دیگر ممالک

مراکش سے ہزاروں مہاجرین کا سیلاب سیکورٹی گھیرا توڑ کر اسپین میں ہوا داخل، 9 لوگوں کی موت، اٹلی بھی الرٹ

اس دراندازی نے مقامی پولیس کو بے بس کر دیا ہے۔ ان حالات نے افریقہ کے ساتھ یورپی یونین کی واحد زمینی سرحد پر سیکورٹی خدشات ایک بار پھر بڑھا دیے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>اسپین میں غیر قانونی طریقے سے داخل ہوتے مہاجرین، تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/AliBradleyTV">@AliBradleyTV</a></p></div>

اسپین میں غیر قانونی طریقے سے داخل ہوتے مہاجرین، تصویر ’ایکس‘ @AliBradleyTV

 

اسپین کے ’سیوٹا‘ کی سرحد پر 30 جولائی کو اس وقت عجیب صورت حال پیدا ہو گئی، جب ہزاروں کی تعداد میں مہاجرین سرحد پر تعینات سیکورٹی فورسز کو چکمہ دے کر اور انہیں دھکیلتے ہوئے سیوٹا میں داخل ہو گئے۔ 2021 کے بعد اسپین میں یہ اب تک کا سب سے بڑا ’مہاجرین کا بحران‘ مانا جا رہا ہے۔ اسپین کے حکام نے اسپین میں داخل ہونے والے مہاجرین کوئی تعداد جاری نہیں کی ہے، لیکن اسپین کے سرکاری براڈکاسٹر ’ٹی وی اے‘ نے اندازہ ظاہر کیا ہے کہ محض چند گھنٹوں میں 2,000 سے 3,000 مہاجرین مراکش سے سیوٹا کی سرحد میں داخل ہو چکے ہیں۔ کئی مہاجرین نے سمندر کے راستے تیر کر بھی سرحد پار کی، جبکہ کئی افراد مراکش اور اسپین کو الگ کرنے والی سرحدی حفاظتی باڑ توڑ کر اندر داخل ہو گئے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس افراتفری میں 9 افراد کی موت بھی ہو گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس دراندازی نے مقامی پولیس کو بے بس کر دیا ہے۔ ان حالات نے افریقہ کے ساتھ یورپی یونین کی واحد زمینی سرحد پر سیکورٹی خدشات ایک بار پھر بڑھا دیے ہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ویڈیوز میں مہاجرین کو لائف جیکٹس اور عارضی ٹیوبوں کے سہارے سمندر کے راستے تاراجال بند کے آس پاس تیرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ کچھ ایسی بھی ویڈیوز سامنے آئی ہیں، جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کچھ لوگوں نے سرحد کا دروازہ زبردستی کھول دیا اور دوڑ کر سیوٹا میں داخل ہو گئے۔ سرحد پار کرتے وقت کچھ مہاجرین کو ’اسپین زندہ باد‘ کے نعرے لگاتے بھی سنا گیا۔

حالات کو بگڑتا دیکھ کر سیوٹا کے علاقائی سربراہ خوان خیسوس ویواس نے مرکزی حکومت سے ایمرجنسی کا اعلان کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے امن و امان بحال کرنے کے لیے فوج تعینات کرنے اور مراکش سے ملحق سرحد کو عارضی طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس بحران پر اسپین کے وزیر اعظم پیدرو سانچیز نے کہا کہ حکومت اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم ضروری وسائل متحرک کر رہے ہیں، مراکش اور بین الاقوامی حکام کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں اور جلد از جلد معمول کی صورت حال بحال کرنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔‘‘

مراکش سے بڑی تعداد میں مہاجرین کے اسپین میں داخل ہونے کے بعد ’سنگین انسانی اور سماجی ایمرجنسی‘ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ سیوٹا کے علاقائی لیڈر خوان خیسوس ویواس کے مطابق مہاجرین کے قیام کے مراکز پوری طرح بھر چکے ہیں اور سینکڑوں افراد کو کھلے آسمان تلے سونے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ والدین کے بغیر آنے والے نابالغ بچوں کے قیام کے مراکز اپنی گنجائش سے 2,400 فیصد زیادہ بھر چکے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ فی الحال روزانہ اوسطاً 300 مہاجرین سیوٹا کی سرحد میں داخل ہو رہے ہیں۔ اس سے مئی 2021 جیسے بحران کے دوبارہ پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے، جب چند ہی دنوں میں تقریباً 10,000 افراد یہاں داخل ہو گئے تھے۔ اس سنگین بحران سے نمٹنے کے لیے خوان خیسوس ویواس نے مرکزی حکومت سے فوری اور مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اسپین کے وزیر داخلہ فرنانڈو گرانڈے-مارلاسکا مقامی حکام اور سیکورٹی ایجنسیوں سے ملاقات کے لیے سیوٹا کا دورہ کرنے والے ہیں۔ اسپین کی حکومت کا کہنا ہے کہ سرحدی سیکورٹی مضبوط کرنے اور انسانی امداد پہنچانے کے لیے کئی وزارتیں مل کر کام کر رہی ہیں، وہیں مراکش کی سیکورٹی فورسز بھی دراندازی روکنے میں اسپین کا تعاون کر رہی ہیں۔ اسپین کی وزارت داخلہ نے کہا کہ غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے لوگوں کو فوری طور پر واپس بھیجا جائے گا۔ وزارت نے اس دراندازی کے لیے انسانی اسمگلنگ کے نیٹورک کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

اس فکر انگیز حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اٹلی بھی الرٹ ہے۔ اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے سیوٹا کی تصویروں پر فکر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بے قابو غیر قانونی ہجرت یوروپ کی سرحدی سیکورٹی کے لیے سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا ہے کہ ’’سیوٹا سے سامنے آ رہی تصویریں فکر انگیز ہیں اور یہ ثابت کرتی ہیں کہ غیر قانونی ہجرت یوروپ کی سرحدوں کے لیے حقیقی خطرہ ہے۔‘‘ میلونی نے کہا کہ انھوں نے وزیر داخلہ ماٹیو پیانتیدوسی سے بات چیت کی ہے اور اٹلی سے متعلق ایجنسیوں کی میٹنگ طلب کر رہے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ضرورت پڑنے پر سرحدوں اور شہریوں کی سیکورٹی کے لیے غیر معمولی قدم اٹھائے جائیں گے۔ ان میں اسپین کے ساتھ شینگین خطہ کے انتظام کو عارضی طور سے معطل کرنے جیسے متبادل بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ انھوں نے واضح لفظوں میں کہا ہے کہ غیر قانونی دراندازی کے معاملے پر اٹلی ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گا اور انسانی اسمگلروں کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔