
بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ
بنگلہ دیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل-2 (آئی سی ٹی-2) نے کالعدم عوامی لیگ کے 7 رہنماؤں کو سزائے موت سنائی ہے۔ ان تمام رہنماؤں کو 2024 کی طلبہ تحریک کے دوران تشدد بھڑکانے اور انسانیت کے خلاف جرائم کا قصوروار پایا گیا ہے۔ منگل (15ستمبر) کو جسٹس محمد نذر الاسلام چودھری کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے یہ فیصلہ سنایا۔ تمام 7 رہنماؤں کے خلاف ان کی غیر موجودگی میں سماعت ہوئی، جبکہ ان کی پیروی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ وکلاء نے کی۔
سزا پانے والوں میں عوامی لیگ کے جنرل سکریٹری اور سابق وزیر عبید القادر، جوائنٹ جنرل سکریٹری اے ایف ایم بہاؤ الدین نسیم اور سابق وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات محمد علی عرافات شامل ہیں۔ ان کے علاوہ یوبو لیگ کے صدر شیخ فضل شمس پارش، جنرل سکریٹری معین الحسین خان نکھل، اسٹوڈنٹس لیگ کے صدر صدام حسین اور جنرل سکریٹری شیخ ولی آصف عنان کو بھی سزائے موت سنائی گئی ہے۔
استغاثہ نے الزام عائد کیا کہ ان رہنماؤں نے اشتعال انگیز بیانات دے کر، اجلاس منعقد کر کے اور پرتشدد منصوبوں کو عملی جامہ پہنا کر طلبہ مظاہروں کو دبانے کی کوشش کی۔ ملزمان ملک بھر میں ہونے والی ہلاکتوں، جبر اور میڈیا پر کنٹرول کرنے کی کوششوں میں بھی شامل تھے۔ اس معاملے میں 22 جنوری کو 7 الزامات عائد کیے گئے تھے اور 17 فروری سے سماعت شروع ہوئی تھی۔ ان احتجاجی مظاہروں کے بعد ہی 5 اگست 2024 کو شیخ حسینہ کی حکومت گر گئی تھی اور وہ ہندوستان آ گئی تھیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق جولائی اور اگست 2024 کے درمیان ہونے والے تشدد میں تقریباً 1400 افراد مارے گئے تھے۔
اس سے قبل نومبر 2025 میں اسی عدالت نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ اور سابق وزیر داخلہ اسد الزماں خان کمال کو بھی انسانیت کے خلاف جرائم کے لیے سزائے موت سنائی تھی۔ عدالت نے حسینہ کو کمانڈ ذمہ داری کے تحت قصوروار قرار دیا تھا۔ حالانکہ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ جیسی بین الاقوامی تنظیموں نے منصفانہ سماعت کے طریقۂ کار پر سوال اٹھائے تھے۔ اس دوران نئی دہلی سے شیخ حسینہ نے ایک آڈیو پریس کانفرنس جاری کی تھی۔ اس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ جیل یا سزائے موت کی پرواہ کیے بغیر رواں سال دسمبر میں بنگلہ دیش واپس آنے کے لیے تیار ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔