دیگر ممالک

سری لنکا: جیل میں قیدیوں کے خونی تصادم میں اب تک 27 ہلاک، 100 سے زائد زخمی

جیل کے ترجمان اے سی گجنائیکے نے بتایا کہ ’’اتوار کو قیدیوں کے 2 گروپوں کے درمیان شروع ہونے والا تصادم پیر کو جیل سے بھاگنے کی کوشش میں تبدیل ہو گیا۔‘‘

سری لنکا، تصویر آئی اے این ایس
سری لنکا، تصویر آئی اے این ایس 

سری لنکا کے نیگومبو جیل میں ہوئے خونی تصادم میں مرنے والوں کی تعداد منگل (7 جولائی) کو 27 ہو گئی۔ اس درمیان افسران نے دعویٰ کیا ہے ہے صورتحال پر قابو پا لیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تصادم کے دوران محفوظ باہر نکالے گئے تقریباً 700 قیدیوں میں کئی غیر ملکی بھی شامل ہیں۔ افسران کے مطابق حکومت نے واقعے کی تحقیقات اور آئندہ اس نوعیت کے تشدد کی روک تھام کے لیے تجاویز پیش کرنے کی غرض سے سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔

Published: undefined

ہندی نیوز پورٹل ’اے بی پی نیوز‘ کی خبر کے مطابق جیل کے ترجمان اے سی گجنائیکے نے بتایا کہ اتوار کو قیدیوں کے 2 گروپوں کے درمیان شروع ہونے والا تصادم پیر کو جیل سے بھاگنے کی کوشش میں تبدیل ہو گیا۔ ناشتہ پروسے جانے کے دوران قیدیوں نے جیل افسران پر حملہ کر دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس کے بعد ہوئی گولی باری میں جیل کے 7 افسران اور 19 قیدی مارے گئے جبکہ کئی لوگ زخمی ہو گئے۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ منگل کی صبح ایک اور شخص کی موت ہونے کے سبب اموات کی مجموعی تعداد بڑھ کر 27 ہو گئی۔

Published: undefined

صحت کے حکام نے بتایا کہ 100 سے زائد قیدیوں اور جیل افسران کو نیگومبو اسپتال میں داخل کرایا گیا، جن میں سے کچھ کو بعد میں کولمبو کے نیشنل اسپتال میں منتقل کر دیا گیا۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ کم از کم 10 لوگوں کی ایمرجنسی سرجری کرنے کی ضرورت پڑی ہے۔ جیل امور کے نگراں وزیر ہرشنا نانائیکارا نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ تحقیقات کے بعد ہی ان خامیوں کا پتہ چلے گا جن کی وجہ سے یہ تشدد ہوا۔ اپوزیشن رکن پارلیمنٹ پی پریرا نے بحران سے نمٹنے کے وزیر کے طریقۂ کار پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے نامہ نگاروں سے کہا کہ ’’جب حالات بگڑ رہے تھے تو انہوں نے صورتحال کو قابو میں کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا، وہ ناکام رہے۔‘‘ اپوزیشن نے پارلیمنٹ کے اسپیکر کو خط لکھ کر اس واقعہ پر فوری بحث کا مطالبہ کیا ہے۔

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ افسران نے منگل کو ایک بدنام زمانہ مجرم کٹوویلےگوڈا سریش کو سخت سیکورٹی والی بوسا جیل میں منتقل کر دیا۔ ان کا ماننا ہے کہ جیل کے اندر منشیات کی تقسیم کے نیٹورک سے اس کے تعلقات ہی اس پرتشدد واقعے کی بنیادی وجہ تھی۔ تشدد کے وقت تقریباً 1800 قیدی جیل میں تھے۔

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined