبکہ جینا ہینوجوسا نے 3 بار کے گورنر گریگ ایبٹ کو شکست دے کر ریاست کی پہلی لاطینی خاتون گورنر بننے کا تاریخ ساز کارنامہ انجام دیا۔ کنساس میں بھی ڈیموکریٹ ایڈم ہیملٹن نے ریپبلکن سینیٹر راجر مارشل کو شکست دے دی، اور ساؤتھ کیرولینا میں ٹرمپ کی جانب سے منتخب کی گئی امیدوار ڈارلین گراہم کو ڈیموکریٹ اینی اینڈریوز نے شکست دی۔ اسے ٹرمپ کے لیے خاص طور پر بڑا جھٹکا مانا جا رہا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔