
ڈین ڈرسکول، تصویر/آئی اے این ایس
امریکی آرمی سکریٹری ڈین ڈرسکول نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے پیر کو اس کی تصدیق کی۔ تقریباً 18 ماہ تک عہدے پر رہنے والے ڈرسکول کا استعفیٰ ایسے وقت میں آیا ہے، جب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے ساتھ ان کے تناؤ کی خبریں مسلسل سامنے آتی رہی ہیں۔ حالانکہ وائٹ ہاؤس نے ان کے عہدہ چھوڑنے کی کوئی وجہ نہیں بتائی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایک امریکی فوجی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ڈرسکول نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے امریکی فوج کی صورت حال کے حوالے سے بات چیت کی اور اس کے بعد اپنا استعفیٰ پیش کر دیا۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے کہا کہ ڈرسکول نے فوج میں ٹرمپ کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے، فوجی تیاری اور صلاحیت کو مضبوط بنانے اور روس-یوکرین جنگ ختم کرانے کے لیے ہونے والی بات چیت میں اہم کردار ادا کیا۔
واضح رہے کہ وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اپریل میں فوج کے اعلیٰ افسر جنرل رینڈی جارج کو عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ اس کے بعد جون میں یورپ اور افریقہ میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل کرسٹوفر ڈوناہیو بھی اچانک عہدے سے ہٹ گئے۔ اب ڈین ڈرسکول کا استعفیٰ ٹرمپ انتظامیہ میں آرمی سے متعلق تیسرا بڑا استعفیٰ ہے۔ ڈرسکول کو رینڈی جارج کا قریبی ساتھی مانا جاتا تھا اور وہ ان کے ہٹائے جانے پر مایوسی کا اظہار بھی کر چکے تھے۔ انہوں نے اپریل میں کانگریس میں کہا تھا کہ استعفیٰ دینے کے بعد وہ اپنے خاندان کے ساتھ جارج کے گھر گئے تھے۔
واضح رہے کہ فوج نے اس ڈرون جدید کاری پروگرام کو بھی بند کرنے کا فیصلہ کیا، جس کی ڈرسکول حمایت کرتے تھے۔ یورپ میں فوج کی ایک یونٹ کو اپنے ڈرون بنانے کا کام روک کر دوبارہ روایتی انفنٹری بٹالین کے طور پر کام کرنے کی ہدایت دی گئی۔ ڈرسکول عراق جنگ کے سابق فوجی، ٹیکنالوجی سرمایہ کار اور نائب صدر جے ڈی وینس کے سابق مشیر ہیں۔ دونوں کی ملاقات ییل لا اسکول میں ہوئی تھی۔ ٹرمپ نے 2024 میں ان کی نامزدگی کے وقت انہیں تبدیلی لانے والا رہنما قرار دیا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ آرمی سیکریٹری کی حیثیت سے ڈرسکول کو روس-یوکرین جنگ ختم کرانے کے لیے ہونے والی بات چیت میں اہم ذمہ داری دی گئی تھی۔ انہوں نے ڈرون اور اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی تیزی سے تیار کرنے کے لیے فوجی ٹھیکیداروں کے لیے قوانین کو آسان بنانے کی کوشش کی تھی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔