
امریکی صدر ٹرمپ / آئی اے این ایس
امریکہ کی ٹرمپ انتظامیہ نے غیرملکی طلبہ کے ویزا قوانین میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے دہائیوں پرانی ’ڈیوریشن آف اسٹیٹس‘ نظام ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نئے قانون کے تحت اب طلبہ اور ایکسچینج وزیٹر غیر معینہ مدت تک امریکہ میں نہیں رہ سکیں گے۔ انہیں اپنے تعلیمی پروگرام کی مدت تک، لیکن زیادہ سے زیادہ 4 سال کے لیے ہی امریکہ میں قیام کی اجازت دی جائے گی۔ امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکورٹی (ڈی ایچ ایس) نے اس سلسلے میں حتمی قانون جاری کر دیا۔ محکمہ کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی کا مقصد ویزا کے نظام میں شفافیت بڑھانا، مبینہ غلط استعمال کو روکنا اور قومی سلامتی کو مضبوط بنانا ہے۔
نئے قانون کے مطابق ایف (طالب علم)، جے (ایکسچینج وزیٹر) اور آئی (غیر ملکی میڈیا نمائندہ) زمرے کے نان امیگرنٹ ویزا ہولڈرز کے لیے اب مقررہ مدت تک قیام کا اصول نافذ ہوگا۔ اگر کسی طالب علم کو اپنی پڑھائی مکمل کرنے کے لیے اضافی وقت درکار ہو، تو اسے براہ راست امریکی شہریت اور امیگریشن سروسز (یو ایس سی آئی ایس) سے ایکسٹینشن آف اسٹے (ای او ایس) کے لیے درخواست دینی ہوگی۔ اس عمل میں بائیومیٹرک جانچ، بیک گراؤنڈ ویریفکیشن اور فراڈ اسکریننگ بھی شامل ہوگی۔
ایک اور اہم تبدیلی یہ ہے کہ پڑھائی مکمل ہونے کے بعد امریکہ چھوڑنے، ادارہ تبدیل کرنے یا ویزا کیٹیگری تبدیل کرنے کے لیے ملنے والے 60 دن کے گریس پیریڈ کو گھٹا کر 30 دن کر دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی تعلیمی پروگرام تبدیل کرنے کے قوانین بھی پہلے کے مقابلے میں زیادہ سخت کر دیے گئے ہیں۔
ڈی ایچ ایس کے سکریٹری مارکوین مولن نے کہا کہ تقریباً 5 دہائیوں پرانے نظام کی وجہ سے کئی غیر ملکی طلبہ مسلسل نئے نئے کورسز میں داخلہ لے کر برسوں تک امریکہ میں مقیم رہتے تھے۔ ان کے مطابق نئے نظام سے وفاقی حکومت کی نگرانی بڑھے گی اور یہ یقینی بنایا جائے گا کہ طلبہ اپنے اصل مقصد، یعنی پڑھائی مکمل کرنے کے بعد واپس لوٹیں۔ یہ قانون فیڈرل رجسٹر میں شائع ہونے کے 60 دن بعد نافذ ہوگا۔ فی الحال ’ڈیوریشن آف اسٹیٹس‘ نظام کے تحت امریکہ میں رہ رہے غیر ملکی طلبہ بھی خود بخود اس نئے نظام کے دائرے میں آ جائیں گے اور قانون نافذ ہونے کی تاریخ سے ان کے قیام کی زیادہ سے زیادہ حد 4 سال ہوگی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔