
فائل تصویر آئی اے این ایس
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعہ کو اعلان کیا کہ وہ وائٹ ہاؤس میں سی این این، ایم ایس ناؤاور پولیٹیکو پر پابندی لگا دی ہے ۔ ٹرمپ کے مطابق ان کی کوریج ان کے حق میں نہیں تھی۔ انہوں نے یہ دھمکی بھی دی کہ مستقبل میں میڈیا کے دیگر اداروں پر بھی ایسی ہی پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔ انہوں نے لکھا، "میں وائٹ ہاؤس میں سی این این، ایم ایس ناؤاور پولیٹیکو پر پابندی لگا رہا ہوں کیونکہ وہ مسلسل 'جعلی خبریں' رپورٹ کر رہے ہیں۔" ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے سی این این کو’فیک نیوز سی این این ‘ کہا۔ ایم ایس ناؤ کے بارے میں، انہوں نے کہا کہ انہوں نے کم ناظرین اور اعتبار کی وجہ سے اپنے نیٹ ورک کا نام ’ایم ایس این بی سی‘ رکھ دیا ہے۔
پولیٹیکو کے حوالے سے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ جو بائیڈن انتظامیہ کے دوران پولیٹیکو کو امریکی حکومت سے تقریباً 8 ملین ڈالر کی سبسکرپشن ملی۔ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں اسے ’’کرپشن‘‘ قرار دیا۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ مستقبل میں میڈیا کے دیگر اداروں کے خلاف بھی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا اداروں کو صدر، انتظامیہ یا امریکہ کے بارے میں جھوٹی یا من گھڑت خبریں نہیں پھیلانی چاہئیں۔
اس فیصلے کے حوالے سے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’’ہمارے ملک کو حقیقی خبروں کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایک منصفانہ اور ایماندار پریس کی ضرورت ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ ان کی رپورٹنگ کتنی جعلی ہے۔ یہ یک طرفہ ہے۔‘‘ ٹرمپ طویل عرصے سے خبروں کی کوریج سے ناخوش ہیں ۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ٹرمپ انتظامیہ نے ایسا فیصلہ لیا ہو۔ وہ پہلے بھی ایسے ہی فیصلے کر چکے ہیں۔
نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع خبر کے مطابق ٹرمپ کی صحافیوں کے ساتھ تنازعات کی ایک طویل تاریخ ہے۔ جنوری 2025 میں صدر بننے کے بعد سے، انہوں نے پریس پر اپنی تنقید کو تیز کر دیا ہے۔ انہوں نے بارہا ایسے میڈیا اداروں کو نشانہ بنایا جن کے پروگراموں میں ان کی حکومت پر تنقید ہوتی ہے۔ وہ سوشل میڈیا کے ذریعہ بارہا صحافیوں اور میڈیا اداروں کو نشانہ بنا چکے ہیں۔ صدر کے طور پر اپنی دوسری مدت کے بعد سے، ٹرمپ نے کئی میڈیا اداروں کے خلاف قانونی کارروائی کی ہے، جن میں دی نیویارک ٹائمز، دی وال سٹریٹ جرنل، اور بی بی سی شامل ہیں۔ ان مسائل نے میڈیا اور پریس کی آزادی پر مسلسل سوالات اٹھائے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔