دیگر ممالک

ملازمین کے احتجاج کے باعث ’ایفل ٹاور‘ کچھ دیر رہا بند، ’باپس‘ کے وفد کے دورے پر خاتون ملازمین کو ہٹانے کا ہے معاملہ

ملازمین کا الزام ہے کہ ہفتہ کو ہندو مذہبی تنظیم ’باپس‘ کے تقریباً 100 افراد کے ذاتی دورے کے دوران خاتون ملازمین کو اپنے کام کی جگہ سے ہٹنے کے لیے کہا گیا تھا، تاکہ اس کی جگہ مرد ملازمین کھڑے ہو سکیں۔

ایفل ٹاور فرانس، تصویر آئی اے این ایس
ایفل ٹاور فرانس، تصویر آئی اے این ایس 

ملازمین کے احتجاج کے باعث فرانس کے مشہور ایفل ٹاور کو پیر (7 ستمبر) کے روز کچھ وقت کے لیے بند رکھا گیا تھا اور اس کے کھلنے میں تاخیر ہوئی تھی۔ ملازمین کا الزام ہے کہ ہفتہ (5 ستمبر) کو ہندو مذہبی تنظیم ’باپس‘ (بوچاسنواسی اکشر پرشوتم سوامی نارائن سنستھا) سے وابستہ تقریباً 100 افراد کے ذاتی دورے کے دوران خاتون ملازمین کو اپنے کام کی جگہ سے ہٹنے کے لیے کہا گیا تھا، تاکہ اس کی جگہ مرد ملازمین کھڑے ہو سکیں۔ اس واقعہ کو لے کر ایفل ٹاور کے ملازمین میں ناراضگی بڑھ گئی۔ معاملہ سامنے آنے کے بعد فرانس کے چند سینئر سیاسی رہنماؤں نے بھی اس پر تنقید کی ہے۔ پیرس انتظامیہ نے پورے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

یونین کی نمائندہ ڈائنے ڈاووئن نے نیوز ایجنسی ’رائٹرز‘ سے کہا کہ وفد کے گزرنے کے دوران خاتوں ملازمین سے ان کی کام کی جگہ چھوڑنے کے لیے کہا گیا، تاکہ مرد ملازمین ان کی جگہ لے سکیں۔ ڈاووئن کے مطابق واقعہ کے بعد ہفتہ اور اتوار کے درمیان ملازمین کے درمیان کشیدگی بڑھتی رہی۔ اس کے بعد پیر کی صبح ملازمین نے ایک میٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کی میٹنگ کے 2 اہم مقاصد تھے، پہلا انتظامیہ کے ساتھ اس مسئلہ پر بات کرنا اور دوسرا یہ یقینی بنانا کہ کمپنی میں مستقبل میں خواتین کے ساتھ اس طرح کا سلوک دوبارہ نہ ہو۔ ملازمین کی میٹنگ کی وجہ سے ایفل ٹاور کو کھولنے میں تاخیر ہوئی۔ ڈاووئن نے یہ بھی بتایا کہ انتظامیہ نے اس واقعہ کو لے کر ملازمین سے معافی بھی مانگی ہے۔

دسری جانب ’باپس‘ نے کہا کہ وفد کا دورہ ایفل ٹاور کے افسران کے ساتھ بات چیت کے بعد طے کیا گیا تھا۔ انتظامیہ کے مطابق اس کا مقصد عام سیاحوں کو کم سے کم پریشانی ہو اور یادگار تک معمول کے مطابق رسائی برقرار رہے۔ ’باپس‘ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ’’تقریباً 100 افراد پر مشتمل بڑے وفد کا دورہ ایفل ٹاور کی انتظامیہ کے ساتھ بات چیت کے بعد معمول کے اوقات میں ٹاور کھلنے کے وقت طے کیا گیا تھا۔‘‘ انتظامیہ کے مطابق ایسا اس لیے کیا گیا تھا تاکہ عام لوگوں کو کم سے کم پریشانی ہو۔ انتظامیہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسے ایسے کسی واقعہ کی اطلاع نہیں تھی، جس میں دورے کے دوران کسی سیاح کو ایفل ٹاور میں داخل ہونے سے روکا گیا ہو۔ حالانکہ ’باپس‘ نے پورے تنازعہ پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر کسی شخص کو اس صورتحال سے تکلیف پہنچی ہو یا کسی قسم کی پریشانی ہو تو اس کے لیے معافی مانگتے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ اس معاملے کو لے کر پیرس کے میئر امینوئل گریگوائر نے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایفل ٹاور کے ملازمین کے خدشات جائز ہیں اور ان پر فوری طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ایفل ٹاور کا انتظام سنبھالنے والی کمپنی ’ایس ای ٹی ای‘ نے تسلیم کیا کہ وفد کی جانب سے دورے کا ایسا انتظام کرنے کی درخواست کی گئی تھی، جس سے خواتین کے ساتھ بات چیت کم سے کم ہو۔ کمپنی یہ بھی قبول کیا کہ اس طرح کی شرائط کو قبول نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔