
ایرانی پرچم، تصویر آئی اے این ایس
جوہری معاہدے کے تحت ایران کو ملنے والے 300 ارب ڈالر کی گتھی سلجھ گئی ہے۔ ایران کو یہ پیسہ امریکہ کے کہنے پر ملیشیا، سنگاپور، یو اے ای اور قطر جیسے ممالک سے ملے گا۔ یہ رقم سرمایہ کاری کے طور پر ایران کو دی جائے گی، جس کا استعمال ایرانی حکومت اپنے حساب سے کر سکے گی۔ سرمایہ کاری کی اس رقم کی نگرانی قطر کرے گا، تاکہ کسی طرح کی بڑی گڑبڑ نہ ہو۔
Published: undefined
امریکی میڈیا آؤٹ لیٹ ’ایکسیوس‘ کے مطابق قطر نے ہی راحت اور بحالی کے لیے 300 ارب ڈالر کی رقم فراہم کرانے کی سفارش کی تھی۔ امریکی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ اور نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ اگر یہ معاہدہ کامیابی کے ساتھ طے پا جاتا ہے تو امریکہ بھی سرمایہ کاری کرنے پر غور کر سکتا ہے۔ یہ خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کو معاہدے کے تحت 300 ارب ڈالر دیے جانے کی شرائط کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ فرضی قرار دے چکے ہیں۔
Published: undefined
خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق ایران کو معاہدہ پر دستخط ہونے سے قبل ہی نصف سے زائد پیسے مل گئے ہیں۔ یہ پیسے کون دیے ہیں، اس کی معلومات اب تک سامنے نہیں آئی ہیں۔ حالانکہ کہا جا رہا ہے کہ یو اے ای اور قطر جیسے ممالک نے کچھ پیسے ایران کو دیے ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی سرمایہ کاری کو لے کر یو اے ای کا ہی نام لیا تھا۔ وینس کا کہنا تھا کہ یو اے ای جیسے ممالک ایران میں سرمایہ کاری کریں گے۔ جبکہ اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ معاہدے کے تحت یو اے ای سے تہران کو پیسے بھیجے گئے ہیں۔ یو اے ای نے اس کی تردید کی تھی۔
Published: undefined
سعودی اخبار ’العربیہ‘ نے معاہدے کی تجویز کے حوالے سے ایک رپورٹ کی ہے۔ اس کے مطابق معاہدے کے بعد ایران کے 24 ارب ڈالر ’اَن فریز‘ کیے جائیں گے۔ دراصل امریکہ، ہندوستان اور چین سمیت کئی ممالک میں ایران کے ضبط پیسے رکھے ہوئے ہیں۔ معاہدے کے بعد اسے اَن فریز کر دیا جائے گا۔ ہندوستان میں ایران کے 7 ارب ڈالر اور چین میں 50 ارب ڈالر ہیں۔ اسی طرح امریکہ کے پاس ایران کے 2 ارب ڈالر ضبط ہیں۔
Published: undefined
’بلومبرگ‘ کے مطابق معاہدے کے بعد ایران کو تیل فروخت کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ ایران کے پاس ابھی 100 کروڑ بیرل تیل فروخت کرنے کے لیے دستیاب ہے۔ اسے ایران چین، ہندوستان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کو فروخت کر سکتا ہے۔ 2019 میں امریکہ نے ایران پر پابندی عائد کر دی تھی، جس کی وجہ سے تہران کھل کر تیل فروخت نہیں کر پا رہا تھا۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined