
علامتی تصویر، اے آئی
لندن کے ’گیٹوک‘ ایئرپورٹ پر اتوار کو مسافروں کو کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس پریشانی کی وجہ کچھ اور نہیں بلکہ پانی کی قلت تھی۔ رپورٹس کے مطابق واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ میں بجلی گل ہو گئی، جس کی وجہ سے پورے ایئرپورٹ پر پانی کی سپلائی متاثر ہوئی۔ یہاں تک کہ ایئرپورٹ کے بیت الخلاء میں بھی پانی نہیں تھا۔ ایئرپورٹ کے حکام کے مطابق پانی کی سپلائی نہ ہونے کی وجہ سے دونوں ٹرمینلز میں بیت الخلاء، ریسٹورنٹ اور بار بند کرنے پڑے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ وہ مقامی واٹر کمپنی کے ساتھ مل کر جلد از جلد خدمات بحال کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
پانی کی سپلائی کرنے والی کمپنی ’ایس ای ایس واٹر‘ کے مطابق اس کے ’باؤ بیچ واٹر ٹریٹمنٹ ورکس‘ میں بجلی گل ہو گئی تھی، جس کی وجہ سے پانی کے دباؤ میں شدید کمی آئی اور کینٹ اینڈ سسیکس کاؤنٹیز کے کچھ علاقوں کے ساتھ ہی ایئرپورٹ پر بھی پانی کی سپلائی رک گئی۔ کمپنی نے کہا کہ جلد از جلد خدمات بحال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب ایئرپورٹ انتظامیہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے اس پریشانی کے لیے مسافروں سے معافی مانگی۔ پوسٹ میں ایئرپورٹ انتظامیہ نے کہا کہ ’’پانی کی سپلائی میں آنے والی خرابی کی وجہ سے اب بھی پریشانی ہو رہی ہے۔ فی الحال دونوں ہی ٹرمینلز میں پانی کی سپلائی نہیں ہو رہی ہے۔ ہمارے ملازمین مسافروں کی مدد کے لیے موجود ہیں اور ضرورت پڑنے پر ہر ممکن امداد فراہم کر رہے ہیں۔‘‘
انتظامیہ نے مزید کہا کہ کچھ ریسٹورنٹ پارٹنر نے اپنے دروازے کھول دیے ہیں تاکہ مسافر وہاں آرام سے بیٹھ سکیں اور انہیں بیٹھنے کے لیے زیادہ جگہ مل سکے۔ اس زحمت کے لیے ہم معافی چاہتے ہیں اور سپلائی کو جلد از جلد بحال کرنے کے لیے @SESWater کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ جیسے ہی مزید معلومات ملے گی، ہم آپ کو اپڈیٹ فراہم کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی انتظامیہ نے یہ بھی بتایا کہ ایئرپورٹ پر مسافروں اور ملازمین کے لیے بوتل بند پانی دستیاب کرایا جا رہا ہے۔
حالانکہ مسافروں نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پانی بند ہونے کے بارے میں انہیں پہلے سے کوئی اطلاع نہیں ملی تھی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایئرپورٹ پر کوئی بھی پانی کی بوتلیں بانٹتا ہوا نظر نہیں آیا۔ ایک مسافر پال نے کہا کہ ’’جن لوگوں کو بیت الخلاء جانا ہے، ان کے لیے یہ صورتحال بالکل ٹھیک نہیں ہے۔ میری پرواز جلد ہی روانہ ہونے والی ہے، اس لیے مجھے کوئی خاص مسئلہ نہیں ہے، لیکن جن مسافروں کی پروازوں میں کچھ گھنٹے باقی ہیں، ان کے لیے یہ بڑی پریشانی کا باعث بنے گا۔‘‘
دوسری طرف سابق رکن پارلیمنٹ مائیکل ڈوگر نے بھی سوشل میڈیا پر اس حوالے سے سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’بار اور ریسٹورنٹس بند ہونے کی وجہ سے لوگوں کے پاس بیٹھنے کی جگہ نہیں ہے، جس کے باعث مسافر فرش پر بیٹھنے پر مجبور ہیں۔‘‘ انہوں نے ایئرپورٹ انتظامیہ سے اپیل کی کہ وہ مسافروں کے بیٹھنے کے لیے ان بند پڑے ریسٹورنٹس اور بار کو کھول دیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔