
فائل تصویر آئی اے این ایس
ڈونالڈ ٹرمپ کا ٹیرف بم اب خود ان پر ہی بھاری پڑ رہا ہے۔ گزشتہ سال اپریل میں ڈونالڈ ٹرمپ نے دنیا کے تمام ممالک پر ریسیپروکل ٹیرف لگانا شروع کیا تھا اور اس سلسلے نے ٹریڈ وار کی صورتحال پیدا کر دی تھی۔ حالانکہ اس ٹیرف کے خلاف داخل کی گئی عرضیوں پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے ٹرمپ کو بڑا جھٹکا دیا تھا۔ دراصل ایک فیصلے میں انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (آئی ای ای پی اے) کے تحت لگائے گئے ٹیرف کے ایک بڑے حصے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے منسوخ کر دیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی ٹرمپ انتظامیہ کو ریفنڈ کا بھی حکم دیا گیا تھا۔ تازہ ترین اپڈیٹ کے مطابق تقریباً 100 ارب ڈالر کا ٹیرف کلیکشن واپس کر دیا گیا ہے۔
امریکی کسٹم حکام کی جانب سے عدالت میں دائر ایک عرضی میں ٹرمپ کے ٹیرف ریفنڈ سے متعلق اہم معلومات شیئر کی گئی ہیں۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے تقریباً 100 ارب ڈالر کی واپسی کر دی ہے، جس میں ’آئی ای ای پی اے‘ کے تحت صدر ٹرمپ کے ذریعہ لگائے گئے ٹیرف کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔ یو ایس انٹرنیشنل ٹریڈ کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ سود سمیت ریفنڈ کا عمل حکومت کے کسٹم ریفنڈ سسٹم کے ذریعہ مکمل کر لیا گیا ہے اور تقسیم کے لیے یہ رقم محکمہ خزانہ کو بھیج دی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ ٹیرف ریفنڈ کی رقم تقریباً 166 ارب ڈالر کے نصف سے زائد حصے پر مشتمل ہے، جنہیں رواں سال کی شروعات میں سپریم کورٹ نے منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ 20 فروری کو دیے گئے تاریخی 6-3 کے فیصلے میں اسے غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔ عدالت نے کہا تھا کہ ڈونالڈ ٹرمپ نے قومی سلامتی کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے 1977 میں بنائے گئے قانون کا استعمال کر کے امریکی تجارتی شراکت داروں سے درآمدات پر بھاری ٹیرف لگا کر اپنے دائرہ اختیار کی خلاف ورزی کی تھی۔ ججوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ قانون صدر کو یکطرفہ طور پر وسیع تجارتی ڈیوٹی لگانے کا اختیار نہیں دیتا ہے۔
اگرچہ ڈونالڈ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے وصول کیے گئے ٹیرف کو واپس کیا گیا ہے، لیکن اب یو ایس ٹیرف ریفنڈ کا مسئلہ ایک نئے سیاسی تنازعہ کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ناقدین نے دلیل دی ہے کہ یہ پیسہ ان درآمد کنندگان اور کارپوریشنز کو لوٹایا جا رہا ہے جنہوں نے ٹیرف کی ادائیگی کی تھی، نہ کہ ان امریکی صارفین کو جنہوں نے ٹرمپ کے اس ٹیرف وار کی وجہ سے بڑھی ہوئی قیمتوں کے باعث مہنگائی کا بوجھ اٹھایا تھا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔