دیگر ممالک

بھوٹان میں جھیل پھٹنے کی تنبیہ سائنسدانوں نے 5 سال قبل دے دی تھی، اب نظر آ رہے تباہی کے مناظر

سنتافو جھیل پھٹنے کا واقعہ 29 اکتوبر کو پیش آیا، جس کا پانی ’مو چھو ندی‘ کے راستے نیچے کی طرف بڑھا۔ تیز بہاؤ کے سبب بھوٹان میں کچھ مقامات پر سڑکوں کو نقصان پہنچا ہے اور جگہ جگہ ملبہ جمع ہو گیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>برفانی جھیل کی فائل تصویر، ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/AIRNews_Chennai">@AIRNews_Chennai</a></p></div>

برفانی جھیل کی فائل تصویر، ’ایکس‘ @AIRNews_Chennai

 

بھوٹان کے ضلع گاسا کے لونگو خطہ میں واکیلا پہاڑ کے دامن میں سطح سمندر سے تقریباً 4480 میٹر کی بلندی پر سنتافو جھیل واقع ہے۔ یہ مو چھو ندی کے بالائی حصہ میں بننے والی ایک برفانی جھیل ہے۔ مو چھو ندی آگے چل کر فو چھو سے ملتی ہے اور پوناکھا کے قریب پوناتسانگ چھو بن جاتی ہے۔ ہندوستان میں داخل ہونے کے بعد یہی ندی سنکوش کے نام سے جانی جاتی ہے۔ آگے چل کر یہ برہم پتر میں ضم ہو جاتی ہے۔ اسی وجہ سے بھوٹان میں برفانی جھیل پھٹنے کے اثرات براہ راست مغربی بنگال کے علی پور دوار، جلپائی گوڑی، کوچ بہار اور آسام کے دھبری جیسے علاقوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ یہ جھیل مورین (گلیشیئر کے پیچھے چھوڑے گئے مٹی اور پتھروں کے بند) سے گھری ہوئی ہے۔

اس کا رقبہ تقریباً 2.38 لاکھ مربع میٹر اور پانی کی مقدار تقریباً 62 لاکھ مکعب میٹر بتائی جاتی ہے۔ 2021 کی ایک تحقیق میں اسے ممکنہ طور پر خطرناک برفانی جھیل کے زمرے میں رکھا گیا تھا۔ بھوٹان کے نیشنل سنٹر فار ہائیڈرولوجی اینڈ میٹرولوجی (این سی ایچ ایم) نے بھی اسے 17 ممکنہ طور پر خطرناک جھیلوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔

2021 میں ولفریڈ ہیگ اور ان کے ساتھیوں نے ’اپلائیڈ سائنسز‘ جریدے میں ’مو چھو ندی کے طاس، بھوٹان میں برفانی جھیل کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب کے خطرے کا جائزہ‘ عنوان سے ایک تحقیق شائع کی تھی۔ اس میں ہائیڈروڈائنامک ماڈلنگ کے ذریعہ 9 مختلف ممکنہ صورت حال کا تجزیہ کیا گیا تھا۔ تحقیق میں کہا گیا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث گلیشیئر پگھل رہے ہیں، نئی جھیلیں بن رہی ہیں اور پرانی جھیلوں کا حجم بڑھ رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں برفانی جھیلوں کے پھٹنے سے سیلاب (گلوف) آنے کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔

تحقیق کے مطابق سنتافو جھیل کا حجم اور گلیشیئر سے اس کی قربت اسے خطرناک بناتی ہے۔ ماڈلنگ سے پتہ چلا کہ بدترین صورت حال میں بھی رہائشی عمارتوں کو زیادہ نقصان نہیں پہنچے گا، لیکن سڑکیں، پل، کھیت اور بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو سکتے ہیں۔ اس سے 120 کلومیٹر سے زیادہ دور واقع پن بجلی کے منصوبوں کے کام کاج پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ گزشتہ روز جب سنتافو برفانی جھیل پھٹا تو یہ اندیشہ درست ثابت ہوا، کیونکہ سنتافو جھیل پھٹنے کے بعد اس کا پانی مو چھو ندی کے راستے نیچے کی طرف تیزی کے ساتھ بڑھا۔ اس تیز بہاؤ کے سبب بھوٹان میں کچھ مقامات پر سڑکوں کو نقصان پہنچا اور جگہ جگہ ملبہ جمع ہو گیا۔ علاوہ ازیں سولر پلانٹ کو بھی نقصان پہنچنے کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ برفانی جھیل اس وقت بنتی ہے جب گلیشیئر پیچھے ہٹتا ہے اور اس کے نتیجے میں بننے والے گڑھے میں پگھلا ہوا پانی جمع ہونے لگتا ہے۔ اس پانی کو اکثر مورین سے بنے کمزور بند کے ذریعہ روکا جاتا ہے۔ سنتافو جھیل کے معاملہ میں جمعرات، 29 اکتوبر 2026 کی شام پانی باہر نکلنے کی اطلاع سامنے آئی۔ پانی مو چھو ندی کے راستے نیچے کی جانب بڑھا۔ اس سے بھوٹان میں کئی مقامات پر سڑکوں کو نقصان پہنچا، بیلی پل گر گئے اور لیا علاقے کا رابطہ منقطع ہو گیا۔ گاسا کے گرم پانی کے چشمے بھی متاثر ہوئے۔ بعض رپورٹس میں پانی کی مقدار 74 لاکھ مکعب میٹر تک بتائی گئی ہے، جو جھیل کی اصل گنجائش کے آس پاس ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔