
طارق رحمن، تصویر آئی اے این ایس
ابھی طارق رحمن نے بنگلہ دیش کے وزیر اعظم کا حلف بھی نہیں لیا ہے، اور بی این پی (بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی) نے ریفرینڈم کو ماننے سے انکار کر سبھی کو حیران کر دیا ہے۔ 17 فروری کو طارق رحمن سمیت بی این پی اراکین پارلیمنٹ نے آئینی اصلاح کونسل کے رکن کی شکل میں حلف برداری نہیں کی۔ بی این پی لیڈر صلاح الدین احمد کا اس تعلق سے واضح لفظوں میں کہنا ہے کہ ’’ہم اسے (جولائی چارٹر) نہیں مانتے ہیں۔‘‘
Published: undefined
بی این پی کے اس قدم سے ’جولائی چارٹر‘ کا مستقبل تاریک نظر آ رہا ہے۔ بنگلہ دیش میں جمہوریت کو درست کرنے کے لیے یونس کی عبوری حکومت نے ’جولائی چارٹر‘ کی تجویز پیش کی تھی، اور اس تجویز پر ریفرینڈم بھی کرایا گیا تھا۔ اس ریفرینڈم پر 50 فیصد سے زیادہ شہریوں نے اپنی حمایت ظاہر کی تھی۔
Published: undefined
’پرتھم آلو‘ کے مطابق جولائی چارٹر کو نافذ کرنے کی کوششیں آج سے ہی شروع ہونی تھیں۔ سب سے پہلے سبھی اراکین پارلیمنٹ کو آئینی اصلاح کونسل کے رکن کی شکل میں حلف لینا طے کیا گیا تھا، لیکن جب بی این پی اراکین پارلیمنٹ اسٹیج پر پہنچے تو انھوں نے اس کا حلف نہیں لیا۔ اس کی قیادت خود بی این پی چیف طارق رحمن کر رہے تھے۔ دوسری طرف جماعت اسلامی نے بھی اسے ماننے سے انکار کر دیا۔ جماعت اسلامی کے نائب امیر سید عبداللہ محمد طاہر نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بی این پی کی طرح ہی ہمارے بھی اراکین پارلیمنٹ اس عہدہ کا حلف نہیں لیں گے۔ ہم اپنے طریقے سے کام کریں گے۔
Published: undefined
اگست 2024 میں شیخ حسینہ کا بنگلہ دیش میں ایک انقلاب کے بعد تختہ پلٹ ہو گیا تھا۔ اس انقلاب کی ابتدا جولائی میں ہوئی تھی، جسے طلبا نے انجام دیا تھا۔ اس کے بعد یونس کی قیادت میں عبوری حکومت کی تشکیل ہوئی تھی۔ یونس حکومت نے جمہوریت میں اصلاح کے لیے ’جولائی چارٹر‘ کی تجویز لائی۔ اس تجویز کے تحت کوئی بھی شخص بنگلہ دیش میں ایک بار میں 10 سال سے زیادہ وقت تک وزیر اعظم نہیں رہ سکتا ہے۔ جولائی چارٹر کے نافذ ہونے پر جو اہم تبدیلیاں مجوزہ تھیں، وہ اس طرح ہیں:
رکن پارلیمنٹ کو ’بائی کیمرل‘ (2 ایوانوں والا) بنانے کی بات بھی شامل ہے۔ یعنی موجودہ پارلیمنٹ کے ساتھ 100 سیٹوں والا ایک ایوان بالا بنایا جائے گا۔ یہ ہندوستان کے راجیہ سبھا جیسا ہو
وزیر اعظم عہدہ پر رہنے والا شخص کسی دوسرے عہدہ پر فائز نہیں ہو سکتا۔ یعنی جو بھی شخص وزیر اعظم بنے گا، اسے پارٹی کے صدر کی کرسی چھوڑنی ہوگی۔
بنگلہ دیش میں اب تک ججوں کو وزیر اعظم ہی مقرر کرتے رہے ہیں۔ جولائی چارٹر میں ججوں کے لیے الگ سے کالجیم بنانے کی بات کہی گئی تھی۔ اس کالجیم میں صرف سپریم کورٹ کے سینئر ججوں کو ہی شامل کرنے کی تجویز تھی۔
خواتین کی پارلیمنٹ میں شراکت داری بڑھانے کی بھی تجویز ہے۔ ساتھ ہی ڈپٹی چیئرمین اور پارلیمانی کمیٹیوں کے سربراہ اپوزیشن سے منتخب کیے جانے کا انتظام کرنے کی بات کہی گئی ہے۔
اس کے علاوہ جولائی چارٹر عدلیہ کی خود مختاری مضبوط کرنے، انتخابی نظام میں اصلاح اور غیر جانبدار کیئر ٹیکر حکومت کی واپسی کی بھی سفارش کرتا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined