
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ
فلوریڈا کے ڈیٹونا بیچ میں ایک انتخابی ریلی کے دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے اپنے فیصلے کا ایک بار پھر دفاع کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزشتہ 7 ماہ قبل کے مقابلے اب کہیں زیادہ تیل آرہا ہے۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ امریکہ نے ایرانی بحریہ اور فضائیہ کو تباہ کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے ’آپریشن مڈنائٹ ہیمر‘ اور ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے ذریعے ایران کی جوہری افزودگی کی صلاحیت کو پوری طرح تباہ کر دیا۔ ہم نے اسے فوجی، اقتصادی اور دیگر محاذ پر شکست دی۔ اب ہم صرف ایک بات یقینی بنا رہے ہیں کہ ایران کے پاس کبھی بھی کوئی جوہری ہتھیار نہ ہو اور ہم یہ کام بہت آسانی سے کر دکھائیں گے۔
انہوں نے اس بات سے بھی انکار کیا کہ امریکہ نے یہ جنگ شروع کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسی جنگ ہے، جسے ایران نے کئی برسوں قبل شروع کیا تھا اور ایران 1979 سے ہی امریکہ کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ انہوں نے توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ہونے والی تنقید کو بھی پوری طرح مسترد کر دیا۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے اب 7 ماہ پہلے کے مقابلے کہیں زیادہ تیل آ رہا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق ان کے ڈیموکریٹ پیش روؤں کے دور حکومت کے مقابلے میں پٹرول کی قیمتیں کافی کم ہو گئی ہے۔
ٹرمپ نے جنگ کے اخراجات پر تنقید کرنے کے لیے ڈیموکریٹک کانگریس رکن رو کھنہ کو بھی نشانہ بنایا۔ ٹرمپ نے بتایا کہ کھنہ نے شکایت کی تھی کہ ہم نے ایران پر 25 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں۔ لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وینزویلا میں ہم نے اس سے تقریباً 10 گنا زیادہ کمائی کی ہے۔ جنوری میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد امریکہ نے وہاں کے تیل شعبے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔