
گرین لینڈ پر امریکہ کے سخت رخ نے عالمی سطح پر سیاسی ہلچل بڑھا دی ہے۔ کئی ممالک نے امریکی صدر ٹرمپ کے رویہ پر اپنی سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ چین اور فرانس نے تو ’ورلڈ اکونومک فورم‘ (ڈبلیو ای ایف) کے داووس سمیلن میں امریکی صدر کے خلاف زوردار آواز بلند کر دی ہے۔ چین کے نائب وزیر اعظم ہے لفینگ اور فرانسیسی صدر امینوئل میکروں نے ایسے بیانات دیے ہیں، جس نے صاف کر دیا ہے کہ دنیا میں طاقت کے دَم پر فیصلہ تھوپنے کی کوششوں نے کئی ممالک میں فکر کی لہر دوڑا دی ہے۔
Published: undefined
چینی نائب وزیر اعظم لفینگ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’دنیا جنگل کے قانون کی طرف واپس نہیں لوٹ سکتی، جہاں طاقتور ملک کمزور ممالک کا شکار کریں۔‘‘ انھوں نے زور دے کر کہا کہ کچھ چنندہ ممالک کو اپنے مفادات کی بنیاد پر خصوصی اختیارات نہیں ملنے چاہئیں۔ سبھی ممالک کو اپنے جائز مفادات کی حفاظت کرنے کا یکساں حق حاصل ہے۔ لفینگ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ناٹو میں شامل ڈنمارک پر گرین لینڈ کو سونپنے کا دباؤ بنا رہے ہیں۔ حالانکہ لفینگ نے امریکہ یا ٹرمپ کا براہ راست نام نہیں لیا، لیکن ان کے بیانات کو ٹرمپ کی پالیسیوں پر حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ گرین لینڈ جیسے اسٹریٹجک علاقہ سے متعلق امریکہ کی منشا نے یوروپ اور ایشیا میں جو بے چینی بڑھائی ہے، اس کے پیش نظر چینی نائب وزیر اعظم کے بیان کو بہت اہم تصور کیا جا رہا ہے۔
Published: undefined
داووس سمیلن میں چین نے تجارتی محاذ پر بھی امریکہ کو نشانے پر لیا۔ لفینگ نے ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں اور ’امریکہ فرسٹ‘ ایجنڈا پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’یکطرفہ کارروائی اور معاہدے مناسب نہیں ہیں۔ ایسی کارروائیاں ڈبلیو ٹی او (ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن) کے اصولوں کی خلاف ورزی ہیں۔‘‘ انھوں نے متنبہ کیا کہ موجودہ کثیر جہتی تجارتی نظام سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ چینی لیڈر نے عالمی معاشی نظام میں بہتری کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں مضبوطی سے کثیر جہتی ماحول کو قائم رکھنا چاہیے۔
Published: undefined
بہرحال، داووس سمیلن سے ہی خطاب کرتے ہوئے فرانسیسی صدر امینوئل میکروں نے بھی عالمی ماحول پر اپنی فکر کا اظہار کیا۔ انھوں نے عالمی نظام پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم ایک ایسی دنیا کی طرف بڑھ رہے ہیں، جہاں اصول کمزور پڑتے جا رہے ہیں، یا پوری طرح ختم ہوتے جا رہے ہیں۔‘‘ ان کا یہ بیان بین الاقوامی قوانین اور اصول پر مبنی عالمی نظام کے ٹوٹنے کی طرف واضح اشارہ کرتا ہے۔
Published: undefined