
علامتی تصویر، سوشل میڈیا
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ کا اثر اب عالمی معیشت پر صاف دکھائی دینے لگا ہے۔ مختلف ممالک میں تیل کی قیمتیں 90 روپے سے لے کر 135 روپے فی لیٹر کے درمیان چل رہی ہیں۔ ایندھن کی قیمتوں میں تیز اضافہ اور توانائی کی سپلائی پر دباؤ کو لے کر امریکی اراکین پارلیمنٹ نے تشویش ظاہر کی ہے۔ بدھ کے روز پارلیمانی اجلاس کے دوران اراکین نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے علاقہ میں عدم استحکام عالمی تیل سپلائی کے لیے بڑا خطرہ بن گیا ہے۔
Published: undefined
میڈیا رپورٹس کے مطابق پارلیمانی کمیٹی کے سینئر رکن ایڈم اسمتھ نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں پیدا حالات کا معاشی اثر اب واضح طور پر دکھائی دینے لگا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’امریکہ میں گیس کی قیمتیں ایک ڈالر سے زیادہ بڑھ چکی ہیں۔‘‘ اسمتھ نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ بحران صرف امریکہ تک محدود نہیں ہے۔ درجنوں ممالک اس وقت پٹرول کی راشن بندی کر رہے ہیں اور اس جنگ کے سبب شدید معاشی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔
Published: undefined
اراکین پارلیمنٹ کے مطابق آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی میں کمی کے باعث عالمی سپلائی چین متاثر ہوئی ہے، جس سے ایندھن اور فرٹیلائزر کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ اس سے مہنگائی میں مزید اضافے کا اندیشہ ہے۔ دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اس فوجی مہم کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہر حالت میں کامیابی کے لیے لڑتے ہیں۔
Published: undefined
پینٹاگن کے حکام نے بتایا کہ اس جنگ پر اب تک تقریباً 25 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں۔ محکمۂ دفاع کے کنٹرولر جولز ڈبلیو ہرسٹ سوم کے مطابق اس رقم کا زیادہ تر حصہ اسلحوں اور فوجی کارروائیوں پر خرچ ہوا ہے۔ اراکین پارلیمنٹ نے حکام سے یہ بھی پوچھا کہ کیا بڑھتی ہوئی توانائی کی قیمتوں کے وسیع معاشی اثرات کا درست اندازہ لگایا جا رہا ہے۔
Published: undefined
جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین ڈین کین نے کہا کہ عالمی خطرات تیزی سے بڑھ رہے ہیں، کیونکہ اب یہ تنازعات براہ راست سیکورٹی اور معیشت دونوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل راستوں میں سے ایک ہے۔ یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ سے عالمی سپلائی فوراً متاثر ہوتی ہے اور قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
Published: undefined
موجودہ تنازعہ نے اس دباؤ کو مزید بڑھا دیا ہے، جس سے یہ تشویش گہری ہوتی جا رہی ہے کہ یہ صورتحال کب تک جاری رہے گی اور توانائی پر انحصار کرنے والے ممالک پر اس کے کتنے گہرے اثرات پڑیں گے۔ قابل ذکر ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام اور علاقائی اثر و رسوخ کو لے کر طویل عرصے سے کشیدگی رہی ہے۔ خلیجی خطے میں اس سے پہلے بھی ایسے بحران پیدا ہو چکے ہیں، جن کے باعث تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا ہے۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined