
دھماکہ کی علامتی تصویر/ سوشل میڈیا
سری لنکا کی ایک عدالت نے 2019 کے دردناک ایسٹر سنڈے خودکش حملوں کے معاملے میں بڑا فیصلہ سنایا ہے۔ کولمبو کی ٹرائل-اے-بار نے منگل کے روز اس معاملے میں 15 ملزمین کو قصوروار قرار دیا۔ عدالت نے مجرموں کو 220 برس قید کی سزا سنائی ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے تمام مجرموں کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد بھی ریاست کے حق میں ضبط کرنے کا حکم دیا ہے۔ واضح رہے کہ 21 اپریل 2019 کو ایسٹر سنڈے کے دن آئی ایس آئی ایس سے وابستہ مقامی انتہا پسند تنظیم ’نیشنل توحید جماعت‘ کے 9 خودکش حملہ آوروں نے سلسلہ وار دھماکے کیے تھے۔ اس ہولناک حملے میں 3 کیتھولک چرچ اور لگژری ہوٹل تباہ ہو گئے تھے۔
اس دردناک سانحے میں 11 ہندوستانیوں سمیت تقریباً 270 افراد کی موت ہوئی تھی، وہیں 500 سے زیادہ افراد شدید زخمی ہو گئے تھے۔ تقریباً 5 برسوں تک جاری رہنے والے طویل مقدمے کے بعد منگل کے روز 3 ججوں، نورتنے ماراسنگھے، رامناتھن کنن اور سجیوا نسنکا پر مشتمل بنچ نے اپنا فیصلہ سنایا۔ عدالت نے کل 24 ملزمین میں سے 15 کو قصوروار قرار دیا، جبکہ 9 ملزمین کو بری کر دیا۔ ابتدا میں اس معاملے میں 25 افراد پر الزامات عائد کیے گئے تھے، لیکن ایک مشتبہ شخص کی موت کے بعد اکتوبر 2021 میں 24 لوگوں کے خلاف فرد جرم داخل کی گئی تھی۔
ان ملزمین کے خلاف مجموعی طور پر 23270 الزامات عائد کیے گئے تھے، جس کی سماعت کے دوران استغاثہ کی جانب سے 2309 گواہوں نے گواہی دی۔ ان سب کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ (پی ٹی اے) کے تحت قتل، قتل کی کوشش، دہشت گردی کی سازش رچنے، مدد کرنے، ہتھیار اور دھماکہ خیز مواد رکھنے کے الزامات ثابت ہوئے۔ سزا یافتہ اہم ملزم محمد ابراہیم، محمد نوفر عرف ’نوفَر مولوی‘ بھی شامل ہے، جس کے تعلقات ماسٹر مائنڈ زہران ہاشم سے تھے۔ زہران ہاشم وہ شخص تھا، جس نے شانگری-لا ہوٹل میں خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا۔ اس معاملے میں اس سے قبل جولائی میں سابق پولیس سربراہ پوجیتھ جے سندرا اور وزارت دفاع کے اس وقت کے اعلیٰ افسر ہیماسری فرنانڈو کو بھی عدالت سے سزا مل چکی ہے۔
خفیہ اطلاعات کے باوجود بروقت کارروائی نہ کرنے اور اپنی ذمہ داریوں میں لاپروائی برتنے کے لیے انہیں قصوروار ٹھہرایا گیا تھا۔ اس حملے کے بعد ملک میں کافی زیادہ سیاسی گہما گہمی شروع ہو گئی تھی، کیونکہ اس وقت کے صدر میتری پالا سری سینا اور وزیر اعظم رانیل وکرما سنگھے پر خفیہ انتباہات کو نظرانداز کرنے کے الزامات لگے تھے۔ 2023 میں سپریم کورٹ نے متاثرین کے اہل خانہ کو بھاری معاوضہ دینے کا بھی حکم دیا تھا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔