
جنگ کی فائل تصویر، آئی اے این ایس
روس-یوکرین جنگ میں روسی فوج نے ایک بار پھر بھاری ہتھیاروں کا استعمال شروع کر دیا ہے۔ روس نے ایف اے بی-3000 گلائیڈ بم کا استعمال کر یوکرین کے زاپوریژیا خطے کے اوريخيف شہر اور ڈونیٹسک پیپلز ریپبلک کے شچورووا علاقے میں حملے کیے۔ ایک بم میں تقریباً 1.4 ٹن ڈھماکہ خیز مواد ہوتا ہے، جو بہت بڑے علاقے کو تباہ کر سکتا ہے۔ روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ اس سے 63ویں میکانائزڈ بریگیڈ کا عارضی اڈہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔
ایف اے بی-3000 روس کا بھاری وزن والا گلائیڈ بم ہے۔ اس میں 3000 کلوگرام (3 ٹن) وزن ہوتا ہے، جس میں تقریباً 1.4 ٹن انتہائی دھماکہ خیز مواد بھرا ہوتا ہے۔ یہ بم گلائیڈ تکنیک سے لیس ہے، جس کی وجہ سے اسے طیارے سے گرائے جانے کے بعد کئی کلومیٹر تک درست ہدف تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ اس سے پائلٹ کو دشمن کے ایئر ڈیفنس رینج سے باہر رہ کر حملہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔
روسی ایرو اسپیس فورسز (وی کے ایس) ان بموں کا استعمال فرنٹ لائن پر یوکرینی ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے لیے کر رہی ہیں۔ شچورووا اور اوريخيف جیسے علاقوں میں ان حملوں سے یوکرینی فوج کے اڈوں، گولہ-بارود کے ڈپو اور کمانڈ سنٹرز کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔ روسی وزارت دفاع کے مطابق حالیہ دنوں میں ایف اے بی-3000 سمیت دیگر فضائی بموں سے شچورووا (دونیتسک)، اوستینووکا اور بلاگوداتووکا (خارکیف خطہ) میں یوکرینی عارضی اڈوں پر حملے کیے گئے۔ روس کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں سے یوکرینی بریگیڈ کی صلاحیت کافی کم ہو گئی ہے۔ یہ حکمت عملی روس کی ’ڈیپ بیٹل‘ یعنی گہرائی میں جا کر حملہ کرنے کی پالیسی کا حصہ معلوم ہوتی ہے، جس میں فرنٹ لائن سے پیچھے کے علاقوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس سے یوکرینی فوجیوں کو پیچھے ہٹنے یا سپلائی لائن روکنے میں مدد ملتا ہے۔
ایف اے بی-3000 جیسے وزنی بم اس جنگ کو مزید خونی بنا رہے ہیں۔ اس کے ایک بم کا دھماکہ اتنا طاقتور ہوتا ہے کہ آس پاس کے کئی سو میٹر کے علاقے میں سب کچھ تباہ کر سکتا ہے۔ روس کے پاس ایف اے بی-500، ایف اے بی-1500 اور ایف اے بی-3000 جیسے گلائیڈ بموں کا ایک بڑا اسٹکا ہے، جن کا استعمال 2024 اور 2025 کے دوران بہت زیادہ بڑھا ہے۔ یوکرین کے پاس ان وزنی بموں کا جواب دینے کے لیے کافی تعداد میں ایئر ڈیفنس سسٹم موجود نہیں ہے۔ مغربی ممالک کی جانب سے ملنے والی فوجی امداد بھی محدود ہے، جس کا براہ راست فائدہ روس کو فضائی برتری کی شکل میں مل رہا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ روس مسلسل جارحانہ رخ اختیار کیے ہوئے ہے اور اس نے دونیتسک، خارکیف اور زاپوریژیا میں دباؤ برقرار رکھا ہے۔ یوکرین فوجیوں اور گولہ بارود کی کمی سے نبرد آزما ہے۔ مغربی ممالک کی امداد جاری ہے، لیکن اب جنگ کی تھکن بڑھ رہی ہے۔ یہ جنگ یورپ کی سلامتی اور عالمی غذائی تحفظ کو متاثر کر رہی ہے۔ شدید بمباری سے شہریوں کا نقصان بھی ہو رہا ہے۔ عالمی برادری امن کی اپیل کر رہی ہے، لیکن کوئی ٹھوس حل نہیں نکل رہا۔ ایف اے بی-3000 گلائیڈ بم روس کی تباہ کن صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ حملے جنگ کو مزید طویل کھینچ سکتے ہیں۔ فریقین کو بات چیت کے ذریعے حل نکالنا چاہیے، ورنہ انسانی بحران مزید بڑھے گا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔