امریکہ-ایران کشیدگی، قومی آواز گرافکس
وسط مدتی انتخابات سے قبل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے جزیرہ قشم پر بمباری کی ہے۔ اس حملے کی اطلاع امریکی حکام نے دی۔ ان کے مطابق امریکہ نے ڈرون حملہ کیا ہے۔ اس حملے کا جواب ایرانی سیکورٹی فورسز کی جانب سے بھی دیا گیا ہے۔ امریکی حملے کے حوالے سے ایرانی خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ نے اطلاع دی ہے کہ ایران کے جزیرہ قشم پر کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے 2 نومبر کو جزیرہ قشم پر حملہ کیا۔ یہ جزیرہ آبنائے ہرمز میں واقع ہے۔ دراصل گزشتہ چند ہفتوں کے دوران واشنگٹن کی جانب سے کئی بار محدود حملے کیے گئے، اور تازہ حملہ اسی کا سلسلہ معلوم پڑتا ہے۔ یہ حملے چھوٹے پیمانے پر کیے گئے ہیں اور قصداً انہیں خفیہ رکھا گیا ہے، تاکہ ایران کے خلاف بڑے فوجی آپریشن دوبارہ شروع کیے جانے کے ارادے کا اشارہ نہ مل سکے۔ حالانکہ تازہ حملہ گزشتہ حملوں سے شدید بتایا جا رہا ہے۔
فی الحال ان حملوں کے حوالے سے امریکی سینٹرل کمانڈ نے کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے پوچھا گیا تھا کہ کیا وہ ایران کے خلاف فوجی حملے دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی پر عمل کریں گے؟ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا تھا کہ تہران کے ساتھ کوئی معاہدہ ہو سکتا ہے۔ اس سے قبل ذرائع کے حوالے سے میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر ایک اور حملے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جہاں ایران کے ساتھ مکمل جنگ کی صورت پیدا ہونے سے نیتن یاہو کو ایک ہنگامی حکومت تشکیل دینے میں مدد مل سکتی ہے، وہیں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو بھی وسط مدتی انتخابات میں فائدہ ہو سکتا ہے۔
امریکہ میں آج وسط مدتی انتخابات کرائے جائیں گے۔ ہندوستانی وقت کے مطابق آج شام ساڑھے 4 بجے سے ووٹنگ شروع ہوگی۔ ٹرمپ کے لیے سینیٹ اور ایوان نمائندگان میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کا چیلنج ہے۔ انہوں نے ووٹنگ سے قبل ہی ایران پر بمباری کی ہے۔ وہ مسلسل ایران پر بڑے حملے کرنے کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں۔ دوسری جانب ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے ایک بڑا دعویٰ کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں جزیرہ قشم کے جنوب میں امریکہ کے 2 ڈرون مار گرائے ہیں۔ آئی آر جی سی کی ایرو اسپیس فورس نے ان دونوں ایم کیو ایم-170 ڈرون کے خلاف الیکٹرانک وارفیئر سسٹم کا استعمال کیا۔ اس کے ساتھ ہی ایرانی فورسز کے ذریعے پکڑے گئے اس طرح کے ڈرونز کی مجموعی تعداد اب 4 ہو گئی ہے۔
یہ تازہ حملے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں، جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان بالواسطہ طور پر سفارتی بات چیت جاری ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کے روز کہا تھا کہ دونوں ممالک ثالثوں کے ذریعے ایک دوسرے کو پیغامات بھیج رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی تھی کہ نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے قطر کی ثالثی کے ذریعے بات چیت کو آگے بڑھانے کے لیے دوحہ کا دورہ کیا تھا۔ امریکہ اور اسرائیل نے اس سال 28 فروری کو ایران کے خلاف حملے شروع کیے تھے، اور جواب میں تہران نے اس خطے میں موجود اسرائیلی اور امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔ بعد ازاں اپریل میں فریقین کے درمیان جنگ بندی ہو گئی تھی۔ امریکہ اور ایران نے 18 جون کو آبنائے ہرمز میں ’ نیویگیشن آف فریڈم‘ کے حوالے سے ایک مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے تھے، لیکن آبنائے ہرمز کی سلامتی کے معاملے پر اختلافات کے سبب اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔