دیگر ممالک

امریکہ میں وسط مدتی انتخاب سے قبل ایران پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہے ٹرمپ! تازہ بیان سے نئی ہلچل شروع

ٹرمپ نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی معیشت مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق ایران میں مہنگائی تقریباً 300 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ، تصویر (ویڈیو گریب)</p></div>

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ، تصویر (ویڈیو گریب)

 

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے درمیان ایک بڑا دعویٰ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ یہ جنگ بہت جلد جیت جائے گا۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ میں ہونے والے وسط مدتی انتخاب سے قبل ایران پر دوبارہ حملے کیے جا سکتے ہیں۔ حالانکہ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ حملہ کب کیا جائے گا۔ ٹرمپ نے اتوار کے روز  پی جی اے ٹور پریزیڈنٹس کپ کے دوران ’فاکس نیوز‘ سے ان خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جیسے ہی جنگ ختم ہوگی، دنیا میں تیل کی قیمتیں بہت کم ہو جائیں گی۔ ان کے مطابق تیل کی قیمتیں جنگ شروع ہونے سے قبل جتنی تھیں، اتنی ہی ہو سکتی ہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کا سب سے بڑا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وسط مدتی انتخاب سے قبل ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کی جا سکتی ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ ’’یہ ممکن ہے، لیکن میں اس سے متعلق مزید کچھ نہیں بتانا چاہتا۔‘‘ ٹرمپ نے ’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایران پر فوجی دباؤ اور اقتصادی پابندی، دونوں کے ذریعہ آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ فوجی سطح پر پہلے ہی جیت چکا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ کارروائی روک دی گئی ہے۔

ٹرمپ نے ایران کی معیشت کے حوالے سے بھی اپنی رائے ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی معیشت مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق ایران میں مہنگائی تقریباً 300 فیصد تک پہنچ گئی ہے اور انہیں صبح ملی اطلاع میں یہ اعداد و شمار 318 بتایا گیا ہے۔ انہوں نے ایران کی کرنسی، معیشت اور فوج کو شدید بحران کا شکار قرار دیا۔ وہیں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ’این بی سی نیوز‘ کے پروگرام میں کہا کہ ان کا ملک امریکہ کے ساتھ دوبارہ جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران ’ڈومس ڈے وار‘ یعنی بے حد تباہ کن جنگ کے لیے بھی تیار ہے۔

عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کو امریکہ کے مڈ ٹرم الیکشن کی فکر نہیں ہے، اس کے لیے قومی مفاد اشد ضروری ہے۔ حالانکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران ڈپلومیسی کے لیے تیار ہے اور امن و سلامتی کا کوئی بھی موقع چھوڑنا نہیں چاہتا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی ایرانی تجویز کو عوامی طور پر مسترد کر دیا ہے، لیکن ایران کو اب تک سفارتی ذرائع کے ذریعہ اس سے متعلق باضابطہ اطلاع نہیں ملی ہے۔ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران چاہتا ہے کہ اس کے منجمد کیے گئے پیسے اور املاک واپس ملیں اور اسے اپنا تیل فروخت کرنے کی اجازت دی جائے۔ ان کے مطابق جون میں ہوئی عارضی جنگ بندی کے ایم او یو میں بھی یہ شرطیں تھیں۔ حالانکہ بعد میں فریقین کے حملوں کی وجہ سے معاہدہ ٹوٹ گیا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔