
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان۔ تصویر ’انسٹاگرام‘
ایرانی صدر مسعود پیزیشکیان نے آبنائے ہرمز مین ناکے بندی جاری رہنے تک امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات سے واضح طور پر انکار کر دیا ہے۔ ’پریس ٹی وی ‘ کے مطابق ہفتہ کو پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ فون پر ہوئی اہم بات چیت میں پیزشکیان نے زور دے کر کہا کہ ایران کو دباؤ یا دھمکیوں کے ذریعہ کسی معاہدہ کے لیے مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
Published: undefined
ایرانی صدر پیزشکیان نے اس بات پر زور دیا کہ امن کی راہ میں اصل رکاوٹ مذاکرات کی کمی نہیں، بلکہ واشنگٹن کی جانب سے کی جانے والی موجودہ دشمنانہ کارروائیاں ہیں۔ گفتگو کے دوران ایرانی صدر نے واضح کیا کہ ایران دباؤ، دھمکیوں یا ناکہ بندی کے تحت مذاکرات کا حصہ نہیں بنے گا۔ جب تک امریکہ کی دشمنانہ کارروائیاں اور دباؤ ختم نہیں ہوتا، مذاکرات کی راہ مشکل رہے گی۔ ایرانی صدر نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ کشیدگی میں اضافہ کرنے والی فوجی اور اقتصادی رکاوٹوں کو ہٹا کر اپنی سنجیدگی ظاہر کرے۔
Published: undefined
دوسری جانب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکاف کے دورہ پاکستان کو منسوخ کرنے کے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے اسے بہت مہنگا اور بہت طویل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حکام کے ساتھ ملاقات کے لیے یہ مناسب نہیں جنہیں کوئی جانتا تک نہیں۔ ٹرمپ نے اپنے سینئر مشیر جیرڈ کشنر اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکاف کا اسلام آباد کا دورہ منسوخ کر دیا تھا، جو مذاکرات کے ایک نئے دور کے لیے وہاں جانے والے تھے۔ انہوں نے سفر کے طویل دورانیے، زیادہ اخراجات اور مجوزہ ملاقاتوں میں ایرانی قیادت کی عدم موجودگی کا حوالہ دیا۔
Published: undefined
اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ تہران نے تنازعہ کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے پاکستانی قیادت کے ساتھ ایک قابل عمل فریم ورک (ورکیبل فریم ورک) شیئر کیا ہے، جبکہ انہوں نے سفارت کاری کے حوالے سے امریکی عزم پر سوال اٹھایا تھا۔ اس کے بعد ایرانی وفد مطالبات کی آفیشل فہرست سونپ کر اسلام آباد سے روانہ ہو گیا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined