
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ
الاسکا پائپ لائن پروجیکٹ معاملے میں جنوبی کوریا کی جانب سے منظوری نہ ملنے پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وارننگ دی ہے، اور کہا ہے کہ اگر وہ اس پروجیکٹ پر جلد دستخط نہیں کرتا ہے تو اسے بڑی قیمت ادا کرنی ہوگی۔ ابتدا میں ٹرمپ نے کہا کہ اگر جنوبی کوریا اس پروجیکٹ میں شامل نہیں ہونا چاہتا ہے تو انہیں پریشانی نہیں ہے۔ حالانکہ جب ایک صحافی نے بتایا کہ سیئول نے ابھی تک اس پروجیکٹ کو منظوری نہیں دی ہے، تو ٹرمپ کا رویہ سخت ہو گیا۔
ٹرمپ نے صحافیوں سے کہا کہ انہیں بتا دو کہ اگر انہوں نے جلد دستخط نہیں کیے تو میں اسے دوگنا کر دوں گا۔ یہ بحث اس وقت شروع ہوئی، جب وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ سے الاسکا پائپ لائن کے حوالے سے جنوبی کوریا کے موقف سے متعلق سوال کیا گیا۔ ایک صحافی نے کہا کہ جنوبی کوریا نے کہا ہے کہ اس نے ابھی تک اس الاسکا پائپ لائن کو منظوری نہیں دی ہے۔ وہ اب بھی اس پر غور کر رہا ہے۔ کیا آپ نے جلد بازی میں کوئی بیان دے دیا؟
ٹرمپ نے کہا کہ نہیں، میں نے جلد بازی نہیں کی۔ اگر وہ یہ نہیں کرنا چاہتے تو مجھے کوئی پریشانی نہیں ہے۔ میں بس ان سے زیادہ قیمت وصول کروں گا۔ صحافی نے جواب دیا کہ جنوبی کوریا نے کہا ہے کہ وہ اب بھی اس تجویز پر غور کر رہا ہے۔ اس کے بعد ٹرمپ نے وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر سیئول نے جلد معاہدے پر دستخط نہیں کیے تو قیمت دوگنی کی جا سکتی ہے۔ حالانکہ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کس قیمت یا رقم کو دوگنا کرنے کی بات کر رہے تھے۔ انہوں نے جنوبی کوریا کو فیصلہ لینے کے لیے وقت کی حد بندی بھی نہیں کی ہے۔
الاسکا ایل این جی پروجیکٹ کے تحت الاسکا کے نارتھ اسلوپ سے قدرتی گیس کو ایک پائپ لائن کے ذریعے ریاست کے جنوبی حصے میں موجود ایل این جی سہولت تک پہنچانے کا منصوبہ ہے۔ وہاں قدرتی گیس کو لیکویفائیڈ نیچرل گیس (ایل این جی) میں تبدیل کرکے بیرون ملک برآمد کیا جا سکے گا۔ ایشیائی ممالک کو اس پروجیکٹ کے ممکنہ خریداروں کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے، کیونکہ اس خطے کی کئی معیشتیں اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمد شدہ توانائی پر انحصار کرتی ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔