
آبنائے ہرمز اور ڈونالڈ ٹرمپ، تصویر اے آئی
امریکہ ایک بار پھر آبنائے ہرمز میں اپنا فوجی مشن ’پروجیکٹ فریڈم‘ شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس کے لیے اب راستہ ہموار ہوتا نظر آ رہا ہے، کیونکہ امریکہ کو سعودی عرب اور کویت نے اپنا ایئراسپیس استعمال کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ ’پروجیکٹ فریڈم‘ کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ حالانکہ اس مشن کو شروع کرنے کے کچھ ہی گھنٹوں بعد امریکہ کو اسے روکنے کا اعلان کرنا پڑا۔ اب جو رپورٹس سامنے آ رہی ہیں، اس کے مطابق سعودی عرب اور کویت نے امریکہ کو دوبارہ اپنے فضائی حدود اور فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت دے دی ہے۔ اس پیش رفت کے بعد امریکہ پھر سے ’پروجیکٹ فریڈم‘ شروع کرنے پر غور کر رہا ہے۔
Published: undefined
’وال اسٹریٹ جرنل‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ اس مشن کو اسی ہفتے دوبارہ شروع کر سکتا ہے۔ حالانکہ ابھی اس بارے میں حتمی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے۔ اس سے قبل یہ آپریشن صرف 36 گھنٹوں بعد روک دیا گیا تھا۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کے لیے محفوظ آمد و رفت برقرار رکھنا چاہتا ہے اور اسی مقصد سے یہ مشن شروع کیا گیا تھا۔ پروجیکٹ فریڈم کے تحت امریکہ اپنے جنگی جہاز، جنگی طیارے، ڈرون اور نگرانی کے نظام تعینات کرے گا اور جہازوں پر ڈرون و میزائل حملے روکنے کی کوشش کرے گا۔
Published: undefined
جب امریکہ نے پہلی بار یہ آپریشن شروع کیا تھا، تب ایران نے اس کی مخالفت کی تھی۔ ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے تھے جس میں یو اے ای کے فجیرہ علاقے کو نشانہ بنایا گیا، جو وہاں کا بڑا تیل برآمدی مرکز ہے۔ امریکہ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے کئی حملے ناکام بنا دیے اور ایران کی کئی تیز رفتار کشتیوں کو تباہ کر دیا۔ ان حملوں کے بعد خلیجی ممالک میں تشویش بڑھ گئی تھی۔ سعودی عرب اور کویت کو خدشہ تھا کہ وہ بھی اس تنازعہ میں پھنس سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے انہوں نے امریکہ کو اپنے فوجی اڈوں اور فضائی حدود کے استعمال سے روک دیا تھا۔ اب نئی بات چیت کے بعد سعودی عرب اور کویت نے دوبارہ امریکی فوج کو اپنے فضائی حدود اور فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت دے دی ہے۔ تاہم دونوں ممالک نے ابھی اس سلسلے میں کوئی آفیشیل بیان جاری نہیں کیا ہے۔
Published: undefined
سامنے آئی رپورٹ کے مطابق اس معاملہ پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان براہ راست بات چیت ہوئی تھی۔ ولی عہد نے امریکہ کو سیکورٹی خطرات کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔ اس کے بعد ٹرمپ نے ’پروجیکٹ فریڈم‘ کو کچھ وقت کے لیے روک دیا تھا۔ اس بارے میں میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ پاکستان اور چند دیگر ممالک کی اپیل پر یہ فیصلہ لیا گیا تھا۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: سوشل میڈیا