
ڈونالڈ ٹرمپ / آئی اے این ایس
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور سی آئی اے کے سرابراہ جان ریٹکلف کو عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ افسران نے یہ معلومات یہودی میڈیا ’اسرائیل ہیوم‘ کو دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس سے وابستہ ایک افسر کا کہنا ہے کہ یہ دونوں ایران معاہدے کی مخالفت کر رہے تھے۔ انہیں اب اس کی ذاتی طور پر قیمت چکانی پڑ سکتی ہے۔
Published: undefined
واضح رہے کہ پیٹ ہیگستھ کی کرسی پر طویل عرصے سے خطرہ منڈلا رہا ہے۔ کچھ روز قبل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے عوامی طور پر کہا تھا کہ اگر ایران میں مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہوئے تو اس کی ذمہ داری ہیگستھ پر ہوگی۔ ٹرمپ کے مطابق ہیگستھ کے کہنے پر ہی ایران پر حملہ کیا گیا تھا۔ اس سے قابل امریکی میڈیا آؤٹ لیٹ ’ایکسیوس‘ نے ایک رپورٹ کی تھی۔ اس کے مطابق اتوار (14 جون) کو ٹرمپ نے سینئر افسران کی میٹنگ بلائی تھی۔ اس میٹنگ میں ہیگستھ اور جان ریٹکلف نے ایران معاہدے کی مخالفت کی تھی، حالانکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے معاہدہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
Published: undefined
ڈونالڈ ٹرمپ نے مارچ 2026 کے آخر میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ایران کے خلاف جنگ چاہنے والوں میں ہیگستھ سب سے آگے تھے۔ انہیں اس کی ذمہ داری بھی لینی ہوگی۔ ہیگستھ کے کہنے پر ہی جنگ کی شروعات کی گئی تھی۔‘‘ سی این این کے مطابق ٹرمپ کی ٹیم میں صرف نائب صدر جے ڈی وینس نے جنگ کی مخالفت کی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ وینس کو ایران کے ساتھ مذاکراتی ٹیم کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔ دوسری جانب امریکی کانگریس میں ہیگستھ پر سوال بھی اٹھ چکے ہیں۔ ہیگستھ کے خلاف کئی ڈیموکریٹک اراکین پارلیمنٹ عدم اعتماد کی تحریک لانے کی تیاری بھی کر چکے ہیں۔ حالانکہ مطلوبہ تعداد نہ ہونے کی وجہ سے یہ تحریک اب تک پیش نہیں کی جا سکی ہے۔
Published: undefined
رپورٹ کے مطابق ایران سے معاہدے کو لے کر ٹرمپ کی ٹیم میں پھوٹ پڑ گئی ہے۔ ایک طرف جہاں ہیگستھ، ریٹکلف اور وزیر خارجہ مارکو روبیو معاہدے کے خلاف ہیں۔ دوسری جانب جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکاف اور جیرڈ کوشنر نے معاہدے کی حمایت کی ہے۔ وینس اور وٹکاف کی وجہ سے ہی ایران معاہدے میں امریکہ نے اسرائیل کو اکیلے چھوڑ دیا، جس کے باعث نیتن یاہو اور ٹرمپ کے درمیان اختلافات کی خبریں آ رہی ہیں۔ منگل (16 جون) کو پیرس میں ٹرمپ نے عوامی طور پر اسرائیل پر تنقید کی تھی۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ حزب اللہ کے خلاف اسرائیل سے بہتر شام لڑ سکتا ہے۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined