
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ
امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کناڈا کی سینکڑوں مصنوعات پر50 فیصد اضافی ٹیرف عائد کر دیا ہے۔ ٹرمپ کے اس فیصلے کی وجہ سے شمالی امریکہ میں دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ 1930 کے ٹیرف ایکٹ کی دفعہ 338 کا استعمال کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے 3 مختلف اعلانات پر دستخط کیے، جس کے تحت منتخب کینیڈین درآمدات پر 50 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وائٹ ہاؤس نے کہا کہ ’’اس اقدام کا مقصد کناڈا کی جانب سے امریکی تجارت کے ساتھ کیے جا رہے مبینہ امتیازی سلوک کے باعث امریکی کاروبار کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی کرنا اور خصوصاً آٹوموبائل، الکحل مشروبات اور ڈیری مصنوعات کی برآمدات کے لیے امریکی کمپنیوں کو مساوی مسابقتی مواقع فراہم کرنا ہے۔‘‘
وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ نئے ٹیرف دستخط کے 30 دنوں بعد نافذ ہوں گے اور امریکہ، میکسیکو اور کناڈا معاہدے (یو ایس ایم سی اے) کے تحت ملنے والی کسی بھی رعایتی سہولت سے الگ ہو کر نافذ کیے جائیں گے۔ تاہم توانائی، پوٹاش، سیکشن 232 کے تحت پہلے سے ٹیرف کے دائرے میں شامل مصنوعات، مچھلی، اہم معدنیات اور بعض دیگر مخصوص اشیا کو ان نئے ٹیرف سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ انتظامیہ نے بتایا کہ یہ ٹیرف کناڈا سے درآمد ہونے والی کئی اقسام کی مصنوعات پر نافذ ہوگا۔ ان میں وائن، ہاکی اسٹک اور سیمنٹ سے لے کر مختلف اشیا شامل ہیں۔ اس کے ساتھ جاری کیے گئے ضمیموں میں ٹیرف کے سینکڑوں زمرے درج کیے گئے ہیں، جن پر اضافی 50 فیصد درآمدی ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ وائٹ ہاؤس کا الزام ہے کہ کناڈا طویل عرصے سے ایسی تجارتی پالیسیاں اپناتا رہا ہے، جو امریکی برآمد کنندگان کے ساتھ امتیازی سلوک کرتی ہیں، جبکہ دیگر تجارتی شراکت داروں کو زیادہ سازگار ماحول فراہم کیا جاتا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق کناڈا نے امریکی موٹر گاڑیوں پر ایسے ٹیرف اور درآمدی کوٹے کی پابندیاں عائد کیں، جو دوسرے ممالک سے آنے والی گاڑیوں پر نافذ نہیں ہوتیں۔ اس کے ساتھ ہی کوٹا نظام کو اس انداز سے چلایا گیا کہ امریکی گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کو امریکہ میں پیداوار بڑھانے کے بجائے کناڈا میں سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب ملے۔ وائٹ ہاؤس کی فیکٹ شیٹ کے مطابق اپریل 2025 سے مارچ 2026 کے درمیان کناڈا کی جانب سے امریکہ سے درآمد کی جانے والی موٹر گاڑیوں کی مالیت گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں تقریباً 22 فیصد (تقریباً 5.6 ارب ڈالر) کم ہو گئی۔ دوسری جانب اس دوران دیگر ممالک سے گاڑیوں کی درآمد میں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں امریکی برآمدات کی جگہ دوسرے ممالک کی مصنوعات نے لے لی۔
وائٹ ہاؤس نے امریکی الکحل مشروبات پر عائد پابندیوں کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کناڈا کے 2 صوبوں اور علاقوں کو چھوڑ کر سبھی نے امریکی شراب کی خریداری، ڈسٹری بیوشن یا ریٹیل فروخت پر پابندی عائد کر دی ہے، جبکہ دیگر ممالک کی مصنوعات کے لیے رسائی برقرار رکھی گئی ہے۔ وائٹ ہاؤس نے کہا کہ مارچ 2025 سے فروری 2026 کے دوران گزشتہ سال کے مقابلے کناڈا کی جانب سے امریکی الکحل مشروبات کی درآمد میں تقریباً 81 فیصد یا 582 ملین ڈالر کی کمی آئی ہے۔ وائٹ ہاؤس نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ برسوں کے دوران صرف 2 ممالک، چین اور کناڈا نے واشنگٹن کے ساتھ تجارتی معاہدے پر مذاکرات کرنے کے بجائے ٹرمپ کے عائد کردہ ٹیرف کے خلاف جوابی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا۔ نئے ٹیرف ٹرمپ انتظامیہ کے ’امریکہ فرسٹ‘ اقتصادی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے تجارتی اقدامات کے استعمال کا ایک اور بڑا قدم ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔